مولانا سمیع الحق قتل: بیٹے کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جمعیت علما اسلام (سمیع گروپ) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو ان کے آبائی علاقے اکوڑہ خٹک میں اپنے والد کے پہلو میں تدفین کر دی گئی ہے۔ ان کی نماز جنازہ میں مقامی رہنماوں کے علاوہ افغانستان اور دیگر ممالک سے بھی علماء اور قائدین نے شرکت کی ہے۔

مولانا سمیع الحق کو گزشتہ روز نامعلوم افراد نے راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں چھری کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

نماز جنازہ خوشحال خان ڈگری کالج میں ادا کی گئی جہاں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرنے پشاور اور دیگر علاقوں سے آئے تھے۔

مولانا سمیع الحق راولپنڈی میں قتل

مولانا سمیع الحق کون تھے؟

سمیع الحق کے بیان پر سوشل میڈیا میں'کائیں کائیں'

بی بی سی کی نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق آج صبح میت جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں آخری دیدار کے لیے رکھی گئی تھی اور نماز جنازہ کے وقت بھی بڑی تعداد میں لوگ میت کے دیدار کے لیے کوششیں کرتے رہے۔

نماز جنازہ میں شریک ڈاکٹر اسد اللہ اور شیخ ضیا الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق کے قتل کو بہت بڑا سانحہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک مدرس اور مبلغ سے محروم ہوگیا ہے ۔

واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق کو گزشتہ روز شام کے وقت بحریہ ٹاؤن میں واقع ان کے مکان میں نامعلوم افراد نے ہلاک کر دیا تھااور پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بیٹے کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار

تھانہ ایئر پورٹ راولپنڈی میں درج ایف آئی آر کے مطابق مولانا سمیع الحق کے بیٹے حامد الحق نے بتایا کہ وہ جب سفاری ہسپتال پہنچے تو ان کے والد کا جسم زحموں سے چور تھا ۔ پولیس کے مطابق مولانا سمیع الحق کے سینے ، گردن، پیٹ کے اوپر ، ماتھے اور کندھے پر دس سے بارہ زخم تھے۔

پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے حامد الحق نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا تھا اور کہا کہ یہ فیصلہ ان کا اپنا شرعی حق ہے ۔

تھانے میں درج ایف آئی آر میں حامد الحق نے کہا ہے کہ ان کے والد کو اسلام دشمن عناصر نے نشانہ بنایا ہے ۔

اس کے علاوہ مولانا سمیع الحق کے دیرینہ معتمد خاص اور ایک سیکورٹی گارڈ ہمیشہ ساتھ رہتے تھے لیکن جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت ایک ملازم مارکیٹ سے سامان لینے گیا تھا اور دوسرا گھر کے باہر موجود تھا ۔

حملہ آور کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ بحریہ ٹاؤن میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں لیکن پولیس کو اب تک ان کیمروں کی فوٹیج فراہم نہیں کی جاسکی ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مولانا سمیع الحق کا طالبان مذاکرات میں کردار

ماضی میں پاکستان اور افغانستان میں حکومتوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کئی مرتبہ مولانا سمیع الحق کی خدمات حاصل کی تھیں۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے پہلے جب طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا تو اس وقت بھی مولانا سمیع الحق کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

اسی طرح افغانستان کے حکومتی وفود نے بھی متعدد مرتبہ ان سے رابطے کیے تھے ۔ گزشتہ ماہ بھی افغان حکومت کے ایک وفد نے مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی تھے جس میں ان سے امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے درخواست کی گئی تھی۔

مولانا سمیع الحق کون تھے؟

مولانا سمیع الحق کی عمر 80 برس سے زیادہ تھی اور وہ 1988 سے دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ تھے جہاں سے ہزاروں طالبان نے دینی تعلیم حاصل کی ہے۔

وہ مذہبی رہنما مولانا عبدالحق کے صاحبزادے تھے جنھوں نے نوشہرہ کے قریب اکوڑہ خٹک کے مقام پر دارالعلوم حقانیہ کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کا مدرسہ حقانیہ دارالعلوم دیوبند کے بعد دیوبندی مکتہ فکر کا سب سے اہم مدرسہ سمجھا جاتا ہے۔

دارالعلوم حقانیہ کو 1990 کی دہائی میں افغان جہاد کی نرسری تصور کیا جاتا تھا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی مولانا سمیع الحق کے ساتھ روحانی وابستگی ہے۔

ماضی میں ایک بار مولانا سمیع الحق نے مُلا عمر کو اپنے بہترین طالبعلموں میں سے ایک قرار دیا تھا اور انہیں ایک 'فرشتہ نما انسان' کہا تھا۔

وہ جمیعت علما اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ تھے اور دو مرتبہ پاکستان کے ایوانِ بالا کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں