ماں پر ’تیزاب پھینکوانے‘ والی بیٹی نکلی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک ماں اور بیٹی پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں جن تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں متاثرہ خاتون کی بیٹی بھی شامل ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے دو دیگر افراد مرد ہیں جن کو گرفتار لڑکی نے اپنی ماں اور بڑی بہن پر مبینہ طور پر تیزاب پھینکنے کے لیے استعمال کیا۔

نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد کی شناخت ارم، اعجاز اور عبداللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ماں اور بیٹی پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ 26 اکتوبر کو بروری روڈ پر پیش آیا تھا۔

اس واقعے میں ماں اور بیٹی دونوں زخمی ہوئی تھیں۔

متاثرہ خاتون نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ ان پر تیزاب اس وقت پھینکا گیا جب وہ ٹیوشن پڑھانے کے بعد واپس گھر آرہی تھیں۔

سریاب پولیس سٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ملزمان سے تفتیش کے دوران جو بات سامنے آئی ہے اس کے مطابق گرفتار ہونے والی لڑکی ارم اعجاز نامی نوجوان سے پسند کی شادی کرنا چاہتی تھیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس کے برعکس ارم کے رشتہ دار اس کی بڑی بہن کرن کی شادی اعجاز سے کرانا چاہتے تھے۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے بڑی بہن کی شادی اعجاز سے رکوانے کے لیے ارم نے بہن پر تیزاب پھینکنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اہلکار کے مطابق اعجاز دوران تفتیش بتایا کہ ارم نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس نے خود کشی کی دھمکی دی تھی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اعجاز نے مبینہ طور پر تیزاب پھینکنے کے لیے اپنے ایک دوست عبد اللہ عرف شارخ کو استعمال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عبداللہ تیزاب پھینکنے کے بعد نوشکی گیا تھا جہاں سے اس کو گرفتار کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق عبداللہ سے ہونے والی تفتیش کی روشنی میں اعجاز اور ارم کو گرفتار کیا گیا۔

بلوچستان میں تیزاب سے حملوں کے زیادہ واقعات آٹھ سے نو سال قبل ہونا شروع ہوئے تھے۔

اگرچہ ان واقعات کی تعداد بہت زیادہ نہیں لیکن ان کے حوالے سے کسی خاتون کی یہ دوسری گرفتاری ہے۔

گزشتہ سال پولیس نے ایک خاتون وکیل کو بھی تیزاب پھینکنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

اسی بارے میں