افراسیاب خٹک: ’صحافیوں کی طرح سیاستدانوں کی بھی صفائی ہو رہی ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
افراسیاب خٹک اپنی معطلی کی وجہ پارٹی سے باہر کے دباؤ کو قرار دیتے ہیں

عوامی نیشنل پارٹی کے معطل کیے جانے والے سینیئر سیاستدان افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے لیے بات کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کیا جا چکا ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ صحافتی اداروں کی طرح سیاسی پارٹیوں کو بھی جمہوریت کے حق میں کھل کر بات کرنے والوں کے خلاف اُکسایا جارہا ہے۔

’صحافیوں کی طرح سیاستدانوں کی بولتی بند کرنے کے لیے اُنھیں پارٹیوں سے نکالا جارہا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے

’ریاست اب بھی انتہا پسندی کے کارخانے چلا رہی ہے‘

پاکستانی میڈیا میں سینسرشپ اور سیلف سینسرشپ

انھوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے ساتھ مناظرہ نہیں کرنا چاہتے، صرف اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔

پاکستان میں پشتونوں کی اب تک سب سے بڑی پارٹی مانے جانے والی عوامی نیشنل پارٹی نے 12 نومبر کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے پارٹی کے سینیئر رہنماؤں افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کی بنیادی رکنیت معطل کر دی تھی۔

عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے جاری کئے گئے اس نوٹیفیکیشن میں یہ بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی، وہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے اور پارٹی کارکنوں میں انتشار پیدا کرنے کے لیے بھی سرگرم تھے۔

Image caption 'شاید پی ٹی ایم کی حمایت بھی معطلی کی وجہ تھی'

تاہم افراسیاب خٹک اس معطلی کی وجہ پارٹی سے باہر دباؤ کو قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ جو پاکستان میں غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے دباؤ ہے یہ اُسی کا شاخسانہ ہے۔‘

افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ جب تک تمام سیاسی پارٹیاں اِن قوتوں کے خلاف متحد نہیں ہو جاتیں اور پاکستان میں وفاقی جمہوری نظام کے لیے اکٹھی نہیں ہوتیں، صرف سیاستدان ہی نہیں نکالے جائیں گے، بلکہ پارٹیاں ہی ختم ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستان مختلف صحافتی اداروں کی جانب سے بعض صحافیوں کے پروگرام بھی بند کیے گئے ہیں اور اُنھیں اداروں سے نکالا جا چکا ہے۔ صحافتی تنظیمیں بھی اس کریک ڈاؤن کی ذمہ دار ’غیر جمہوری قوتیں‘ قرار دیتی ہیں۔

بعض ذرائع کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی نے ایک عرصے سے افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کو سائیڈ لائن کر دیا تھا کیونکہ دونوں پارٹی کے اندر اور باہر غیرجمہوری قوتوں کے خلاف کھل کر بات کر رہے تھے۔ یہی ذرائع دونوں رہنماؤں کی پشتون تحفظ موومنٹ کی کھل کر حمایت بھی اُن کی پارٹی رکنیت کا سبب گردانتے ہیں۔

تاہم افراسیاب خٹک کے بقول جمہوری پارٹیوں میں اختلاف رائے ہوتا ہے اور شاید پی ٹی ایم کی حمایت بھی ایک وجہ تھی۔ لیکن اُن کے مطابق پارٹی پر پی ٹی ایم بننے سے پہلے بھی دباؤ تھا کہ اُنھیں چپ کروایا جائے۔

’یہی باتیں ہم پی ٹی ایم بننے سے پہلے بھی کرتے تھے، تب بھی بعض قوتوں کو اچھے نہیں لگتے تھے‘۔

پاکستان میں موجود پشتون قوم پرست پارٹیوں نے ہر وقت پاکستان میں موجود پشتونوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی آزاد اور مستحکم جمہوری حکومتوں کے حق میں بات کی ہیں۔

تاہم افراسیاب خٹک کے بقول ان پارٹیوں نے ایک عرصے سے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی دوسرے ممالک کی مداخلت پر چپ سادھ رکھی تھی، جس کی وجہ سے پی ٹی ایم وجود میں آئی۔

اسی بارے میں