فہمیدہ ریاض: جن کے لفظ بادشاہوں کے محلوں کے مینار ہلا دیتے تھے

Image caption جب فہمیدہ ریاض کا ادبی سفر شروع ہوا تو ملک پر مارشل لاء کے کالے بادل چھائے ہوئے تھے

فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1942 کو پیدا ہوئیں ایک پر ہنگام زندگی بپا کر کے ایک مختصر علالت کے بعد 22 نومبر 2018 کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔ باقی بس اللہ

زندگی گزارنے کی بجائے زندگی بپا کرنے کی ترکیب میں نے جان بوجھ کر لکھی۔ فہمیدہ آپا نے زندگی گزاری نہیں ، بپا کئے رکھی۔

اردو لغت انٹرنیٹ اور موبائل ایپ پر

بہتر سال کے اس وقفے میں روشن آنکھوں ،کھڑی ناک اور گھنگریالے بالوں والی اس عورت نے دنیا کو ناکوں چنے چبوائے رکھے۔ یہ عورت نہ کوئی مجاہد تھی ،نہ کسی بڑی طاقت کی جاسوس ، نہ اس کے پاس تیر تھے نہ تفنگ۔

آپ کے میرے جیسے دو ہاتھ ، دو پاوں اور دس انگلیاں، جن میں سے تین انگلیوں میں قلم پکڑ کے وہ لکھتی چلی جاتی تھی اور اس کے لفظوں کے تیزاب سے بڑی بڑی مونچھوں والے مردوں اور مال ومنال والے بادشاہوں کے محلوں کے مینار گلنا شروع ہو جاتے تھے اور ان کے رعب کی جعلی دیواروں میں ایسی دراڑیں پڑتی تھیں کہ وہ کچکچا کے اس عورت پہ حملہ آور ہوتے تھے۔

’ویڈیو: ’میں عورتوں کے حقوق کی علمبردار شاعرہ ہوں‘

فہمیدہ ریاض کا ادبی سفر شروع ہوا تو ملک پر مارشل لاء کے کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔

فہمیدہ کو لکھنا تھا ،وہ سب جو وہ محسوس کرتی تھی ۔

وہ مناظر جو عام نظر سے پوشیدہ تھے مگر اس کی سیاہ آنکھ کی پتلی انہیں پردوں میں بھی بھانپ لیا کرتی تھی۔ وہ انسانوں کے باطن سے اٹھتی اس سڑاند کو سونگھ لیا کرتی تھی جسے چھپانے کو سرزمین حجاز کے تمام خوشبوئیں بھی ناکافی تھیں۔

اس کی حد سے بڑھی ہوئی بصارت خون کے ان دھبوں کو بھانپ لیا کرتی تھی جو آستینوں پہ سوکھ کے کتھے کے سے بھورے داغ بن جاتے ہیں ۔ ان صلاحیتوں کا فرد ، منافقوں کے معاشرے میں کب قبول کیا جا تا ہے؟ اس کے لفظوں کی طاقت ،اس کی نظموں کا آہنگ، اس کے لہجے کی تپک سہی نہ گئی۔ اس پہ فحاشی کا الزام لگا ۔

ذرا ایک نظم پڑھ لیجئے، میں نہیں جانتی کہ اسی نظم پہ اعتراض اٹھا یا کسی اور پہ کیونکہ میں فہمیدہ کے ایک لفظ کو دوسرے سے کبھی جدا کر کے نہ پڑھ پائی۔

سارا کلام ایک ہمالیہ سا ہے جس کے سائے میں کئی بونے تلملاتے پھرتے تھے ۔

خیر نظم دیکھئیے ۔

کولھوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہے

سر میں بھی ہے جستجو کا جوہر

تھا پارۂ دل بھی زیر پستاں

لیکن مرا مول ہے جو ان پر

گھبرا کے نہ یوں گریز پا ہو

پیمائش میری ختم ہو جب

اپنا بھی کوئی عضو ناپو!

فہمیدہ ریاض کے تعاقب میں آمر اپنا خاکی کوڑا لئے دوڑا تو اسے ہندوستان میں سیاسی پناہ لینا پڑی ۔ ایسی جبری جلا وطنیاں، بڑے بڑے فولادی مردوں کو پگھلا دیتی ہیں۔ مگر سندھ کی بھوری مٹی سے بنی یہ عورت اپنی ناک اونچی کئے برابر جئیے گئی۔

فہمیدہ آپا سے اپنی آخری ملاقات مجھے کبھی نہیں بھولے گی۔ یہ ہی دن تھے ۔ رات کی رانی کی خوشبو کھلی کھڑکی سے اندر گھس کر غدر مچائے ہوئے تھے اور فہمیدہ آپا نے ہمیں اپنی نظمیں سنائیں۔

رات گئے انہیں رضا رومی کے گھر چھوڑنے گئے تو مکان ہی نہ ملے۔ گھنٹے بھر کی تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ جس گھر کے سامنے کھڑے ہیں وہی تو ہے۔

ہوا یہ تھا کی دیوار پہ چڑھی آئی وی کی بیل نے تین کے ہندسے کو بڑی فنکاری سے آٹھ بنا دیا تھا۔ فہمیدہ آپا تلملا کے گاڑی سے نکلیں اور پرس سے جیبی قینچی نکال کر اس بیل کی زائد پتیوں کو کترنے لگیں۔ اس سرد رات میں میں انہیں اس حد سے بڑھ جانے والی بیل سے برسر پیکار چھوڑ کے گھر آ گئی ۔ اس روز کے بعد میں ان سے کبھی نہ ملی۔ آج وہ ہم میں نہیں رہیں ، ان کی نظمیں ہیں ان کے لفظ ہیں اور ان کا راستہ ۔

جانے ان کے قدموں کے نشانوں پہ کون چلے گا۔ ان کے جانے کے بعد یہ سوچتی ہوں کہ دنیا ان سے خواہ مخواہ ڈرتی رہی وہ تو صرف ایک ننھی سی قینچی لئے ، حد سے بڑھے معاشرتی رویوں کی کانٹ چھانٹ کرتی پھری تھیں جانے لوگ ان سے کیوں ڈرتے تھے ؟ نہ فہمیدہ رہیں نہ ان سے ڈرنے والے رہے مگر کہانی اب بھی وہی ہے ۔ فہمیدہ جیسے لوگ مرتے نہیں اور ان سے خائف سوچ بھی ۔دیوار پہ بیل ایک بار پھر حد سے بڑھ گئی ہئ سوچتی ہوں اب کی بار فہمیدہ کس شکل میں جنم لے گی اور اس کے ہاتھ میں اب کی بار کیا ہو گا ؟ قلم ، تلوار، قینچی، درانتی یا فقط خون دل میں ڈبوئی انگلیاں ؟

متعلقہ عنوانات