جسٹس اطہر من اللہ: چیف کے خود ساختہ ترجمان سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تک

تصویر کے کاپی رائٹ PTV
Image caption اطہر من اللہ کا نام سنہ 2007 کی 'عدلیہ بحالی تحریک' کے دوران پہلی مرتبہ عوامی سطح پر سامنے آیا تھا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس اطہر من اللہ جج تعینات ہونے کے بعد صرف چار سال کی مدت میں کسی عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے جسٹس اطہر من اللہ کو 17 جون سنہ 2014 میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا۔

دو سال کے بعد انھیں مستقل کر دیا گیا اور 28 نومبر سنہ 2018 کو وہ اسی عدالت کے سب سے اہم عہدے پر پہنچ گئے اور ان کی مدت ملازمت سنہ 2023 میں پوری ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

صدر پاکستان نے جسٹس صدیقی کو عہدے سے ہٹا دیا

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کون ہیں؟

پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں ان سے تیزی سے اس اعلیٰ عہدے پر شاید سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس فائز عیسیٰ ہی آئے جنھیں 2009 میں براہ راست بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔

تاہم ان کی تعیناتی ایک مخصوص صورتحال میں عمل میں آئی تھی کیونکہ پی سی او ججوں کی برطرفی کے بعد عدالت میں کوئی بھی جج باقی نہیں رہا تھا۔ اس صورتحال میں ہائی کورٹ کے انتظامی امور چلانے کے لیے جسٹس قاضی فائز عسیی کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔

اطہر من اللہ کا نام سنہ 2007 کی ’عدلیہ بحالی تحریک‘ کے دوران پہلی مرتبہ عوامی سطح پر سامنے آیا تھا۔

نو مارچ 2007 سے لے کر تین نومبر2007 اور پھر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ان کے عہدے پر بحالی تک وکلا کی تحریک کے جو سرکردہ رہنما تھے ان میں بیرسٹر اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر، علی احمد کرد اور حامد خان کے علاوہ اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔

اطہر من اللہ کو اس وقت وکلا تحریک کے علاوہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جب افتخار چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں کو ججز کالونی میں نظربند کیا گیا تو ان کے حالات کے بارے میں بھی معلومات اطہر من اللہ سے ہی ملتی تھیں۔

سنہ 2014 میں جب اطہر من اللہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تو اس وقت وکلا برادری میں یہ تاثرعام تھا کہ ان کی تعیناتی جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سفارش پر ہی عمل میں آئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کو ایک دھیمے مزاج کا انسان سمجھا جاتا ہے اور عدالت میں سماعت کے دوران کبھی وہ بلند آواز میں ریمارکس بھی نہیں دیتے دکھائی دیے۔

جسٹس اطہر من اللہ کے اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے میں دیکھا جائے تو قسمت کا بھی عمل دخل ہے۔

حال ہی میں عہدے سے برطرف کیے جانے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی سنیارٹی لسٹ میں جسٹس اطہر من اللہ سے اوپر تھے اور اگر انھیں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر عہدے سے نہ ہٹایا جاتا تو وہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔

ماضی قریب میں جسٹس اطہر من اللہ کے کچھ فیصلوں پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا۔

یہ جسٹس اطہر من اللہ ہی تھے جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دیا تھا۔ ان کا فیصلہ بعد میں سپریم کورٹ میں چیلنج ہو کر تبدیل ہوا تاہم سوشل میڈیا پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے ان کی تعریفوں کے پل باندھے۔

لیکن کچھ عرصے کے بعد جب جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اُنھیں رہا کرنے کا حکم دیا تو اسی سوشل میڈیا پر جسٹس اطہر من اللہ کو نہ صرف ہدف تنقید بنایا گیا بلکہ ان کے خلاف نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔

بات یہاں تک بگڑی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں مقدمہ درج کروانا پڑا اور تب کہیں جا کر جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ رکا تھا۔

اسی بارے میں