عمران خان کی حکومت کے 100 دن، کیا کھویا کیا پایا

عمران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں گذشتہ حکومت کے دوران اٹھنے والی سونامی کی لہر یعنی تحریک انصاف کو اب حکومت میں آئے تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں کئی ایسے اعلانات اور بیانات سامنے آئے جو کہ نہ صرف متنازع رہے بلکہ ان پر حکومت کو موقف تبدیل بھی کرنا پڑا۔

بلکہ حکومت کی جانب سے پالیسیوں پر مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے جب تنقید بڑھی تو وزیراعظم عمران خان کو یہاں تک کہنا پڑا کہ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا۔

تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سو دن پورے ہونے پر ہم نظر ڈالیں گے ایسے ہی بیانات اور اعلانات پر جس کے نتیجے میں حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس کو دفاعی پوزیشن لینا پڑی۔

معاشی خود انحصاری اور آئی ایم ایف

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے عوام سے وعدے کرنا اور ملک کے بارے میں ایک تابناک تصویر پیش کرنا ہمیشہ سے ایک آسان نسخہ رہا ہے جس میں معاشی خود انحصاری شاید ہمیشہ سرفہرست رہتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار میں آنے سے پہلے ماضی کی حکومتوں کے عالمی مالیاتی اداروں بلخصوص آئی ایم ایف کے پاس جانے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور جوش خطابت میں یہ تک کہہ ڈالا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر وہ خودکشی کرنے کو ترجیح دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف کی سربراہ کریسٹین لیگارڈ نے قرضے کے لیے درخواست دی

لیکن شاید حکومت میں آنے سے ترجیحات بدل جاتی ہیں چاہے اس کو مجبوری کہا جائے یا کچھ اور۔۔۔ ایسا ہی تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ہوا اور آہستہ آہستہ ملک کی پتلی معاشی صورتحال کے بارے میں میڈیا کو بتایا جانے لگا۔

تاہم اس دوران بھی عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوالات کو ٹالا گیا اور توجہ وزیراعظم ہاؤس میں کھڑی گاڑیوں اور وہاں بھینسوں کی نیلامی پر مرکوز رکھی۔

لیکن چند کروڑ میں گاڑیوں اور چند لاکھ میں نیلام ہونے والی بھینس ملک کے اوپر منڈلاتے معاشی بحران کو ٹال نہیں سکیں تو حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا اعلان کر ہی دیا گیا۔

اس پر وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو جہاں حزب اختلاف کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہیں سوشل میڈیا پر ان کے آئی ایم ایف مخالف کلپس کو شائع کر کر ان کو وعدہ خلافی کا احساس دلایا گیا۔

شاید اسی وجہ سے وزیراعظم کو کہنا پڑا کہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کا بوجھ آتے ہی ہمیں ملا اور اگر فوری طور پر قرضہ نہ لیتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑنا تھا۔

اس سے ملتی جلتی لائنز ہی عوام کو ہی آنے والے وزیراعظم کے منہ سے سننے کو ملتی ہیں۔۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سی پیک منصوبے پر تنازعات

اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان کی جانب سے سی پیک منصوبے کے بارے میں ملے جلے اشارے ملے اور جہاں ماضی کی حکومت اور فوج اس کو گیم چینجر کا نام دے رہی تھی وہیں تحریک انصاف کی جانب سے اس منصوبے کے بارے میں کوئی واضح پالیسی نہیں تھی۔

تاہم تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد سی پیک کے بارے میں پالیسی کچھ واضح ہوئی جس میں حکومتی وزرا کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جس میں عندیہ دیا گیا کہ حکومت سی پیک معاہدے کے تحت شروع کیے جانے والے منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لے گی۔

یہاں یہ تاثر پیدا شروع ہوا کہ حکومت اس منصوبے کو اپنی شرائط کے مطابق چین سے دوبارہ معاملات طے کرنا چاہتی ہے۔

تاہم اس معاملے نے متنازع رخ اس وقت اختیار کیا جب ستمبر کے اوائل میں ابھی چینی وزیر پاکستان کے دورے پر ہی تھے کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے کامرس، ٹیکسٹائل، انڈسٹری اینڈ سرمایہ کاری رزاق داؤد نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ' پچھلی حکومت نے سی پیک پر چین سے بات چیت میں بری کارکردگی دکھائی۔ انھوں نے اپنا ہوم ورک یا کام ٹھیک طرح سے نہیں کیا اور بات چیت ٹھیک طرح سے نہیں کی۔۔۔ تو انھوں نے بہت کچھ دے دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس انٹرویو پر ملک میں خوب ہنگامہ ہوا اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا پڑا اور اس کے بعد نہ صرف مذکورہ وزیر کو وضاحت دینا پڑی بلکہ دفتر خارجہ کی جانب سے بیانات جاری ہوئے تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

شاید اسی وجہ سے اس انٹرویو کے منظر عام پر آنے کے اگلے ہی دن پاکستان میں چینی سفیر کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ملاقات ہوئی اور اس کے چند دن بعد آرمی چیف چین کے دورہ پر بھی گئے اور بعد میں وزیراعظم عمران خان نومبر میں چین کے پانچ روزہ دورے پر بھی گئے لیکن اس دورے سے حاصل ہونے والے نتائج سے یہ نتیجہ آسانی سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سی پیک معاہدے پر موجودہ حکومت اور چین کے درمیان کہیں نہ کہیں سرد مہری کا عنصر غالب رہا۔

سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا کہ رزاق داؤد نے سی پیک کے بارے میں جو بیان دیا اس کا ان کے خیال میں اچھا خاصا نقصان ہوا ہے اگرچہ چین نے اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہا لیکن موجودہ حالات میں اگر کوئی زیادہ مدد کر سکتا تھا وہ چین ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دوسری غلطی یہ کی رزاق داؤ کو دورۂ چین میں ساتھ لے کر چلے گئے جس کا بھی نقصان ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM OFFICE

سعوی عرب کی سی پیک میں انٹری اور ایگزٹ

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا اور وہاں سے واپسی پر اعلان کیا گیا کہ سعودی عرب اب سی پیک کا تیسرا شراکت دار ہو گا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 'سی پیک میں اب ہمارا تیسرا سٹریٹیجک یا اقتصادی پاٹنر جو ہو گا وہ سعودی عرب ہو گا۔‘

حکومت کی جانب سے اچانک کیے گئے اعلان پر نہ صرف پارلیمان میں اسے آڑے ہاتھوں لیا گیا بلکہ سوالات اٹھائے جانے لگے کہ آیا چین کو اس پیش رفت سے آگاہ کیا گیا کہ نہیں۔۔۔ تاہم حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا اور نہ ہی چین کی جانب سے پذیرائی کا کوئی عندیہ دیا گیا۔

ایوان بالا میں جب سعودی شراکت داری پر شور بلند سے بلند ہوتا گیا اور اسی ماحول میں سعودی عرب کا ایک وفد پاکستان بھی پہنچا اور اس نے گودار کا دورہ بھی کیا لیکن اس دورے سے فوری کوئی نتیجہ نہیں نکلا بلکہ حکومت کی جانب سے نیا موقف سامنے آیا جس میں تکنیکی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے پہلے تو پوزیشن کو بدلا گیا کہ سعودی عرب سی پیک فریم ورک کا حصہ نہیں ہو گا اور وضاحت دی کہ سعودی عرب مخصوص منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے اور پاکستان اور چین سے اس ضمن میں علیحدہ سے معاہدے کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ World Economic Forum
Image caption حکومت نے اس سے قبل عاطف میاں کی تقرری کی مخالفت کرنے والوں کو انتھاپسند قرار دیا تھا

عاطف میاں ان اور آؤٹ

وزیراعظم عمران خان پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا عزم متعدد بار دہرا چکے ہیں جس میں ان کے مطابق تمام فرقوں اور مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور مواقعوں کو یقینی بنایا جائے گا۔

لیکن نعرے کو حقیقت میں تبدیل کرنا ایک ایسے پاکستان میں مشکل فیصلہ ہو جاتا ہے جب گذشتہ کئی دہائیوں سے عدم برداشت اور مذہبی شدت پسندی کا ماحول پنپ رہا ہو۔

ایسا ہی ہوا جب ملک کی ابتر معاشی حالت کو سدھارنے کے لیے دنیا سے بہترین ماہرین کو جمع کرنے کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ماہر معاشیات عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا۔

ابھی ان کی تقرری ہوئی ہی تھی ملک میں چند مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ عاطف میاں کا تعلق اقلیتی احمدی برادری سے تھا۔

حکومت کی جانب سے اس تنقید کو سختی سے مسترد کیا گیا تو اس کو پذیرائی بھی حاصل ہوئی کیونکہ مذہبی شدت پسندی کے سامنے کس نے ٹھوس موقف اپنایا تھا۔ اس معاملے میں وفاقی وزیر اطلاعات کی فیصلے کے حق میں دھواں دار تقریر بھی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'کیا پاکستان میں اقلیتوں کے کسی کردار کے اوپر پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ کیا پاکستان میں جو اقلیتیں ہیں انھیں اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہیے۔‘

لیکن اس تقریر کے شائع ہونے والی خبروں کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی کی رکنیت سے ہٹانے کا اعلان کر دیا۔

اس فیصلے پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ اس نے شدت پسند عناصر کے سامنے ہار مان لی لیکن حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو بھی سیاسی الفظ میں’ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچانا‘ اور عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا سہارا لیا اور یہ ایشو میڈیا پر چند دن رہنے کے بعد آہستہ آہستہ غائب ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال نومبر میں فیض آباد پر دھرنے کے بعد جماعت کی قیادت خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت درجنوں افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے

آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف مظاہرین کو ’تنبیہاور پھر مصالحتی پالیسی‘

مذہبی عدم برداشت کا ایک اور معاملہ اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے پہلے تو سختی سے ایک موقف اپنایا اور پھر موقف سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا جس پر خوب تنقید کی گئی اور یہ معاملہ تاحال کسی نہ کسی صورت میں میڈیا پر موجود ہے اور حکومت کی’ مصالحتی پالیسی‘ پر بات کی جاتی ہے۔

توہینِ رسالت کے الزام میں سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے بریت کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اس دوران نہ صرف چند مقامات پر توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے بلکہ ان مظاہروں کی قیادت کرنے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کی جانب سے ملک کی اعلیٰ عدلیہ اور فوجی قیادت کے خلاف’ توہین اور حقارت آمیز‘ الفاظ کا استعمال کیے گئے۔

بات زیادہ بڑھی تو وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی پر آ کر قوم سے خطاب میں احتجاج کرنے والی کو سخت الفظ میں تنبیہ کی اور کہا کہ'ریاست سے نہ ٹکرائیں۔ اپنی سیاست اور ووٹ بینک کے چکر میں ملک کے خلاف کام نہ کریں۔ ریاست کو مجبور نہ کریں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معاہدے کے بعد جب لوگ منتشر ہوگئے اور تمام شاہراہیں کھول دی گئیں تو اس کے بعد حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا

وزیراعظم کے اعلان کی خوب پذیرائی ہوئی لیکن احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ہے اور اسی دوران وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر چلے گئے اور پیچھے ملک میں حکومت کے پاؤں سرکنے لگے اور آہستہ آہستہ مفاہمتی رویہ اپنایا جانے لگا۔

تین دن کے احتجاج کے بعد رات گئے مظاہرین اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا گیا جس میں آسیہ بی بی کے مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل پر حکومت اعتراض نہیں کرے گی جیسی شرط شامل تھی لیکن یہ شرائط بھی شامل تھیں جس میں کہا گیا کہ مظاہروں کے دوران جو گرفتاریاں ہوئی ہیں اُن افراد کو فوری رہا کیا جائے گا۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔

اس معاہدے کے بعد ملک میں حالات ممعول پر تو آ گئے لیکن حکومت کو اپنا دفاع کرنے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑی اور دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ توڑ پھوڑ کرنے والے افراد کی نشاندہی کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا لیکن پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ رہا ہے کہ مظاہرین کی قیادت کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا؟

ڈی پی او پاکپتن اور آئی جی اسلام آباد کے تبادلے پر تنازع

حکومت میں آنے سے پہلے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت جماعت کی دیگر قیادت نے جہاں صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس کے نظام میں اصلاحات اور اس میں سیاسی مداخلت نہ ہونے کے کارنامے کی خوب تشہیر کی وہیں خاص کر صوبہ پنجاب کے محکمۂ پولیس میں سیاسی مداخلت کے الزامات لگائے جاتے رہے۔

لیکن تحریک انصاف کے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کے کچھ دنوں بعد ہی پنجاب کے جنوبی ضلع پاکپتن کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر رضوان گوندل کے تبادلے پر تنازع پیدا ہوا اور بات بڑھتے بڑھتے سپریم کورٹ تک جا پہنچی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیتے ہوئے بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا کی بیٹی سے پولیس اہلکاروں کی مبینہ بدتمیزی اور پولیس حکام کے تبادلوں میں سیاسی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی اور بعد میں وزیر اعلٰیٰ عثمان بزدار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور غیر مشروط معافی مانگی اور عدالت کو یہ بھی کہنا پڑا کہ سوال تو یہ ہے کہ کیا وزیرِ اعلیٰ پنجاب اس بات پر نااہل ہو سکتے ہیں؟

ابھی یہ معاملہ عدالتِ عظمی میں ہی تھا ک پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے چیئرمین ناصر درانی نے استعفیٰ دے دیا۔

ناصر درانی ہی خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ تھے جن کے دور میں تحریک انصاف کی حکومت نے پولیس کو ’غیر سیاسی‘ بنایا۔

اسی دوران حکومت نے آئی جی پنجاب طاہر خان کو تقرری کے کچھ عرصے بعد ہی تبدیل کر کے امجد جاوید سلیمی کو پنجاب پولیس کا نیا آئی جی تعینات کیا تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی جی پنجاب پولیس کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا لیکن ضمنی انتخابات کے بعد امجد جاوید سلیمی کو ہی آئی جی مقرر کیا گیا۔

پنجاب پولیس میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں اور ناصر درانی کے استعفے پر تحریک انصاف کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن حکومت نے امجد جاوید سلیمی کو زیادہ بہتر چوائس قرار دے کر اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔

ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے تبادلے کے زبانی احکامات کا تنازع اٹھ کھڑا ہوا اور اس معاملے نے سپریم کورٹ کی توجہ حاصل کی اور چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے احکامات کو منسوخ کر دیا اور ساتھ میں ان کی جانب سے یہ ریماکس بھی دیے گئے کہ:

’یہ ہے وہ نیا پاکستان جس کے دعوے موجودہ حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کر رہی تھی‘

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کا کام نہ کرنے اور ان کا فون نہ سننے کی وجہ سے آئی جی اسلام آباد جان محمد کو تبدیل کردیا تھا۔

اب بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AUGUSTA WESTLAND

ہیلی کاپٹر سستا یا گاڑی کا سفر

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار میں آنے سے پہلے اعلیٰ حکومتی شخصیات کی مبینہ شاہ خرچیوں کا تذکرہ اکثر کرتے اور اس کو ملک کی ابتر معاشی صورتحال سے جڑتے۔

حکومت میں آنے کے بعد انھوں نے کفایت شعاری کے تحت جہاں وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہنے کو ترجیح دی بلکہ بنی گالہ سے اپنے دفتر آنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال شروع کیا تو ایک طوفان برپا ہو گیا کہ یہ کیسی کفایت شعاری ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں بڑی آبادی کو معیاری ٹرانسپورٹ سہولیات دستیاب نہیں ہیلی کاپٹر کے استعمال پر ان کی خاصی دلچسپی پیدا ہوئی اور حزب اختلاف نے اسے غیر ضروری خرچہ قرار دیا تو وزیرِاطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں اس میں وضاحت کی تو بات مزید بگڑ گئی بلکہ لوگوں کے لیے تفریح کا باعث بن گئی کیونکہ مذکورہ وزیر کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے اس سفر پر ’خرچ 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر ہے۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’ہیلی کاپٹر پچاس روپے کلو'

بنی گالہ تک وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کا کتنا خرچ؟

اس پر حزب اختلاف تو اپنی جگہ سوشل میڈیا پر اس بیان کا وہ حال کیا گیا کہ گدھا گاڑی کو بھی ہیلی کاپٹر کے روپ میں پیش کیا گیا۔

سرکاری جہاز پر غیر ملکی دورے

وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی غیر ملکی دورہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے ہو سکتا تھا تاہم انھوں نے اعلان کیا کہ وہ چھ ماہ تک غیر ملکی دورے نہیں کریں گے اور ان کی توجہ ملکی مسائل کو سمجھنے پر ہے۔

تاہم ان کا یہ اعلان بھی دیگر اعلانات کی طرح یو ٹرن کا شکار ہوا اور اب تک وہ نصف درجن کے قریب غیر ملکی دوروں پر جا چکے ہیں۔

اس کے ساتھ ایک اعلان جو بعد زیادہ متنازع بنا وہ غیر ملکی دوروں کے لیے نجی پرواز کا انتخاب تھا نہ سرکاری جہاز جس پر خرچ زیادہ آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption عمران خان سرکاری دوروں کے لیے سرکاری جہاز استعمال کر رہے ہیں

عمران خان نے وزارتِ اعظمی کا منصب سنبھالنے کے چند ہفتوں بعد پہلے سرکاری دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا جس پر زیادہ تنقید تو نہیں ہوئی لیکن ان کو سعودی عرب لیے جانے والی سرکاری جہاز کی خوب تشہیر ہوئی اور عمران خان پر پھر یوٹرن لینے کا الزام لگا۔

دیگر تنازعات

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عام انتخابات سے پہلے بھی اعلان کیا گیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز اور وزیراعظم ہاؤس کو عوام کے لیے کھول دیں گے اور ان پرتعش عمارتوں کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

اقتدار میں آنے کے بعد اس عزم کو دہرایا گیا تاہم ابھی تک ان عمارتوں کے باغ باغیچوں کو ہی یا مختصر حصوں کو عوام کے لیے کھولا گیا ہے اور مزید پیش رفت نہیں ہو سکی۔

حکومت کی اس نیم کوشش پر بھی آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے اور اس پر دباؤ ہے کہ وہ وعدے پر پوری طرح سے عمل درآمد کرے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان یہ کہتے ہیں کہ وہ 22 برس تک پاکستان اور اس کے مسائل کے بارے میں سوچتے رہے تو انھوں نے کچھ تو سوچا ہو گا لیکن اس حوالے سے پالیسیاں سامنے نہیں آئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک صرف کرپشن پر ہی بات کی جا رہی ہے لیکن اس بنیاد پر آگے کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان نے ابھی تک اپنی پالیسی کو زیادہ واضح نہیں کیا۔ اگرچہ ماضی کی حکومتوں پر تنقید کرنا ان کا حق ہے لیکن اس سے آگے نہیں بڑھا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 2018 سے پہلے ملک میں نو عام انتخابات ہو چکے ہیں اور ان انتخابات سے پہلے کیے گئے وعدوں میں سے زیادہ تر کبھی پورے نہیں ہوتے اور اب بھی ایسی ہی کیفیت ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی جانب سے کوئی واضح سمت نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں وزیراعظم ان احساسات کا اظہار کیا ہے کہ ان کے پاس آگے بڑھنے کا کیا لائحہ عمل ہے۔

اسی بارے میں