عریاں ویب سائٹس پر جانے والے آن لائن فراڈ کا آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عریاں ویب سائٹس کے شوقین افراد کو اکثر ہیکرز بینکنگ فراڈ کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں

کیا آپ کے ساتھ کبھی آن لائن بینکنگ فراڈ ہوا ہے؟ یعنی کسی نے آپ کے ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈز آپ کی اجازت کے بغیر استعمال کیے ہیں؟ اگر آپ کا جواب نہیں میں ہے تو آپ خوش قسمت ہیں یا بہت ذہین۔ کیونکہ ایسی ہی دو طرح کے لوگ ہی آن لائن فراڈ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

دنیا میں ہر روز ہزاروں افراد بینکنگ فراڈ کا شکار بنتے ہیں۔ ان میں سے بعض بینکوں کے نظام سے صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کے باعث اس فراڈ کا نشانہ بنتے ہیں لیکن بڑی تعداد میں ایسے صارفین بھی ہیں جنھیں ہدف بنا کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض صارفین کو کیوں ہدف بنا کر بینکنگ فراڈ کے لیے شکار کیا جاتا ہے؟ یعنی اگر آپ کو بینکنگ فراڈ کے لیے چن لیا گیا ہے تو آپ میں ایسی کیا بات ہے کہ جس نے آن لائن چوروں کو آپ کی طرف متوجہ کیا؟

کم آگاہی رکھنے والے صارف

پاکستان میں بینکنگ فراڈ کے زیادہ تر واقعات اس لیے ہوتے ہیں کہ صارفین خود اپنی خفیہ معلومات چوروں کو فراہم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کرتے بلکہ انجانے میں انہیں یوں کہیں کہ بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ ’میں پولیس یا آئی ایس آئی سے بات کر رہا ہوں۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ نے دہشت گردوں کو پیسے دیے ہیں ہم نے آپ کا اکاؤنٹ چیک کرنا ہے اس لیے اس کی تفصیل فراہم کریں۔‘ کیا ایسی کوئی فون کال آپ کو آئی؟ اگر نہیں تو آپ خوش قسمت ہیں اور اگر آئی لیکن آپ ان کے جھانسے میں نہیں آئے تو ذہین۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی بینکنگ صارفین کا ڈیٹا برائے فروخت؟

پاکستان میں چار سو ارب روپے کی موبائل فون بینکنگ

سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوان

سماجی رابطے کی ویب سائیٹیں اور آپ کا کمپیوٹر اور موبائل فون اپنے صارفین کے بارے میں معلومات کا خزانہ ہیں۔ آپ کہاں کھانا کھاتے ہیں، کن ملکوں میں جا چکے ہیں یا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، کس قسم کی ویب سائٹییں آپ کی پسندیدہ ہیں۔ آن لائن پر کس قسم کی خریداری کرتے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، آپ کی آن لائن ’پروفائل‘ سب بتا دیتی ہے۔ یہ بھی کہ آپ کتنے غیر محتاط ہیں۔ آن لائن چور آپ کے بارے میں ان معلومات کو اکٹھا کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر آپ کا ایک پروفائل بنا کر اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ آپ کی کس کمزوری سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر آپ کو کوئی ہوٹا بہت اچھا اور بہت سستا مل رہا ہے تو ممکن ہے کہ اس میں کوئی چکر ہو اور آپ نہ صرف اپنی رقم بلکہ اپنے کریڈٹ کارڈ کی معلومات بھی انجانے اور شاید مشکوک لوگوں کے حوالے کر رہے ہیں۔

عریاں ویب سائیٹس کے شوقین درمیانی عمر کے مرد حضرات

یہ حضرات آن لائن اپنی مشکوک حرکات کی وجہ سے فوراً ہیکرز کی نظروں میں آ جاتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ ان ویب سائیٹس پر چوری چھپے جاتے ہیں اور اس بارے میں کسی سے بات نہیں کرتے تو انہیں عموماً اندازہ نہیں ہوتا کہ جس عریاں ویب سائٹس کو دیکھنے یا وہاں سے مواد ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے وہ آن لائن پیسے دے رہے ہیں وہ محفوظ ہے بھی کہ نہیں۔ ان حضرات کے لیے مشورہ ہے کہ جوش میں ہوش نہ کھوئیں ورنہ اپنی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے خدشات بہت زیادہ ہیں۔

بیرون ملک سیاحت کرنے والے والے

عام طور پر سیاح جس بھی ملک (یا اپنے ملک کے کسی شہر) کی سیاحت کا ارادہ کرتے ہیں تو سب سے پہلا کام ہوتا ہے آن لائن جا کر مناسب ہوٹلز کی تلاش۔ بات مناسب تک رہے تو ٹھیک لیکن عموماً یہاں تک نہیں رہتی بلکہ سستے تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ اگر آپ کو ایسا کوئی ہوٹل ملتا ہے جو بہت اچھا اور اتنا ہی سستا ہے تو فوراً شک کریں۔ اگر اس معاملے میں کوئی بات ناقابل یقین لگ رہی ہے تو وہاں کچھ گڑبڑ ضرور ہو گی۔ جانچ لیں کہ جس ہوٹل کو آپ سستا اور مناسب ترین سمجھ کر بکنگ کروانے جا رہے ہیں اس پر صارفین کے ریویوز موجود ہیں؟ اس کا ذکر کہیں کسی ایسی جانی پہچانی سیاحتی ویب سائیٹ پر ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو اس میں کوئی چکر ہے اور آپ نہ صرف اپنی رقم بلکہ اپنے کریڈٹ کارڈ کی معلومات بھی انجانے اور شاید مشکوک لوگوں کے حوالے کر رہے ہیں۔

تیر یا تُکا

آن لائن فراڈ کے لیے یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ ہے۔ ہیکرز ہزاروں صارفین کو ایک ہی ای میل بھیجتے ہیں جس میں انہیں کوئی خوشخبری، جیسا کہ لاٹری وغیرہ، یا بہت ہی رعایتی نرخوں پر خریداری کی پیشکش کی جاتی ہے اور اس کے بعد ان سے اسی ای میل میں موجود لنک پر کلک کرنے یا کچھ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ’فشنگ‘ کے نام سے مشہور یہ طریقہ واردات بہت پرانا اور دنیا بھر میں رائج ہے۔ اس بارے میں انٹرنیٹ صارفین میں بہت آگاہی آ چکی ہے لیکن ابھی بھی لوگ اس کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے بچنے کے لیے اپنے کمپیوٹر میں اچھا اینٹی وائرس نظام لگائیں جو اس طرح کی ای میلز کے بارے میں بھی آپ کو خبردار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اسی بارے میں