حضرت عیسیٰ پر عمران خان کا بیان، سوشل میڈیا پر بحث

عمران خان
،تصویر کا کیپشن

اس تقریر کے بعد وزیراعظم بیرونی دورے پر چلے گئے تاہم ان کی یا ان کے دفتر کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز اسلام آباد میں انٹرنیشنل رحمۃ اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'باقی پیغمبر اللہ کے آئے لیکن انسانی تاریخ میں اُن کا ذکر ہی نہیں ہے۔ بڑا کم ذکر ہے۔ حضرت موسیٰ کا ہے مگر حضرت عیسیٰ کا تاریخ میں ذکر نہیں ہے۔'

عمران خان نے اپنی تقریر میں ریاستِ مدینہ کی تعریف اور خدوخال پر بات کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ کا ذکر ضمنی طور پر کیا۔ لیکن اُن کی طویل تقریر کا یہی چند سیکنڈ کا حصہ موضوع بحث بن گیا۔

اس تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر عمران خان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جس میں بعض حلقے تو انتہائی سخت الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

مبشر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا 'تاریخ ہی دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے BC یعنی قبل مسیح اور AD یعنی حضرت عیسیِ کی پیدائش سے لے کر اب تک اور مولوی جن کا اب تک آسمان سے اترنے کا انتظار کر رہے ہیں اور بقول عمران خان کے جن کا تاریخ میں ذکر ہی نہیں ہے۔'

جہاں ان کی تقریر میں الفاظ کے استعمال پر تنقید کی گئی وہیں بہت سے لوگوں نے کہا کہ عمران خان اتنے حساس معاملے پر فی البدیہی تقریر کیوں کرتے ہیں اور لکھی ہوئی تقریر کیوں نہیں پڑھتے؟

آصف چوہدری نے لکھا 'عمران خان کو چاہیے کہ ضد چھوڑیں اور لکھی تقریر کیا کریں ایک ایسے نبی جن کے پیروکار اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن میں سورتیں اتریں۔ جن کے دوبارہ ظہور کا مسلمان انتظار کر رہے ہے۔ اس نبی یعنی حضرت عیسیٰ کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ تاریخ میں اُن کا ذکر ہی نہی۔'

اور یو ٹرن کے بیان کے بعد اٹھنے والے طوفان اور پی ٹی آئی کے حامیوں اور چند صحافیوں کی جانب سے اس کی وضاحتوں کے بعد طلعت حسین نے سوال کیا کہ 'اب دیکھتے ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم کے ایک اور تاریخی دعوے پر حکومتی نمائندگان کیا روشنی ڈالتے ہیں۔'

کچھ لوگوں نے پیغمبر موسیٰ کا نام لینے اور پیغمبر عیسیٰ کا نام لینے کے بارے میں ایک صارف نے لکھا کہ 'عمران کے بیان سے یہودی خوش ہوں گے ہی پر ساری دنیا میں حضرت عیسیٰ کے ماننے والوں کی دل آزاری ہوئی ہے لہذا عمران خان کو اپنے بیان پر اُن سے معافی مانگنی چاہیے ایک طبقے کی خوشی کے لیے دوسرے طبقے کی دل آزاری کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔'

جبکہ فیصل رضوان نے لکھا کہ 'یہ سارے تاریخ دان کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے حالاتِ زندگی مصدقہ انداز سے محفوظ نہیں کئے جا سکے۔ موجودہ عیسائیت جس شکل میں ہے اس کا بانی بھی ان کی بجائے سینٹ پال کو سمجھا جاتا ہے۔ شاید یہی بات کرنا چاہ رہا ہے عمران خان۔'

خرم ملک نے لکھا 'پلیز آکسفورڈ کے لوگوں کو اپنے اوپر ہنسنے مت دیں۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں 'تاریخ میں بیان کیے گئے عیسیٰ' بمقابل 'بائبل میں بیان کیے گئے عیسیٰ' کے معاملے پر بات کی ہے۔ یہ ایک دانشورانہ اور علمی بحث ہے۔ کم از کم اپنے آپ کو احمق ثابت کرنے سے قبل بندہ اس معاملے پر گوگل ہی کر لیتا ہے۔'