خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں سکیورٹی گارڈ کا مریضوں کا ’معائنہ‘، چھ اہلکار معطل

گارڈ ڈاکٹر تصویر کے کاپی رائٹ Anwar Zeb/Facebook

خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے سرکاری ہسپتال خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں مبینہ طور پر ایک سکیورٹی گارڈ کے مریضوں کا معائنہ کرنے کا واقعہ پیش آنے کے بعد ہسپتال نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔

ہسپتال کے ترجمان فرہاد خان نے بی بی سی کے نامہ نگار اظہاراللہ کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً دو سے تین بجے کے درمیان پیش آیا ہے جہاں ایک سکیورٹی گارڈ ڈاکٹر یا نرس کی کرسی پر بیٹھ کر مریضوں کا بلڈ پریشر چیک کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وردی میں ملبوس ایک سیکورٹی گارڈ مریض کا معائنہ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور کے ہسپتالوں میں 700 کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ

خیبر ٹیچنگ ہسپتال: نرس کو ہراساں کرنے پر ڈاکٹر برخاست

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ہسپتال کے ایمرجنسی روم کے ساتھ متصل ٹرائی ایج کمرہ ہے جہاں پر پہلے مریضوں کا بلڈ پریشر، بخار چیک کیا جاتا ہے اور پھر اس کو ڈاکٹر کے پاس ڈاکٹر روم میں بھیج دیا جاتا ہے۔

'اسی کمرے میں نرس بیٹھے ہوتے ہیں جہاں وہ مریضوں کا بلڈ پریشر، بخار چیک کرتے ہیں اور پھر ان کو ڈاکٹر کے پاس بھیج دیتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Anwar Zeb/Facebook

ہسپتال کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق اس واقع میں ملوث چھ میڈیکل اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔

ان چھ اہلکاروں میں نائٹ شفٹ کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر عنایت اللہ، نائٹ شفٹ کے دو سروس لائن منیجر صدام حسین اور امیر بادشاہ، انچارج نرس سعید اللہ، شاہدہ شمس اور نورین فضل کو معطل کیا گیا جبکہ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی گارڈ کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KTH PESHAWAR

ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا سکیورٹی گارڈ کو اس کمرے میں آنے کی اجازت ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی انتظامیہ سکیورٹی گارڈ کو جہاں ضرورت ہو وہاں تعینات کرتی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی نے شرارت کی ہو اور ایک سکیورٹی گارڈ کو نرس کی کرسی پر بٹھا کر اس کی تصاویر لے لی گئی ہوں لیکن یہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد پتہ لگ جائے گا۔

'ایسا ممکن ہے کہ نرس اسی وقت کسی ضرورت کے پیش نظر باہر گئی ہوں اور سکیورٹی گارڈ ان کی کرسی پر آکر مریضوں کا بلڈ پریشر چیک کر رہا ہو۔'

اسی بارے میں