عمران خان کے مشیر انیل مسرت کون ہیں؟

انیل مسرت تصویر کے کاپی رائٹ Sahibzada Amir Jahangir
Image caption انیل مسرت کی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ ایک تصویر

صنعتی شہر مانچسٹر کے ورکنگ کلاس علاقے لانگ سائٹ میں پیدا ہونے والے 49 سالہ انیل مسرت کا شمار برطانیہ کے امیر ترین ایشیائی باشندوں میں ہوتا ہے۔

انیل کا بچپن ورکنگ کلاس تارکین وطن کے بچوں کی طرح ہی تھا ہر سال والدہ کے آبائی شہر چنیوٹ اور والد کے آبائی شہر گوجرہ کا چکر لگانا اور یہاں آزاد اور پر امن ماحول میں گلیوں بازاروں میں گھومنا پھرنا اُن کے لیے روٹین تھا۔ سکول میں انیل کا دل نہیں لگتا تھا اسی لیے سکول سے ڈراپ آؤٹ ہو گئے اوپر سے افتاد یہ پڑی کہ والد کا انتقال ہو گیا جس کے بعد انہیں لڑکپن میں ہی غم روزگار میں مبتلا ہونا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

تحریکِ انصاف کی حکومت کے 100 دن، کیا کھویا کیا پایا

زلفی بخاری کون اور عمران کے لیے اہم کیوں؟

تایا لانگ سائٹ کے علاقے میں ہی پراپرٹی کا کاروبار کرتے تھے انہی سے بزنس کے پہلے گُر سیکھے اور ابتدا میں گھر کرائے پر چڑھانے شروع کیے۔ ان کے پرانے محلے دار کہتے ہیں کہ انیل کی کاروباری سوجھ بوجھ میں ایک بوڑھے رئیل اسٹیٹ بزنس مین کا اہم کردار ہے جس نے انیل کو اس کاروبار کی اونچ نیچ سکھائی۔ تربیت کا کمال تھا یا انیل کی ذاتی محنت، لڑکپن کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مانچسٹر سے شروع ہونے والا کاروبار اب پورے یورپ میں پھیل چکا ہے۔ مگر اتنی کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود انیل اب بھی 18 گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کا عزم ہے کہ وہ ایک دن برطانیہ کا سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ گروپ بنائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI UK
Image caption انیل مسرت عمران خان کے سیاسی سفر میں ان کے بہت قریب رہے ہیں۔

سالہا سال کی محنت کے بعد جب انیل مسرت خوشحال ہوئے تو 2004 میں انہوں نے میاں نواز شریف، عمران خان اور دوسرے پاکستانیوں سے میل جول شروع کیا۔ تقریباً اسی زمانے میں انہوں نے بھارت کے فلمی ستاروں امیتابھ بچن، شاہ رخ ، سلمان خان اور انیل کپور اور سنیل سیٹھی کے ساتھ دوستی کی بنیاد ڈالی۔ کرکٹ اور فلم ان کے بچپن کے شوق ہیں عمران خان ان کا کرکٹر ہیرو ہے اور یوں لگتا ہے کہ وہ 30 سال گزرنے کے باوجود اب بھی عمران خان کی کرشماتی شخصیت کے مداح ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption انیل مسرت کے بالی وُڈ فلم سٹار رتیک روشن کے ساتھ

بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے دیکھتے وہ اس کے بڑے ناموں سے مانوس ہوئے اور جب وہ دولت و مرتبہ کے ایک خاص مقام پر پہنچے تو اسی طلسماتی دنیا کے کرداروں سے کندھے ملانے میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ وہ بالی ووڈ کے ستاروں کے گھر ہی کا ایک فرد ہے۔

انیل مسرت کی کامیابیوں کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں وہ برطانوی سیاست کے اہم ترین کرداروں کے بھی راز دار ہیں۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان کی اہلیہ شری بلیئر نے سرمایہ کاری کرنی ہو تو وہ انیل سے مشورہ کرتے ہیں اور تو اور ڈیوڈ کیمرون سے بھی ان کی گاڑھی چھنتی ہے۔ یہ سب سے بڑے نام تو سویلین دنیا کے ہیں جن سے ان کی سماجی اور سیاسی مصروفیات کی وجہ سے راہ و رسم بڑھانا مشکل نہیں ہوتا لیکن انیل مسرت کی فتوحات تو فوج کے شعبے تک بھی ہیں۔ برطانوی افواج کے کمانڈر مسٹر نِک ہوں یا پاکستانی افواج کے کمانڈر جنرل باجوہ ان کا سب سے ملنا جُلنا اور سماجی راہ و رسم ہے ان کے دائرۂ تعلقات میں تازہ اضافہ عدلیہ کے شعبے میں ہوا۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے بھی برطانیہ میں پہلا عشائیہ انیل مسرت ہی کے ساتھ کیا ۔ بظاہر کم گو مگر فوکسڈ انیل مسرت کے دائرۂ اثر کا اندازہ ان کے ملنے والوں کی فہرست سے بخوبی ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption انیل مسرت فوج کے سربراہ جرنل قمر باجوہ کے ساتھ ایک تصویر جسے سوشل میڈیا پر بہت شیئر کیا۔

انیل مسرت کی طبیعت میں عاجزی ہے وہ بڑے بڑے دعوے نہیں کرتے۔ اپنی دولت کی شیخیاں نہیں بگھارتے۔ ان کے ذاتی دوست چند ہیں مگر ان کے ساتھ آؤٹنگ کرتے ہیں اپنے بھائی نبیل چودھری اپنی بہنوں بہنوئیوں، داماد، بیوی اور والدہ سمیت سب کو ساتھ ملا کر چلتے ہیں۔ برطانیہ میں رہنے کے باوجود اپنے خاندان کو مشترکہ خاندانی نظام کی طرح چلاتے ہیں بھائی نبیل چودھری کا رہن سہن امیروں والا ہے اس کی گرل فرینڈز کے قصے زبان زدِ عام رہتے ہیں انیل خاندان لندن کے مشہور اور مہنگے ترین لیڈی انا بیل کلب کا سرگرم رکن ہے ان کے اکثر فنکشنز وہیں ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sahibzada Amir Jahangir
Image caption انیل مسرت عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کے ساتھ

انیل مسرت کے ناقدین اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انیل کو شریف خاندان نے سرمایہ کاری کے لیے پیسے دیے تھے۔ انیل نے اس میں کیا خرابی کی کہ شریف خاندان اور انیل مسرت میں دوریاں پیدا ہوگئیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI UK

انیل مسرت کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے اس کا شریف خاندان سے ملنا جلنا ضرور تھا مگر کبھی اکٹھے کاروبار نہیں کیا۔ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ دھرنے کے دوران انیل مسرت عمران خان کی سٹیج پر نظر آئے تو شریف برادران ناراض ہو گئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انیل کو برطانوی وزیر اعظم سے مل کر یہ درخواست کرنا پڑی کہ انہیں خدشہ ہے کہ دورۂ پاکستان کے دوران شریف خاندان انہیں کسی جھوٹے مقدمے میں گرفتار نہ کر لے۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے یہ یقینی بنایا کہ انیل مسرت کو پاکستان میں کوئی گرفتار نہ کر سکے ۔ انیل دل و جان سے عمران خان کی کامیابی چاہتے ہیں اسی لیے وہ اپنے تجربات کا نچوڑ 50 لاکھ گھر بنانے کے منصوبے کی رہنمائی کر کے ملک پر نچھاور کرنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption انیل کہ تعلقات برطانیہ میں موجود سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بھی ہیں جن میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور وزیرِ داخلہ ساجد جاوید بھی شامل ہیں۔

انیل مسرت ویسے تو مشینی انسان ہیں ہر وقت پراپرٹی کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں لیکن انسانی طور پر اپنے خاندان سے جڑے رہتے ہیں۔ ان کی اہلیہ شاہ محمود قریشی کے خاندان سے ہیں انیل اپنے اکلوتے بیٹے رافع کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں اور انہیں خوب سیر کرواتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

عمران خان سے وابستگی، اُن کی الیکشن مہم میں خرچہ کرنے اور پھر ہاؤسنگ پراجیکٹ کی مشاورت کی وجہ سے انیل مسرت پاکستانی سیاست میں متنازغ کردار بن کر سامنے آئے ہیں چونکہ لوگ ان سے زیادہ واقف بھی نہیں اسیلیے پراسراریت کا ایک ہالہ بھی ان کے گرد قائم ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption انیل مسرت چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم کے ڈیم فنڈ کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا انیل مسرت بھی معین قریشی، شوکت عزیز یا کئی دوسرے تارکین وطن کی طرح کسی عہدے، ٹھیکے یا مال بنانے والے کسی پراجیکٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں یا پھر وہ واقعی اپنے بین الاقوامی کامیاب تجربوں کے نچوڑ سے پاکستانی ہاؤسنگ میں انقلاب لانا چاہتے ہیں؟

توقع یہی کرنی چاہیے کہ انیل مسرت صرف اپنے تجربے اور شعور کو یہاں منتقل کریں کاروبار یا مالی مفاد کاسودا نہ کریں۔

اسی بارے میں