کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ: بلوچ مزاحمت کار چین کے مخالف کیوں؟

جلتی ہوئی گاڑی تصویر کے کاپی رائٹ XINHUA
Image caption چینی سفارتخانے کے قریب ایک جلتی ہوئی گاڑی

جمعے کی صبح کراچی کے متمول علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے اور اس کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

بلوچ علیحدگی پسندوں نے چینی حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ وہ سی پیک کے نام پر بلوچ سرزمین اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ ترک کر دے ورنہ اسے مزید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ، سات ہلاک

بلوچ مزاحمتی تحریک اب کوئی مسئلہ نہیں: چینی سفیر

چین سے مذاکرات نہ ہوئے ہیں نہ ہوں گے: اللہ نذر بلوچ

چینی اور پاکستانی حکومتیں سی پیک کو پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے لیے گیم چینجر قرار دیتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ سی پیک کے ذریعے بلوچستان سمیت ملک کے بہت سے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی کام کیے جائیں گے جس سے ترقی سے محروم ان علاقوں میں خوشحالی آئے گی۔

Image caption کراچی میں چین کے قونصل خانے پر بی ایل اے کے تین شدت پسندوں نے حملہ کیا جس میں دستی بم بھی استعمال کیے گئے

اس سلسلے میں مثال کے طور پر بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر کا نام لیا جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ پسماندہ قصبہ آئندہ چند سالوں میں خطے میں ترقی کی علامت کے طور پر سامنے آئے گا۔

اگر یہ سب دعوے درست ہیں اور سی پیک بلوچستان کی ترقی کی ضمانت ہے تو پھر بلوچستان کے ایک طبقے کو سی پیک کے نام پر صوبے میں چین کی سرمایہ کاری پر اتنا اعتراض کیوں ہے کہ بعض شدت پسند گروہ اسے روکنے کے لیے مرنے مارنے پر تُل گئے ہیں۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ سی پیک کی مخالفت صرف مسلح شدت پسند گروہ ہی نہیں کر رہے بلکہ بلوچستان کے بعض غیر مسلح قوم پرست گروہ اور رہنما بھی سی پیک اور اس کے ذریعے بلوچستان میں ہونے والی سرمایہ کاری کے مخالف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان مسلح و غیر مسلح بلوچ قوم پرستوں کو سی پیک کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

سی پیک منصوبے کی ملکیت اور فیصلہ سازی میں حصہ نہ ملنا

سی پیک منصوے کی داغ بیل 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور میں اس وقت ڈالی گئی تھی جب سابق صدر آصف علی زرداری نے پے در پے چین کے کئی دورے کیے تھے جن کے نتیجے میں گوادر کی بندر گاہ کا انتظام سنگا پور کی کمپنی سے لے کر چینی کمپنی کو دے دیا گیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی قیادت پیپلز پارٹی کے اس دعوے کو درست نہیں سمجھتی اور اس منصوبے کا سارا کریڈٹ خود لینے پر بضد ہے۔

Image caption سی پیک کا روٹ

لیکن بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما اور بلوچ حقوق کی ایک توانا آواز سابق سینیٹر ثنا اللہ بلوچ کے مطابق پیپلز پارٹی نے بلوچی قیادت کے علم میں لائے بغیر گوادر کے مستقبل کا فیصلہ کیا۔

’پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے بلوچ عوام کی رضامندی اور بین الاقوامی معیار کی شفافیت حاصل کیے بغیر گوادر کو چائنا اورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کو مزید برتھوں کی تعمیر اور فعال بنانے کے لیے منتقل کر دیا۔ سب سے زیادہ قابل حیرت بات اس عمل میں یہ تھی کہ پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی نے صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں ایک پہلے سے متنازع ٹھیکہ سرکاری چینی کمپنی کو منتقل کر دیا۔ اس موقع پر بلوچستان کا ایک بھی نمائندہ موجود نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین کی بلوچستان میں سرمایہ کاری پر یہ وہ بنیادی نوعیت کا اعتراض ہے۔ بلوچ سیاسی قیادت اور مسلح گروہ سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد نے بلوچستان اور خاص طور پر گوادر کے مسقتبل کا فیصلہ کرتے ہوئے اس صوبے کی قیادت کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات، اطلاع تک نہ دی۔ اس کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت نے سی پیک پر کئی آل پارٹیز کانفرنسز کیں جس میں بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کو بلا کر لمبی لمبی بریفنگز بھی دیں گئیں لیکن بلوچستان کے دل میں جو میل آ گیا تھا وہ نکل نہیں سکا۔

بلوچستان کے وسائل پر قبضے کا منصوبہ؟

سوئی گیس پاکستان میں گھر گھر استعمال ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں قدرت کا یہ انمول تحفہ ناپید ہے۔ یہ بتانا ضروری تو نہیں لیکن پھر بھی ذکر کیے دیتے ہیں کہ پاکستان میں چولہا جلانے کے لیے گھروں میں پائپ کے ذریعے آنے والی گیس کو سوئی گیس اس لیے کہتے ہیں کہ یہ گیس بلوچستان کے علاقے سوئی میں واقع گیس کے ذخائر سے حاصل کی جاتی ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں کے بر عکس بلوچستان کے اکثر علاقے اس گیس سے محروم ہیں۔ ایسے میں یہ اعتراض تو بنتا ہے کہ جس صوبے کا اس قدرتی ذخیرے پر حق ہے، اسے اس میں سب سے کم حصہ کیوں دیا جا رہا ہے؟

اس بارے میں مزید پڑھیے

سی پیک: گیم چینجر یا ہوائی قلعہ؟

’سی پیک میں کلیدی کردار گوادر کا ہے مگر ترقی پنجاب میں‘

پاکستانی سیاسی مبصرین البتہ اس دلیل کو زیادہ وزن نہیں دیتے کہ بلوچستان کے رہنے والوں کے ساتھ سی پیک کے معاملے میں بھی یہی ہو گا۔ یہ دلیل بلوچ قوم پرست رہنماؤں کی جانب سے بار بار دی جاتی ہے کہ سی پیک میں بھی ایسا ہی ہو گا کہ بلوچ وسائل پر وفاق اور چین قبضہ کرے گا اور سوئی گیس کی طرح بلوچستان میں رہنے والوں کو اپنے کی قدرتی اور دیگر وسائل استعمال کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اسی لیے بعض بلوچ قوم پرست سی پیک کو بلوچستان کے وسائل پر قبضے کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔

ملازمتوں میں حصہ نہ ملنا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گوادر کا حلیہ اور قسمت تیزی سے بدل رہی ہے لیکن وہاں کے رہنے والوں کے حالات میں بہتری کے آثار ابھی تک تو دکھائی نہیں دے رہے۔ بندر گاہ میں نئی مشینری لگ رہی ہے، سڑکیں بن رہی ہیں اور نئی عمارتیں اور رہائشی کالونیاں سر اٹھا رہی ہیں۔ لیکن گوادر قصبے کے رہنے والے پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور یہ بات محض محاورتاً نہیں کہی جاتی۔

گوادر شہر کو صاف پانی فراہم کرنے والے واحد ذخیرے آکڑا ڈیم سے سال میں چند ہفتے ہی پانی مل پاتا ہے۔ باقی دن گوادر کے باسی حقیقی معنوں میں پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ دوسری طرف چین اور پاکستان کے دوسرے حصوں سے آئے انجینئرز اور دیگر افسران اور اہلکاروں کے لیے جنگل میں منگل کا سماں ہے۔ لیکن ان چنے گئے افسروں اور دیگر عملے میں مقامی لوگوں یا بلوچوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی صورتحال صوبے میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی بتائی جاتی ہے۔

بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے رہنے والوں کو ان ملازمتوں اور دیگر اقتصادی موقعوں میں برابر کا حصہ نہیں دیا جا رہا۔ اگر ملازمتیں دی بھی جا رہی ہیں تو وہ مزدور کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے تعلیم یافتہ لوگ ملتے ہی نہیں تو انہیں ان کے حصے کے مطابق ملازمتیں کہاں سے دیں؟ یہ بحث پہلے مرغی یا پہلے انڈے والی بن جاتی ہے۔ یعنی غریب اور پسماندہ قوبے میں نوجوانوں کو ہنر اور تعلیم دینا کس کی ذمہ داری ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترقیاتی کاموں کے ساتھ پاکستانی فوج کا بلوچستان پر اثر و رسوخ میں اضافہ

بلوچستان میں فوجی چیک پوسٹس بلوچ قوم پرستوں کے نشانے پر رہی ہیں، سیاسی طور پر بھی اور عسکری سطح پر بھی۔ ان میں سے بیشتر چیک پوسٹ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں اس وقت قائم کی گئی تھیں جب بلوچ قوم پرست رہنما اکبر بگٹی کے خلاف فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک فوجی آپریشن میں اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں فوج کی تعداد بڑھائی گئی جس کے ساتھ ہی وہاں فوجی اور نیم فوجی دستوں کی چیک پوسٹس بھی بڑی تعداد میں قائم کی گئیں۔ حکومت اور فوج ان چیک پوسٹس کو بلوچستان کے خاص طور پر دور دراز علاقوں میں قیام امن اور عوام کے تحفظ کی ضامن قرار دیتی ہیں جبکہ بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ یہ چیک پوسٹس بلوچستان میں رہنے والوں کی توہین کی علامت ہیں۔

ثنا اللہ بلوچ کا کہنا ہے سی پیک کے تحفظ کی چونکہ ضرورت بڑے پیمانے پر ہو گی اس لیے بلوچستان میں فوجی ’فٹ پرنٹ‘ میں اضافہ ہونا لازمی ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس علاقے میں کشیدگی بڑھے گی۔

’اس علاقے میں پہلے ہی غیربلوچ سکیورٹی فورسز کی موجودگی جس میں فرنٹئر کور اور کوسٹ گارڈز شامل ہیں، کی بڑے پیمانے پر موجودگی کشیدگی اور بے چینی کا سبب بن رہی ہے۔ سیاسی طور پر جبر کی وجہ سے متاثرہ بلوچوں کو خدشہ ہے کہ چین کی بڑے پیمانے پر گوادر میں موجودگی عسکری کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی جس سے بلوچ براہ راست متاثر ہوں گے۔‘

اسی بارے میں