کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ، سات ہلاک

کراچی

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ کلفٹن کے علاقے میں واقع چینی قونصل خانے پر مسلح افراد کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور اس کارروائی میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں تین حملہ آور، دو عام شہری اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔

کراچی کے جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والےعام شہری باپ بیٹا تھے اور بظاہر ویزا معلومات کے لیے قونصل خانے میں موجود تھے۔

بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کے مطابق حملہ آور جمعے کی صبح ایک گاڑی میں چینی قونصل خانے تک پہنچے اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

حملہ آوروں نے پہلے دستی بموں سے دھماکے کیے اور اس کے بعد مسلح افراد اور عمارت کی سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچ مزاحمتی تحریک اب کوئی مسئلہ نہیں: چینی سفیر

چین سے مذاکرات نہ ہوئے ہیں نہ ہوں گے: اللہ نذر بلوچ

سی پیک: گیم چینجر یا ہوائی قلعہ؟

پولیس کے مطابق حملہ آور قونصل خانے کے احاطے میں داخل ہونے میں تو کامیاب رہے تاہم وہ کمپاؤنڈ میں داخل نہ ہو سکے اور انھیں اس سے پہلے ہی مار گرایا گیا۔

Image caption پولیس کے مطابق حملہ آور قونصل خانے کے احاطے میں داخل ہونے میں تو کامیاب رہے تاہم وہ کمپاؤنڈ میں داخل نہ ہو سکے

ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے مزید بتایا کہ اس حملے میں چینی قونصل جنرل سمیت تمام چینی عملہ محفوظ رہا جبکہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار قونصل خانے کی حفاظت پر تعینات تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو حملہ آوروں کے پاس سے خودکش جیکیٹیں ملی ہیں۔

ان کے مطابق رینجرز اب قونصل خانے کی عمارت میں موجود ہیں اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے جس کے بعد ہی کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا جا سکے گا۔

اس واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں عمارتوں کے درمیان سے دھواں اٹھتا جبکہ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی تھیں۔

اس واقع کے بعد چینی قونصل خانے کی جانب جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد وہاں موجود ہے۔

بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کر لی

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق آئی جی سندھ نے چینی قونصل خانے پر حملے کا نوٹس لیا ہے اور ڈی آئی جی ساؤتھ سے واقعے کی تفیصلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک ترجمان جیئند بلوچ نے فون پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مجید بریگیڈ کے تین فدائین اس کارروائی میں شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ یہ چین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ ہماری زمین پر قبضے کی کوشش چھوڑ دے ورنہ مستقبل میں اسے مزید سنگین معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ رواں برس کے آغاز میں پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ ژینگ نے کہا تھا کہ بلوچستان میں متحرک بلوچ مزاحمتی تحریک اب نہ ہی پاکستان، نہ چین اور نہ ہی سی پیک کے لیے کوئی خطرہ ہے اور پاکستان میں پہلے کی نسبت امن و امان کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے۔

حملے پر ردعمل

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے چینی قونصل خانے پر حملے کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پاکستان اور چین کے تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتے۔

عمران خان نے حملے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے اس کے پیچھے چھپے عناصر کو بےنقاب کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا نے بھی کراچی میں چینی قونصل خانے پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی، اور اس گھناؤنے حملے کے منصوبہ سازوں کو فوراً انصاف کے کٹھہرے میں لانا چاہیے۔

Image caption سی پیک روٹ

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں