نوجوت سنگھ سدھو: مذہب کو حکمرانی اور دہشت گردی کے چشمے سے نہیں دیکھنا چاہیے

سکھ یاتری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرتارپور کے درشن کے خواہش مند افراد دوربین کے ذریعے اسے دیکھ سکتے ہیں

کرتارپور راہداری کی تعمیر کے آغاز کی تقریب میں شرکت کی دعوت پر نوجوت سنگھ سدھو نے لاہور پہنچنے پر کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے یہ بیج بویا جس سے نئی امید اور ترنگ کا پودا اُگا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مذہب کو حکمرانی اور دہشت گردی کے چشمے سے نہیں دیکھنا چاہیے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ کسی پیروکار کو اس کے مذہبی مقام پر جانے اور عبادت سے روکا جائے‘۔

یاد رہے کہ انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کرتارپور راہداری کی تعمیر کے آغاز کی تقریب میں شرکت کی دعوت پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے معذرت کی تھی کہ وہ مصروفیت کی بنا پر اس میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔

اپنی مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے، سشما سوراج نے کہا کہ ان کے دو وزرا ہرسیمرت کور اور ہردپپ سنگھ پوری اس پروگرام میں انڈیا کی نمائندگی کریں گے۔

گرودوارہ کرتارپور:3 کلومیٹر کا فاصلہ،7 دہائیوں کی مسافت

ننکانہ صاحب میں 70 سال سے بند گرودوارہ کھولنے کا فیصلہ

سکھ برادری کرتارپور بارڈر کھلنے کے لیے بیتاب کیوں؟

پاکستان نے پاکستان بابا گرونانک کی 550ویں سالگرہ کے حوالے سے کرتارپورہ راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان 28 نومبر کو کرتارپورہ میں اس حوالے سے کام کا افتتاح کریں گے۔

انھوں نے اس موقع پر پاکستان میں مقیم سکھ برادری کو بھی کرتارپورہ آکر تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

کرتارپور کہاں ہے؟

کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں۔

یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔

راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔ گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

کرتاپور سکھوں کے لیےاہم کیوں ہے؟

کرتارپور کا گرودوارہ سکھوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے۔ یہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کی رہائش گاہ اور جائے وفات ہے۔

گرو نانک نے اپنی 70 برس اور چار ماہ کی زندگی میں دنیا بھر کا سفر کیا اور کرتارپور میں انھوں نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے جو کسی بھی جگہ ان کے قیام کا سب سے لمبا عرصہ ہے۔

یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس وقت کیا صورتحال ہے؟

انڈیا میں مقیم دربار صاحب کرتارپور کے درشن کے خواہش مند افراد اب بھی اس کو دیکھ ضرور سکتے ہیں مگر چار کلومیٹر دور سرحد کے اُس پار سے۔

انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے ایسے دید کے خواہش مندوں کے لیے سرحد پر ایک 'درشن استھل' قائم کر رکھا ہے جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے دربار صاحب کا دیدار کرتے ہوئے اپنی عبادت کرتے ہیں۔

سنہ 1947 میں تقسیم کے وقت گردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ایک لمبے عرصے تک یہ گردوارہ بند رہا۔

جب تقریباً اٹھارہ برس قبل کھلا تو بھی انڈیا میں بسنے والے سکھ برادری کے تقریباً دو کروڑ افراد کو یہاں آنے کا ویزہ نہیں ملتا تھا۔

معاہدے کے تحت ہر سال بابا گرو نانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کی زیارت پر پاکستان آنے والے چند سکھ یاتریوں کو کرتارپور کا ویزہ حال ہی میں ملنا شروع ہوا، تاہم ان کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں رہی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں