ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور منظور پشتین کا جواب: ’مطالبات میں سے ایک بھی حل نہیں ہوا ہے‘

آصف غفور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کہا ہے کہ اُن کے مطالبات تین نہیں بلکہ چھ ہیں جن میں سے اُن کے بقول ایک بھی حل نہیں ہوا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے پریس کانفرنس کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے منظور پشتین کا کہنا تھا ’ہمارا پہلا مطالبہ نقیب محسود کے قاتل راؤ انوار کو سزا کا تھا۔ سب کو پتہ ہے، کیا اُن کو سزا ملی؟‘

پی ٹی ایم کے خلاف کارروائی کے سوال کے جواب میں منظور پشتین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جائز مطالبات کے حق کے لیے اسی طرح بھرپور آواز اُٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی ایم جلسہ یا لاپتہ افراد کا اجتماع

منظور پشتین کون ہے؟

کیا پی ٹی ایم اصل مقصد سے ہٹ گئی؟

’اگر پاکستان ہماری ریاست ہے، تو ہمارے مطالبات حل کریں اور اگر آقا اور غلام کا معاملہ ہے تو پھر وہ ظلم کرتے رہیں ہم سہتے رہیں گے۔‘

اِس سے پہلے آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا بریفنگ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں کہا تھا کہ فوج ان کے مطالبات فرداً فرداً پورے کر رہی ہیں لیکن ’اگر انھوں نے حد پار کی تو ریاست صورتحال پر قابو پانے کے لیے اختیارات کا استعمال کرے گی‘۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں سکیورٹی کی صورتحال میں گذشتہ 15 سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے اور لاپتہ افراد کے ہزاروں کیسز حل ہو چکے ہیں۔

پی ٹی ایم کے مطالبات اور فوج کی تنبیہہ

پاکستانی فوج کے ترجمان نے پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے فاٹا اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تین مطالبات تھے، چیک پوسٹوں میں کمی، بارودی سرنگوں کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جنگی صورتحال میں حالات الگ ہوتے ہیں اس لیے 2016 میں فاٹا اور کے پی 469 چیک پوسٹیں تھیں اور اب یہ 331 ہیں۔ اگر آج سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوجائے اور اس میں ایک بھی چیک پوسٹ کی ضرورت نہ رہے تو ہم ایک بھی چیک پوسٹ نہیں رکھیں گے۔‘

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ وہاں موجود اہلکار ملک کے مختلف حصوں سے ہیں اور وہ وہاں مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی جانب تو امن کی بہتری کی تاہم ابھی افغانستان کی طرف خلا باقی ہے اور ان کا سرحد پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔ اگر وہاں بہتری ہو جائے تو ہم وہاں تعینات دو لاکھ فوج آج واپس بلا لیں۔ لیکن ابھی سرحد کے پار صورتحال بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم سرحد پر باڑ بھی لگا رہے ہیں۔ جس کے بعد سرحد پار سے خطرے میں کمی ہو جائے گی۔‘

’دوسرا مطالبہ تھا کہ بارودی سرنگیں ختم کی جائیں اس کام کے لیے انجینیئرز کی 43 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ اور 44 فیصد حصہ کلیئر کر دیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption منظور پشتین

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا ’یہ یاد رکھیں کہ اس علاقے میں جنگ ہوئی ہے 15 سال، حالیہ اور اس سے پہلے بھی ماضی میں افغان جنگ کے دوران بارودی سرنگوں سے کئی فوجی بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہم وہ علاقہ ایک دن ضروری بارود سے صاف کر دیں گے‘۔

فوج کے ترجمان نے بتایا تیسرا مسئلہ لاپتہ افراد ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’پی ٹی ایم نے ابتدائی فہرست سات ہزار سے نو ہزار تک لوگوں کی دی۔ 2010 میں ایک کمیشن بنا۔ ایک طرف یہ کیسز اس کمیشن اور عدالتوں میں تھے۔ روزانہ کی بنیادوں پر ان کی سماعت ہو رہی ہے تو سات ہزار میں سے چار ہزار کیسز حل ہو چکے ہیں۔ جبکہ تین ہزار کیسز چل رہے ہیں‘۔

’15 سالہ جنگ میں کئی لوگ مارے گئے کئی لوگ ٹی ٹی پی کی فوج میں اب بھی ہیں۔ اب یہ کیسے ثابت ہوگا کہ وہ ان کا حصہ نہیں یا کسی اور جنگجو گروہ میں نہیں۔‘

’جہاں تک جذبات اور احساسات کا تعلق ہے کوئی بھی پاکستانی جو کسی بھی وجہ سے لاپتہ ہے وہ ہمیں بھی اتنا ہی عزیز ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوگی ہے کہ باقی لاہتہ افراد کے بارے معاملات بھی آگے بڑھیں۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’آپ نے یہ بھی دیکھا کہ پی ٹی ایم اپنے مطالبات سے آگے بھی بڑھ گئی۔ وقت آنے پر اس کی تفصیل بھی بتائیں گے‘۔

اسی بارے میں

’مشران محبت سے بات کرتے تھے تو کوئی نہیں سنتا تھا‘

’منظور پشتین نے ہمارا خوف ختم کر دیا ‘

فوج کے خلاف بھڑکانے پر پی ٹی ایم کے خلاف مقدمات

’کئی لوگوں نے کہا کہ آپ نے پی ٹی ایم کے ساتھ سخت ہاتھ نہیں رکھا۔ انھوں نے ایسے نعرے بھی لگائے جنہیں ایک فوجی ہوتے ہوئے یا کسی شہید کی خاندان ہوتے ہوئے برا محسوس ہوتا ہے۔‘

’چونکہ کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے اس لیے ان کے ساتھ اب تک نرمی سے پیش آئے اور بات چیت سے آگے بڑھیں۔ اس کی دو وجوہات تھی۔ ان لوگوں نے جنگ دیکھی، فوجی آپریشنز میں تکلیف اٹھائی۔ ہمارے لوگ ہیں دکھی ہیں، نقصان ہوا۔ انہوں نے زبان سے ضرور باتیں کیں لیکن ابھی تک تشدد نہیں کیا۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی شکایات پر حکومت اور فوج پہلے ہی کام شروع کر چکی تھی۔ جن میں سڑکیں، ذریعہ معاش، کیڈٹ کالج وغیرہ’۔

’جہاں تک ان کے ان تین مطالبات کا تعلق تھا ریاست نے انہیں اپنا سمجھ کر تعاون کیا لیکن اب یہ جس طرف جا رہے ہیں وہاں وہ حد عبور کر سکتے ہیں اور ہم اپنا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔‘

’میری ان سے درخواست ہے کہ پر امن پاکستانی کا کردار ادا کریں اور اس نہج پر نہ جائیں کہ ریاست کو اپنا زور لگا کر صورتحال کو قابو کرنا پڑے۔‘

خیر پختونخوا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا افغانستان اور فاٹا سے متصل صوبہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ شدت پسندی کا شکار ہوا۔

بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 15 سال میں ملک بھر میں دہشت گرد حملے کم ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تپا کہ سنہ 2013 میں اوسطاً ہر مہینے سات سے آٹھ حملے ہو جاتے تھے لیکن اب 2018 تک یہ تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا ’آج کل جاری آپریشنز کے بعد بہت جلد ہم مکمل امن کی طرف جا رہے ہیں۔‘

بلوچستان میں سکیورٹی کا مرکز تبدیل

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کے جغرافیائی علاقے کا 43 فیصد ہے اور یہاں سکیورٹی کے لیے 70 ہزار کے قریب اہلکار تعینات ہیں۔ تاہم حال ہی میں فوجی سربراہ کے دورے کے بعد فوج کی تعیناتی کا طریقہ کار بدلہ گیا ہے اور زیادہ توجہ سی پیک جیسے اقتصادی منصوبوں کے تحفظ کے لیے کی جار ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بھی شدت پسند کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔

ان کے مطابق چونکہ فاٹا اور خیرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اس لیے افواج پاکستان کی توجہ بلوچستان کی صوتحال پر ہے۔

اس موقع پر انھوں نے بلوچ جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے اور صوبے کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

کراچی کا ذکر کرتے ہوئے فوج کے ترجمان نے سندھ رینجرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انھوں نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

آپریشن رد الفساد

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق اس آپریشن کے تحت 44 بڑے آپریشن ہوئے۔ متعدد افراد پر مقدمات چل رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ملک کو اسلحے سے پاک کرنے میں زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ اور اس حوالے سے حکومت کے ساتھ مل کر لائسنس کے اجرا اور قانونی سازی کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک بھر سے 32000 اسلحہ اور بڑی تعداد میں گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

مشرقی سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال

ان کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پچھلے دو سال میں خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2017 میں 18881 اور اس سال اب تک 2593 خلاف ورزیاں ہوئیں۔ سال 18 میں 55 شہری ہلاک ہوئے 300 زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان پر خدشات ہیں اور ہمیں امید ہے کہ انڈیا اس بات کو سمجھے کے اس خلاف ورزی کا دونوں ملکوں کے تعلقات پر کیا اثر پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان حکومت نے انڈین حکومت کے ساتھ کئی امن اقدامات کیے تاکہ دونوں ملکوں میں کسی طرح تعلقات بہتری کی طرف جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت مذاکرات کے لیے رضا مند نہیں ہے ’آپ نے دیکھا کرتار پور میں سکھ برادری کی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں آسانی کے لیے پاکستان نے قدم اٹھایا اور راہداری بنائی اس پر بھی ان کے میڈیا میں اس پر منفی تاثر دیا جا رہا ہے۔‘

’امید ہے کہ انڈیا اس پر مثبت جواب دے گا‘۔

اسی بارے میں