نہ کوئی حتمی قانون، نہ انتظامیہ: فاٹا کا نظام آخر کیسے چلے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے فاٹا اصلاحات کا ایک جامع منصوبہ منظور کیا تھا جس کے تحت ان ’قبائلی علاقوں‘ میں رائج دہائیوں پرانے ایف سی آر قانون کو ختم کر کے نیا عبوری قانونی ڈھانچہ آئی جی آر نظام (انٹرم گورننس ریگولیشن) نافذ کیا تھا جسے پچھلے مہینے پشاور ہائی کورٹ نے غیر آئینی قرار دے دیا۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ان سابقہ قبائلی علاقہ جات کی آئینی حیثیت کے بارے میں خاصا ابہام پایا جاتا ہے اور اس بارے میں بہت سے سوال ابھی تک جواب طلب ہیں۔

ایف سی آر اور آئی جی آر کی غیر موجودگی میں موجودہ وقت میں فاٹا میں انصاف کے حصول کا طریقہ کیا ہے؟

پشاور ہائی کورٹ کے معروف وکیل مطیع اللہ مروت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد اب قبائل بھی ہائی کورٹ و سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہائی کورٹ ’ایویڈنس‘(ایسے مقدمات جن میں ثبوت کی ضرورت ہو) کے معاملات طے کرنے والی عدالت نہیں ہے. لہذا ایسے مقدمات مقامی عدالتیں حل کرتی ہیں۔

فاٹا اصلاحات کی کہانی

فاٹا اصلاحات، سیاسی آراء منقسم

فاٹا عبوری گورننس ریگولیشن میں کیا ہے؟

فاٹا اصلاحات کے اہم نکات کیا ہیں؟

لیکن فاٹا میں اس وقت عدالتیں نہیں ہیں، تو جب تک وہاں عدالتی نظام قائم نہیں ہو جاتا یہ لوگ ایسے مقدمات اب کہاں سے حل کرا سکتے ہیں؟ اس پر مروت نے بتایا کہ پچھلے مہینے اکتوبر میں جب ہائی کورٹ نے ’آئی جی آر‘ کو ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تو ساتھ ہی ایک مہینے کی مدت کے لیے اسی نظام کے تحت مسائل کو حل کرنے کا اختیار بھی دے دیا۔

اگر متبادل حل نہ ہو، اپیل عدالت نہ ہو، اور مقدمے کا جائزہ لینے کےلیے کوئی فورم نہ ہو، تو اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست ہائی کورٹ میں جمع کروائی جا سکتی ہے۔

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا عمل یقینی بنانے کے حوالے سےحکومتی اقدامات کی اس وقت کیا صورتحال ہے؟

فاٹا کے انضمام کے بارے میں ابھی تک حکومتی موقف یہ سامنے آیا ہے کہ انتظامی امور سنبھالنے والے ادارے فاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور فاٹا سیکریٹیریٹ کو ختم کرکے اداروں کی منتقلی تیزی سے جاری ہے۔ تاہم باقی اہم و بنیادی کام جیسے کہ عدالتوں کا قیام، پولیس نظام، بلدیاتی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات، فنڈز کی تصخیص، صحت و تعلیم اور دیگر ترقیاتی کاموں کے بارے خود حکومت ابھی تک صیغہء مستقبل ’گا،گے،گی‘ سےکام لےرہی ہے۔ تاہم گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لیےحکومت الیکشن کمیشن کی منتظر ہے۔ جبکہ پولیس نظام کے لیے پہلے مرحلے میں فاٹا ہی سے تقریباً چالیس ہزار لیویز عملہ بھرتی کیا جائے گا بعد میں یہی عملہ پولیس میں ضم ہو جائےگا۔

گورنر کا یہ بھی کہنا ہے کہ فاٹا میں تھانوں کی تعمیر پر کام شروع ہو چکا ہے اور بنیادی و قطعی مقصد وہاں باقی خیبر پختونخوا کی طرح پولیس کا نظام لانا ہے۔

فاٹا میں بلدیاتی و صوبائی انتخابات کے بارے الیکشن کمیشن کا موقف کیا ہے؟

الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا دفتر نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی و بلدیاتی انتخابات 2019 کے مئی کے مہینے تک متوقع ہیں۔ لیکن اس کے لیے حکومت پہلے زمین ہموار کرے گی, جیسے کہ آگاہی مہم، بے گھر متاثرین کی واپسی، اور اس سب کے لیے فنڈز کی فراہمی۔ مزید بتایا گیا کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے پہلے نئے ’ڈسٹرکٹ نظام` کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ کے محکمے اور الیکشن کمیشن اکٹھے انتخابات سے پہلے کے مراحل طے کریں گے، جیسا کہ آبادی، رقبے، قبیلوں و دیگر درکار حقائق پر کام کرنا ہوگا۔

اگرچہ ایک طرف تجزیہ نگاروں میں بحث ہو رہی ہے کہ پہلے صوبائی انتخابات بہتر رہیں گے یا بلدیاتی، تاہم دوسری جانب سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیراعظم پاکستان چاہتے ہیں کہ پہلے بلدیاتی انتخابات ہوں، تاکہ لوکل حکومت قائم ہو اور قبائلی علاقہ جات میں جلد از جلد انتظامی امور کا نفاذ ہو جائے۔

کیا اب ہر کوئی فاٹا جا سکتا ہے؟

فاٹا جو کہ عموماً قبائلستان کے نام سے منسوب تھا، اس کا ہر علاقہ دوسرے سے جدا ہے۔ خاص طور پر خیبر ایجنسی میں تیراہ، کرم ایجنسی میں پاڑہ چنار اور شلوزان، شمالی وزیرستان میں رزمک، جنوبی وزیرستان میں وانا، لدہ، اور کانی گرم نہایت خوبصورت اور قابل دید علاقے سمجھے جاتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ نگار قاسم شاہ کا کہنا ہے کہ فوج نے فاٹا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بعد امن کو بحال رکھنے کے لیے’کنٹرولڈ انٹری‘ رکھی ہے۔

جس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص فاٹا جانے کا متمنی ہے۔ اس کے پاس جواز کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بعد متعلقہ حکام سے اجازت لے گا اور یہ طریقہ کار تب تک سیاحوں پر لاگو رہے گا، جب تک فاٹا میں سوِل انتظامیہ کی رِٹ پوری طرح قائم نہیں ہو جاتی۔

فاٹا اصلاحات پر اتنڑ اور بھنگڑے

فاٹا اصلاحات پر اتفاق کیوں نہیں؟

فاٹا میں یوتھ پالیسی کیوں نہیں؟

کیا فاٹا انضمام سے وہاں کی خواتین مستفید ہوں گی؟

سرکاری حکام کا کہنا ہے، کہ جیسے جیسے فاٹا میں تعمیر و ترقی کے کام ہوں گے ان خواتین کی اٹھان اور اڑان کو موقع ملے گا۔

موجودہ وقت میں نہ صرف فاٹا کی خواتین بلکہ مرد بھی بہت پیچھے ہیں۔ دوسری جانب خواتین کی حقوق پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا حکومت سےمطالبہ ہے، ک انضمام کے اس مرحلے میں نہ صرف قبائلی خواتین کی رائے کو شامل کیا جائے (بالخصوص جو تعلیم یافتہ خواتین ہیں) بلکہ ان کی ترقی کے لیے ہر شعبئہ زندگی میں حصہ رکھا جائے۔

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی سارا خان کا کہنا ہے کہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ان٘ضمام کے بعد سے ابھی تک فاٹا کی خواتین کے لیے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فاٹا کے عوام کا نئے نظام کے بارے کیا ردّ عمل ہے؟

قبائیلوں سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ عوام کی ایک تعداد پولیس اور جیل سے خائف ہے۔ ایف سی آر کا دوسرا بدترین پہلووں کے برعکس بقول ان کے ایک اچھی بات یہ تھی کہ بڑے سے بڑے جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا چودہ سال تھی۔ اسی لیے وہ نئے نظام کو قبول کرنے سے کترا رہے ہیں۔

2018 و 2019 کے بجٹ میں حکومت نے فاٹا کے لیے 24 ارب روپے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ پچھلی حکومت نے انضمام کے اعلان کے ساتھ فوری طور پر سو ارب دینے کا وعدہ کیا تھا۔

فاٹا کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ زیادہ نہیں تو یہی سو ارب دے دیے جائیں تاکہ فاٹا جو اس وقت بالکل ساکت ہو کر رہ گیا ہے، فعال ہو جائے۔

اسی بارے میں