آسیہ بی بی: کینیڈا کے رابطے کی تصدیق، ’پاکستان آسیہ کے قانونی حقوق کا احترام کرتا ہے'

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آسیہ بی بی کو آٹھ سال کے بعد سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں بری کر دیا

پاکستانی حکام نے آسیہ بی بی کے معاملہ پر کینیڈا کی جانب سے پاکستان سے رابطہ کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ کینیڈا کے وزیر خارجہ نے گذشتہ روز اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کو فون کرتے ہوئے ان سے دیگر معاملات کے علاوہ آسیہ بی بی کے معاملے پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین وزیر خارجہ نے سپریم کورٹ کے جرات مندانہ فیصلے اور وزیر اعظم عمران خان کی مثبت تقریر کی تعریف کی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’آسیہ بی بی اب بھی جیل میں ہیں‘

آسیہ بی بی کو کیوں بری کیا گیا؟

آسیہ بی بی کے شوہر کی مغربی ممالک سے پناہ کی اپیل

ترجمان ڈاکٹر فیصل نے یہ بھی کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے کینیڈین ہم منصب کو بتایا کہ آسیہ بی بی پاکستانی شہری ہیں اور پاکستان ان کے تمام قانونی حقوق کا مکمل احترام کرتا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو پیرس میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ ان کا ملک توہینِ مذہب کے مقدمے سے بری ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو پناہ دینے کے لیے سلسلے میں پاکستان سے بات چیت کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ان کا کہنا تھا کہ 'وہاں داخلی طور پر ایک نازک صورتحال ہے جس کا ہمیں احساس ہے اور اسی لیے میں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ مگر میں لوگوں کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کینیڈا ایک ولکمنگ (استقبال کرنے والا) ملک ہے۔'

ادھر کینیڈا میں حزبِ اختلاف نے بھی ٹروڈو حکومت کی اس سلسلے میں حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔ حزبِ مخالف کی کنزرویٹوو پارٹی نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ 'وہ اپنے اختیار میں موجود ہر طریقہِ کار کا استعمال کرتے ہوئے آسیہ بی بی اور ان کی فیملی کو پناہ فراہم کریں۔'

آسیہ بی بی کون ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ کیسے ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے پاکستان اور بیرونِ ملک مظاہرے کیے گئے تھے

سیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ نورین بی بی پنجاب کے ضلع ننکانہ کے ایک گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی تھیں جو لاہور سے تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔

2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے دوران مبینہ طور پر انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف 'تین توہین آمیز' کلمات کہے تھے۔

جون 2009 میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس میں توہینِ رسالت کے قانون 295 سی کے تحت الزام لگایا گیا۔ 2010 میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنا دی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

آسیہ بی بی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کر دی۔آسیہ بی بی نے جنوری 2015 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

سپریم کورٹ سے بریت اور تحریک لبیک کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے آسیہ بی بی کی بریت کے بعد تین دن تک ملک کے مرکزی شہروں میں مظاہرے کیے

مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے بریت کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو تقریباً تین دن تک جاری رہا اور مظاہرین کے حکومت کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں احتجاج ختم کیا گیا۔

تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور آسیہ بی بی کے مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل پر حکومت اعتراض نہیں کرے گی۔

اس پانچ نکاتی معاہدے کے بعد تحریکِ لبیک پاکستان نے ایک خطاب کے ذریعے ملک بھر میں اپنے احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

آسیہ بی بی کے شوہر کی مغربی ممالک سے پناہ کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسیہ بی بی کے شوہر کے مطابق پاکستان میں جان بچانے کے لیے چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

حکومت کے مظاہرین سے معاہدے کے بعد آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سے پناہ کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں حکومت کے تحریک لبیک سے معاہدے کے بعد ان کے خاندان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

اس سے پہلے توہین رسالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بری کرانے والے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک اپنے خاندان سمیت بیرون ملک روانہ ہو گئے تھے۔

ایک ویڈیو پیغام میں عاشق مسیح نے کہا ہے کہ انھیں اپنے خاندان کی سلامتی کے بارے میں تشویش ہے۔

'میں برطانیہ کے وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری مدد کریں اور جہاں تک ممکن ہو ہمیں آزادی دلائیں۔'

انھوں نے برطانیہ کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا سے بھی مدد مانگی ہے۔

اسی بارے میں