آسیہ بی بی کا مستقبل: مفروضے اور سوالات

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی حکومت کے مطابق آسیہ بی بی بریت کے بعد سے ملک میں ایک ’محفوظ مقام‘ پر ہیں

پریس کانفرنس منعقد کرنے کا مقصد اکثر یا تو کوئی بڑا اعلان یا پھر مطالبہ کرنا ہوتا ہے لیکن توہین مذہب کے الزام سے گذشتہ دنوں رہا ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک ایڈووکٹ کی جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں اخباری کانفرنس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

سیف الملوک کا کہنا تھا کہ جرمن حکومت کو آسیہ بی بی کے خاندان کو شہریت دے دینی چاہیے تاکہ وہ پاکستان سے بیرون ملک جا سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال آسیہ بی بی آزاد ہیں لیکن انھیں ملک چھوڑنے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر کو اپنے فیصلے میں آسیہ بی بی پر عائد الزامات کے خلاف گواہوں کے بیانات میں تضاد کو ایک وجہ بتاتے ہوئے انھیں بےقصور قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سکاٹ لینڈ: مسیحی رہنماؤں کی آسیہ بی بی کو پناہ دینے کی اپیل

آسیہ بی بی بریت: ہنگامہ آرائی پر 1800 افراد گرفتار

تحریک لبیک کے دھرنے اور مظاہروں میں کیا فرق اور کیا مماثلت

اس فیصلے کے خلاف تحریک لبیک کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور ریاست اور ریاستی اداروں کو دھمکیاں دیں کہ اگر وہ ملک سے چلی گئیں تو اس کا شدید ردعمل ہوگا۔

سیف الملوک کی اخباری کانفرنس سے پہلا سوال تو یہ اٹھتا ہے کہ کیا حکومت پاکستان نے آسیہ بی بی کو ان کا پاسپورٹ ابھی تک جاری نہیں کیا ہے؟ کیا کوئی حکومت بظاہر کسی وجہ کے نہ ہوتے ہوئے کسی کا پاسپورٹ روک سکتی ہے؟

آسیہ بی بی کی رہائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل سماعت کا ابھی آغاز نہیں ہوا ہے۔

قانونی ماہرین کے خیال میں انھیں ان کی خواہش کے برخلاف ملک میں زبردستی رکھنے یا انہیں پاسپورٹ جاری کرنے سے نہیں روک سکتی ہے۔ تو پھر وکیل صفائی کو جرمنی سے یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

قانونی اور سفری دستاویزات کے حوالے سے ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت پاکستان کسی بھی شہری کا پسپورٹ اور شناختی کارڈ صرف اسی صورت میں بلاک کر سکتی ہے یا بننے سے روک سکتی ہے جب وہ کسی عدالت کو مطلوب یا دوسرے لفظوں میں مفرور ہو یا وفاقی حکومت اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کے خلاف جو مقدمہ تھا اس سے وہ سے بری ہو چکی ہیں اور ان پر بظاہر ایسی کوئی پابندی موجود نہیں کہ انھیں پاسپورٹ کے حصول میں کوئی رکاوٹ ہو۔

اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا آیا آسیہ بی بی حکومت کی حفاظتی تحویل میں ہیں اور کیا وہ اپنی مرضی سے بیرون ملک نہیں جا سکتیں؟

اس بارے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے اور حال ہی میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ آسیہ بی بی پاکستانی شہری ہیں اور پاکستان ان کے تمام قانونی حقوق کا مکمل احترام کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیف الملوک کی اخباری کانفرنس سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا حکومت پاکستان نے آسیہ بی بی کو ان کا پاسپورٹ ابھی تک جاری نہیں کیا ہے؟

تاہم اس کے بعد ان کا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ آسیہ بی بی بری تو ہو گئی ہیں لیکن 'نظر ثانی اپیل کی وجہ سے ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتیں۔'

آسیہ کے وکیل سیف الملوک کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ بیرون ملک سفر کے لیے آپ کے پاس ایک تو پاسپورٹ ہونا چاہیے اور پھر ویزا۔ مغربی دنیا خصوصاً کینیڈا تو پہلے ہی حکومت پاکستان کے ساتھ اس معاملے پر رابطے میں ہے۔

اس صورتحال میں ویزا تو مشکل نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے آسیہ کے پاس پاکستانی پاسپورٹ یقیناً ہونا چاہیے جو کہ وکیل صفائی کی باتوں سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس نہیں ہے۔

سیف الملوک کا مزید کہنا تھا کہ اگر جرمن حکومت انھیں شہریت یا پاسپورٹ دے دیتی ہے تو پھر ان کو ملک چھوڑنے سے کوئی انہیں ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں روک سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے شک کا اظہار کیا کہ اندرونی دباؤ کی وجہ سے حکومت پاکستان انھیں ملک سے باہر جانے نہیں دے رہی ہے۔

پاسپورٹ یا شہریت کی بحث کے علاوہ ایک راستہ آسیہ بی بی کے پاس سیاسی پناہ لینے کا بھی ہے۔

یہ پناہ ایک ملک کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے والے کسی ایسے شخص کو دے سکتا ہے جسے اپنے ملک میں شدید خطرات درپیش ہوں۔

سیف الملوک کے بیان سے اس بات کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ سیاسی پناہ ہی آسیہ کو ایک ’محفوظ‘ ملک پہنچا سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں