آسیہ بی بی بریت: ہنگامہ آرائی کرنے پر 1800 افراد گرفتار، خادم حسین رضوی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں

وزارت داخلہ کے مطابق مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی توہین مذہب کے مقدمے میں رہائی کے بعد ملک بھر میں مظاہرے کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے نتیجے میں ملک بھر سے 1800 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق جو افراد املاک کو نقصان پہچنانے، لوگوں کو تشدد کا نشنانہ بنانے اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف موت کی سزا کے فیصلے کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لیبک پاکستان کے کارکنوں کی طرف سے ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

معاہدے کے بعد ملک بھر میں دھرنے ختم، حالات معمول پر

یعنی ایسے ہی چلے گا؟

تحریک لبیک کے دھرنے اور مظاہروں میں کیا فرق اور کیا مماثلت

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جن شہروں میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں ان میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، شیخوپور اور کراچی قابل ذکر ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اور اہلکار کے مطابق گرفتار ہونے والے وہ افراد جو صرف مظاہروں میں شریک تھے اور کسی بھی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے میں ملوث نہیں پائے گئے تو ان کے خلاف محض دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معاہدے کے بعد جب لوگ منتشر ہوگئے اور تمام شاہراہیں کھول دی گئیں تو اس کے بعد حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا

مقدمات واپس نہیں لیے جائیں گے

وفاقی دارالحکومت میں گرفتار ہونے والے 120 مظاہرین میں سے 10 افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے اُنھیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فوار چوہدری نے بھی لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ واپس نہیں لیے جائیں گے۔

پولیس افسر ایس پی لیاقت نیازی کے مطابق اب تک پچاس سے زائد ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جا چکا ہے اور ان افراد کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق لاہور، فیصل آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں میں جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے انھیں متعقلہ عدالتوں میں پیش کر کے کچھ کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے جبکہ کچھ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس حکام کو ان افراد کی گرفتاری میں مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ بہت سے ایسے مظاہرین بھی تھے جن کے نام پتے درج نہیں کیے گئے تھے۔

پولیس کو مشکلات

اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے بعد جو لوگ تھانے میں موجود تھے اور جن کے خلاف مقدمات ابھی درج نہیں ہوئے تھے ان کو رہا کر دیا گیا تھا۔ لیکن ان افراد کی رہائی کے تین گھنٹوں کے بعد اعلی حکام کی طرف سے احکامات موصول ہوئے کہ جتنے بھی مظاہرین رہا کیے گئے ہیں اُنھیں دوبارہ گرفتار کیا جائے۔

پولیس اہلکار کے مطابق پولیس حکام کو ان افراد کی گرفتاری میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ بہت سے ایسے مظاہرین بھی تھے جن کے نام پتے بھی درج نہیں کیے گئے تھے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق تحریک لبیک کے ایسے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے صوبائی حکومتوں کے علاوہ عوام سے بھی کہا گیا ہے کہ اگر اُن کے پاس سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی مزید تصاویر ہیں تو وہ وزارت داخلہ کو بھیجی جائیں تاکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں جب اس جماعت کے کارکنوں نے فیض آباد پر دھرنا دیا تھا تو اُس وقت بھی اس جماعت کی قیادت خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت درجنوں افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال نومبر میں فیض آباد پر دھرنے کے بعد جماعت کی قیادت خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت درجنوں افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے

خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف درج ہونے والا مقدمہ استغاثہ کی درخواست پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے داخل دفتر کر دیا تھا۔

استغاثہ کا موقف تھا کہ اس معاملے کی دوبارہ تفتیش ہونی ہے اور جب نیا چالان جمع کروایا جائے گا اس وقت اس مقدمے کی سماعت کی جائے۔

ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل

آسیہ بی بی کی بریت کے بعد تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں ان کی جماعت کی جانب سے تین دن تک ملک بھر میں مظاہروں کے ساتھ ساتھ خادم حسین رضوی کے ٹوئٹر ہینڈل سے سے مسلسل ٹویٹس جاری ہوتی رہیں جس میں پنجاب اسمبلی کے سامنے کارکنان سے دیے گئے خطاب کی ویڈیوز اور پیغامات شامل ہوتے تھے۔

ان ٹویٹس کے جواب میں کئی لوگوں نے شکایت کرتے ہوئے ٹوئٹر کی انتظامیہ اور اس کے بانی سے مطالبہ کیا کہ ان کا اکاؤنٹ بند کیا جائے کہ وہ اس کے ذریعہ ہرزہ آرائی کرتے ہیں اور نفرت پر مبنی پیغامات جاری کرتے ہیں جو کہ ٹوئٹر کی پالیسیوں کے خلاف ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے سکالر اور محقق ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی جانب سے کیے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو جمعہ کے روز حکم دیا کہ خادم حسین رضوی کا اکاؤنٹ بند کیا جائے لیکن وہ حیران ہیں کہ ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔

انھوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدی نے انھیں بتایا کہ ٹوئٹر حکومت پاکستان کی درخواست پر عمل نہیں کر رہا۔

لیکن اتوار کی شام کو ٹوئٹر پر یہ بات سامنے آئی کہ تحریک لبیک کے سربراہ کا اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اتوار کی شام کو ٹوئٹر پر یہ بات سامنے آئی کہ تحریک لبیک کے سربراہ کا اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے

اس حوالے سے مذہبی جماعت کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اس قدم سے ثابت ہو گیا کہ بزدل حکمران دلیل کے آگے نہیں ٹھہر سکتے'۔انھوں نے حکومت کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ خادم حسین رضوی کا ٹوئٹر اکاونٹ بحال کیا جائے۔

پیر اعجازاشرفی نے کہا کہ 'اس طرح کے اوچھے ہتکنڈے ہمیں ہماری منزل سے دور نہیں کر سکتے۔'

اسی بارے میں