’عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک دوسرے سے ہی مخاطب ہی نہیں‘

ٹرمپ، عمران تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو اکثر دل جلے عاشقوں کے رشتے سے تشبیہ دی جاتی ہے جن کی محبت نہ ختم ہوتی ہے نہ پروان چڑھتی ہے۔

ان دونوں ممالک کی دوستی ایسی ہے کہ نہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل وفا کر سکتے ہیں اور نہ ہی عالمی حالات انھیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف باندھنے دیتے ہیں۔

مگر حال ہی میں دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جن کی حدت اس قدر شدید تھی کہ ماضی قریب میں ان کی مثال نہیں ملتی۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں جو بیان دیا اس میں ان کا اشارہ یہ تھا کہ پاکستان تو بن لادن کو چھپائے بیٹھا تھا، اور ہم سے اربوں روپے لے کر ہمیں صرف دھوکہ ہی دیتا ہے۔

ادھر پاکستانی حکومت بھی یہ سن کر خاموش نہ رہ سکی۔

اسی بارے میں

’ کسی ملک کا نام بتائیں جس نے اتنی قربانیاں دی ہوں‘

’ہم نے افغانستان میں امن کے لیے سب سے زیادہ اقدامات کیے ہیں‘

’پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا‘

’عمران خان پاکستان کے ٹرمپ‘، امریکی شو پر تنازع

’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘

وزیراعظم عمران خان، پاکستانی دفترِ خارجہ اور پاکستان کی بری فوج کے سربراہ سب نے پے در پے دنیا کو پاکستانیوں کی قربانیاں یاد دلانے کی کوشش کی۔

یہ بیان کیوں سامنے آئے؟

میاں بیوی جیسی اس لڑائی میں کہیں طلاق کا تو کوئی امکان نہیں ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ یہ ہے کہ کہیں پہ نگاہیں، کہیں پر نشانہ!

امریکہ میں تھنک ٹینک سٹمسن سنٹر میں جنوبی ایشیا کے امور کے ڈائریکٹر سمیر لالوانی کہتے ہیں کہ یہ بیانات دونوں سربراہان نے اپنے داخلی حمایتیوں کے لیے دیے ہیں۔

’میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان یہ نہیں سوچ رہے کہ وہ ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔۔۔ صرف اپنے حمایتیوں کی نظر میں بہترین بیانات دے رہے ہیں۔‘

’دیکھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا اصلی ہدف جنرل مکریون تھے اور پاکستان بیچ میں مارا گیا۔ مکریون نے صدر ٹرمپ پر عالمی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس کلیرنس کے طریقہِ کار کے حوالے سے تنقید کی تھی۔ جنرل مکریون اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کے دوران سپیشل آپریشنز کمانڈ کے سربراہ تھے اور اسی لیے ٹرمپ نے اس بات کو نشانہ بنایا۔‘

’میرے خیال میں وہ پاکستان کے بارے میں سال میں ایک یا دو مرتبہ سوچتے ہیں اور پھر ٹویٹ کر دیتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ (ان کا حالیہ بیان) انھوں نے پہلے سے تیار کر کے یا پالیسی ساز حلقوں نے تیار کرکے جاری کیا ہو۔‘

ادھر اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر راجہ قیصر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پہلے ہی بہت خراب ہیں اور حالیہ کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔

ان کے مطابق ’ایک نئی بات ہے کہ خارجہ پالیسی بیان کرنے کا اتنا غیر سفارتی انداز جو اپنایا گیا ہے وہ بہت حیران کن ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان میں عمران خان دونوں پاپولرازم کی ایک لہر کے نتیجے میں اقتدار میں آئے ہیں اور دونوں ہی غیر روایتی قسم کے سیاستدان ہیں اور عوام کی نبض سے کھیلنا جانتے ہیں۔ یہ ایک حیران کن امر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’ٹرمپ پاکستان کے بارے میں سال میں ایک یا دو مرتبہ سوچتے ہیں اور پھر ٹویٹ کر دیتے ہیں‘

سمیر لالوانی اس بےتکلف انداز کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔

'اس میں دونوں سربراہوں کی شخصیت، اور پالیسی ساز حلقوں میں رجحان کا عمل دخل ہے۔ اور سوشل میڈیا نے انھیں اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ پبلک ریلیشنز کے روایتی اداروں کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست اپنے حمایتیوں سے بات کریں۔'

ان بیانات کا کوئی پالیسی پر اثر پڑے گا؟

سمیر لالوانی کہتے ہیں کہ ’دیکھیں پاکستان کا امریکہ کو جواب شاید پاکستان میں بڑی خبر ہو، مگر امریکہ میں ہے۔ یہاں میولر انویسٹیگیشن اور خاشقجی جیسے معاملات زیرِ بحث ہیں۔ یہاں کسی نے اس (پاکستانی جواب) کے بارے میں سوچا بھی نہیں ہے۔'

ادھر ڈاکٹر قیصر کہتے ہیں کہ 'پاکستان کی جو بھی سٹریٹیجک سوچ ہے، وہ ویسی ہی رہے گی۔ پاکستان جتنا چین کے قریب ہو سکتا تھا ہو چکا ہے۔'

'دیکھیں پاکستان کو بھی پتا ہے کہ امریکہ کا ایک اہم کردار ہے اور جب تک امریکہ افغانستان میں رہے گا تو امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ لیکن یہ ایک چیز ہے کہ شاید پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اب یہ رائے ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے ڈو مور منترا کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے اور سیاسی بیان کا جواب بھی سیاسی انداز میں دینا چاہیے۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'اس ٹوئٹر وار کا کوئی طویل مدتی پالیسی اثر تو نہیں ہوگا مگر یہ بیان بازی مزید آگے جا سکتی ہے۔'

اسی بارے میں