امید کرتی ہوں کہ آپ سارے مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں: عافیہ صدیقی کا عمران خان کے نام پیغام

ڈاکٹر عافیہ کو جولائی دو ہزار آٹھ میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا رکھنے اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہونا تھا۔ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر عافیہ کو جولائی دو ہزار آٹھ میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا رکھنے اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہونا تھا۔

امریکہ میں قید پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان سے کچھ چیزیں چاہتا ہے اور ان کے عوض وہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لوٹانے کے لیے تیار ہے۔

فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس طرح کے لیے اشارے ملے ہیں تاہم امریکہ کے مبینہ مطالبات کے بارے میں تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملنے سے پہلے بیان نہیں کر سکتیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز کے حالیہ دورہِ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا اور ایلس ویلز نے پاکستانی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اس کے علاوہ پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے جلد اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’عافیہ صدیقی کی موت کی افواہیں مکمل طور پر غلط ہیں‘

’افغانستان میں پیشرفت چاہیے تو امریکہ دوستانہ ماحول رکھے'

عافیہ صدیقی ایک معمہ

عافیہ صدیقی کون ہیں؟

یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو جولائی دو ہزار آٹھ میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہو سکتا تھا۔

حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزاء اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ نے بدحواسی کی کیفیت میں رائفل چھینی اور فائرنگ کی۔ ان کا موقف تھا کہ عافیہ کے اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔

عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔

عافیہ صدیقی کو پاکستان کیسے لایا جا سکتا ہے؟

گذشتہ روز پاکستانی دفترِ خارجہ کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ امریکی شہر ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل وقتاً فوقتاً عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتے ہیں۔ تازہ ترین ملاقات نو اکتوبر کو ہیش آئی جس میں عافیہ صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا کہ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں۔

عافیہ صدیقی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ عمران خان کو اپنے ہیروز میں سے ایک گنا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان تمام مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا کہ جون میں ایک پاکستانی قونصلر کی ملاقات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی جیل حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنا دین بدل لو تو تمھیں فوراً رہا کر دیں گے۔

فوزیہ صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق عافیہ صدیقی کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا جا رہا ہے اور انھیں عبادت بھی نہیں کرنے دی جا رہی۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے تین راستے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ پاکستان اُس عالمی معاہدے کا شریک بن جائے جس میں مجرمان کو اپنے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ پہلے سے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے تاہم پاکستان اس معاہدے کا رکن نہیں۔ اس حوالے سے درکار ایک قانونی نقطہ عافیہ صدیقی کی جانب سے اس منتقلی کی درخواست تھی اور فوزیہ صدیقی کے مطابق عافیہ صدیقی کی جانب سے عمران خان کو پیغام اسے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے نائب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بروس شوارٹس نے ایک خط میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اس معاہدے میں شرکت کر لیتا ہے تو امریکہ عافیہ صدیقی کو واپس بھیجنے کے لیے تیار ہوگا۔ اگرچہ فوزیہ صدیقی کے پاس مذکورہ خط موجود نہیں مگر ان کے مطابق یہ پاکستانی حکام کے پاس موجود ہے۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ کو پاکستان لانے کا دوسرا راستہ امریکہ اور پاکستان کے مذاکرات ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے امریکہ نے مثبت اشارے دیے ہیں تاہم ان کی تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے بعد ہی ظاہر کر سکتی ہیں۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ تیسرا راستہ صدارتی معافی کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے دورِ حکومت میں عافیہ صدیقی کی صدارتی معافی کی تیاری کی جا رہی تھی تاہم پاکستانی حکومت نے بروقت کارروائی نہیں کی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں