جے آئی ٹی کی رپورٹ: آئی جی اسلام آباد کی تبدیلی کے ’ذمہ دار‘ اعظم سواتی ہی ہیں

اعظم سواتی تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے غریب آدمی نیاز محمد کے ساتھ لڑائی کے دوران وفاقی وزیر کو خصوصی پروٹوکول دیا

سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد کی تبدیلی سے متعلق حکمراں جماعت کے رہنما اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر اعظم سواتی کو ذمہ دار دیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ نے اس واقعے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ کیوں نہ وفاقی وزیر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کارروائی کی جائے جو کہ عمر بھر کے لیے نااہلی سے متعلق ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آئی جی اسلام آباد کی ٹرانسفر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

نامہ نگار کے مطابق عدالت میں اس واقعے سے متعلق بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے غریب آدمی نیاز محمد کے ساتھ لڑائی کے دوران وفاقی وزیر کو خصوصی پروٹوکول دیا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس غریب آدمی کے ساتھ لڑائی میں پولیس نے وفاقی وزیر کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا تھا۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جھگڑے کے اگلے روز ایس ایس پی آپریشن اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی اعظم سواتی کے گھر گئے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس نے اس واقعے کی ایماندارانہ تفتیش نہیں کی اور پولیس افسران نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس وفاقی وزیر اعظم سواتی کے خاندان کے ساتھ مل گئی۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد مضروب نیاز محمد کے گھر پر جرگہ ہوا جس میں وہ وفاقی وزیر سے صلح کرنے پر مجبور ہوا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی کی طرف سے جو لوگ جرگے میں آئے تھے انھوں نے نیاز محمد کو کچھ پیسے دینے کی بھی پیشکش کی جو نیاز محمد نے ٹھکرا دی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس واقعے سے متعلق از خود نوٹس لینے کے بعد اعظم سواتی کی بیوی نیاز محمد کے گھر آئی اور نیاز محمد کے بچوں کے لیے کپڑے بھی لے کر آئی۔

جے آئی ٹی جی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑائی جھگڑے سے متعلق اعظم سواتی کے خاندان کا موقف جھوٹ پر مبنی،بے بنیاد اور تضادات سے بھرپور ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش پولیس کے جونیئر افسران نے کی جبکہ پولیس افسران نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ یہ عام نوعیت کا کیس تھا اس لیے سنجیدہ نہیں لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی کے دوران اعظم سواتی کے بیٹے کے زیر استعمال کلاشنکوف کا لائسنس بھی نہیں تھا۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

’ایسے حکمران لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کریں گے؟‘

’جے آئی ٹی پتہ لگائے آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ کیوں ہوا‘

وزیراعظم کے آئی جی کے تبادلے کے زبانی احکامات معطل

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ اگر وفاقی وزیر کے خلاف کوئی مقدمہ بنتا ہے تو وہ درج کروائیں۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا نئے آئی جی عدالت میں موجود ہیں، جس پر اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے نئے سربراہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم نہیں دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسے وزیروں کو رکھا جا سکتا ہے جو غریبوں اور اپنے سے کمزور افراد پر ظلم کریں۔

عدالت نے اعظم سواتی کے وکیل علی ظفر کو کہا کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر جواب دیں اور پھر اس کے بعد عدالت وفاقی وزیر کے خلاف 62 ون ایف کے تحت چارج فریم کرنے کے بارے میں بھی دیکھے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ غریبوں اور کمزوروں کو کیسے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

اعظم سواتی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل بیرون ملک ہیں اور وہ تین دسمبر کو وطن واپس آئیں گے لہذا اس رپورٹ پر جواب ایک ہفتے کے بعد دیا جائے گا۔

جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’کیوں نہ منسٹر کو اس دورے سے ہی واپس بلا لیں۔‘ اُنھوں نے کہا یہ ایک اہم معاملہ ہے اس لیے اگلے دو روز میں اس رپورٹ پر جواب جمع کروائیں۔

عدالت نے متاثرہ فیملی کے بارے میں بھی پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے متاثرہ فیملی کو روسٹرم پر بلایا اور ان کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عدالت آپ کی عزت اور غیرت کے لیے لڑ رہی ہے۔ بینچ کے سربراہ نے نیاز محمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیوی اور بیٹیاں حوالات میں رہیں، سنا ہے آپ نے صلح کر لی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسی صلح کو نہیں مانتے۔‘ اُنھوں نے کہا کہ بڑے لوگوں کو ان کے اس عمل پر معافی نہیں دی جاسکتی۔

عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ پر وفاقی وزیر اعظم سواتی سے جواب طلب کرتے ہوئے رپورٹ کی کاپی فریقین کو مہیا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس از خود نوٹس کی سماعت چار دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں