ڈیرہ اسماعیل خان: دہشت اور ذہنی کوفت کو ’دفع دور‘ کرنے کے لیے مفت یوگا

yoga

ڈیرہ اسماعیل خان کے مرکزی پارک میں قہقہے لگاتے سینکڑوں افراد لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ہر ایک کا یہی سوال ہے: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ کہیں پاگل یا دیوانے تو نہیں؟

کسی نے بتایا کہ یہ لوگ یوگا کر رہے ہیں اور قہقہے لگانا ’لافٹر تھیرپی‘ ہے۔ یعنی قہقہے لگا کر غم غلط کرنے کی مشق۔

یہ یوگا کیا چیز ہے؟ اس سے بیشتر لوگ نا واقف ہیں۔ لیکن لیکن جوں جوں اس ورزش کے بارے میں لوگوں کو آگاہی بڑھی، یوگا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ میں بھی ہو رہا ہے۔ آج ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک نہیں، پانچ یوگا کلب قائم ہو چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے اس پسماندہ ضلع میں لوگ پرتشدد واقعات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس سال کے گذشتہ دس ماہ میں اس شہر میں 40 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے بھی یہ شہر بری طرح متاثر ہوا ہے اور یہاں متعدد دھماکوں اور خود کش حملوں میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات تو اب معمول بن چکے ہیں۔ عاشورہ کے جلوس پر حملے اور جنازوں پر فائرنگ کے واقعات بھی عام ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اس یوگا کلب میں ہنسنا منع نہیں، ضروری ہے!

مزید پڑھیے

ورزش کرو تو جسم کی چربی کہاں جاتی ہے؟

کتنی ورزش سے دل کی شریانیں صحتمند رہتی ہیں؟

عوام کی ذہنی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ پڑھے لکھے لوگوں نے جب شہر کے حق نواز پارک میں یوگا کلب کا آغاز کیا تو اس وقت اس میں صرف چار افراد شامل تھے۔

یوگا شروع کرنے والوں میں گومل یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکبر نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کی منتیں کرتے تھے کہ آپ آئیں، اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ لیکن اکثر لوگ پوچھتے کہ ’یہ یوگا کیا چیز ہے؟‘

اب لوگوں کو اس کی افادیت کا اندازہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ نئے یوگا کلبز میں چار سے پانچ سو افراد یہ ورزش کرتے ہیں اور اس کی کوئی فیس نہیں ہے۔ لوگ اپنی مرضی سے صبح اور شام کے اوقات میں یہاں دل بہلانے اور ورزش کرنے آتے ہیں۔

یہاں مقامی لوگوں کے علاوہ جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے وہ لوگ بھی یوگا کے لیے آتے ہیں جو فضائی بمباری اور جنگ کے ماحول سے آئے ہیں۔ ان میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو افغانستان کی قندھار جیل میں قید رہا اور وہاں اس پر شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کیا گیا تھا۔

اس شہر سے تعلق رکھنے والے کرنل ریٹائرڈ خالد علی زئی پنجاب کے مختلف شہروں میں یوگا کلبز قائم کر چکے ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی اس کا آغاز انھوں نے ہی کیا ہے۔ ان کے بقول ان کا مقصد ’ہسپتال ویران اور پارک آباد‘ کرنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یوگا سے مختلف بیماریوں کا علاج ہوتا ہے اور ایسے افراد جنھیں مختلف عارضے لاحق تھے، یوگا کی بدولت وہ اب تندرست ہیں۔

اس کلب میں ورزش کرتے ہوئے 73 سالہ ریٹائرڈ استاد اور ماضی کے ہاکی کے کھلاڑی محمد کامل نے بتایا کہ ان کے گھٹنوں اور کندھوں میں شدید درد رہتا تھا، لیکن اس ورزش کے بعد وہ واضح بہتری محسوس کر رہے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں اب پہلی مرتبہ خواتین پارک بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں خواتین یوگا کرتی ہیں۔

خاتون انسٹرکٹر مسز خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ بیشتر خواتین ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ’انھیں ہر لمحہ یہ فکر رہتی ہے کہ بچے کہاں ہیں اور شوہر کی فکر لاحق رہتی ہے۔‘

اس شہر میں خواتین گھروں سے کم ہی باہر نکلتی ہیں، لیکن یوگا کلبز کے قیام سے انھیں ذہنی سکول ملا ہے۔

مسز خالد کے مطابق پہلے ان خواتین کے لیے گھر میں انتظام کیا گیا تھا، جہاں چند ایک خواتین آتی تھیں۔ لیکن اب خواتین پارک میں ان کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

اس شہر کے طویل کشیدہ حالات سے خواتین بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں ایسی خواتین بھی شامل ہیں جن کے گھروں یا محلّوں کوئی نہ کوئی شخص دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔

اس شہر میں نفسیاتی کاؤنسلنگ کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں اور ذہنی آسودگی حاصل کرنے کا کوئی اور طریقہ بھی نہیں۔ شاید اسی لیے یہاں کے لوگوں کے لیے مہنگی دوائیوں کی نسبت یوگا کی مشق زیادہ کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں