عمران خان: ’یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔

اس کے بارے میں پڑھیے

عمران خان کے استاد

عمران خان کا سفر

عمران خان پر ’یو ٹرن‘ کا الزام کیوں؟

جمعے کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب رہنما نہیں ہوتا اور جو یوٹرن لینا نہیں جانتا، اس سے بڑا بےوقوف لیڈر کوئی نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا بلکہ جھوٹ بولا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان میڈیا پر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہلچل شروع ہوگئی اور ’لغویات نیازی‘ اور ’یو ٹرن‘ جیسی اصلاحات ٹرینڈ کرنے لگیں۔

عمران خان کے اس بیان کے ردعمل میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان نے ہٹلر کی مثال دے کر ثابت کیا کہ وہ بھی ہٹلر ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق خورشید شاہ نے وزیراعظم کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہٹلر آمر تھا اور عمران خان ہٹلر کی مثال دے کر کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی ہٹلر ہیں؟

پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ثانیہ عاشق نے ٹوئٹر پر کہا کہ کیا عمران خان یہ کہنا چاہتے ہیں وہ پاکستان کے واحد رہنما ہیں کیونکہ وہ یو ٹرین لینے میں بہترین ہیں؟

اینکرپرسن منصور علی خان نے بانیِ پاکستان محمد علی جناح سے منسوب اس قول کے ساتھ عمران خان کے حالیہ بیان کی تصاویر شیئر کیں۔

ایک صارف محمد مسعود انور نے لکھا کہ 'گویا آج عمران خان نے یوٹرن کو پاکستانی سیاست میں ایک جائز حکمت عملی کے طور پر متعارف کرا دیا۔ ان کے خیال میں معروضی حقائق تبدیل ہو جائیں تو لیڈر بہتر قومی مفاد میں اپنا فیصلہ بدل سکتا ہے۔‘

احسان اللہ خان نے لکھا کہ 'حیرت ہے ہم سب عمران خان پر ایسے تنقید کر رہے ہیں جیسے وہ حقیقی وزیراعظم ہو اور حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔‘

ایک اور صارف حامد نواب نے لکھا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے ہٹلر اور نپولین کے یوٹرن کا حوالہ دے کر واضح کیا ہے کہ انسان اپنی غلطیوں پہ ڈٹے رہنے سے تباہی کا باعث بنتا ہے۔ ہٹلر اور اس کے حواری اگر اپنی غلطی تسلیم کر کے یو ٹرن لے لیتے تو جنگ عظیم دوئم کے صدمات سے بچا جا سکتا تھا۔‘

اسی بارے میں