صحافی نورالحسن کا پشاور میں قتل: ’جس کے خلاف خبر چھپتی ہے وہ صحافی کا دشمن بن جاتا ہے‘

پاکستان
Image caption مقتول صحافی نورالحسنن کا تعلق نوشہرہ کے علاقے شیدو سے تھا تاہم وہ گزشتہ کئی برسوں سے پشاور میں مختلف ٹی وی چینلوں سے وابستہ رہے

نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی نورالحسن کے بھائی محمود الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی نورالحسن اپنے کیمرہ مین اور ڈرائیور سمیت کسی صحافتی ذمہ داری نبھانے کے سلسلے میں جا رہے تھے جب ان پر حملہ کر کے انھیں قتل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی یا لین دین کا کوئی تنازعہ نہیں تھا۔

ان کے مطابق ان کے بھائی کی ہلاکت ہدف بنا کر قتل کا واقعہ ہے جس کا نشانہ ان کے بھائی اور کیمرہ مین تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس کے خلاف خبر چھپتی ہے وہ صحافی کا دشمن بن جاتا ہے لیکن اب یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ ان کے بھائی کو کس نے اور کس وجہ سے ٹارگٹ کیا۔

صحافیوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں پڑھیے

’صحافیوں پر حملے، صحافی ہی خاموش‘

کیا پاکستان میں میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہے؟

کیا صحافیوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے؟

کیا اسلام آباد صحافیوں کے لیے غیر محفوظ بنتا جا رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صحافی نورالحسن پر حملہ کیسے ہوا؟

پشاور پولیس کے مطابق مسلح موٹر سائیکل سواروں نے مقتول کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے گاڑی چلانے والے نورالحسن ہلاک جبکہ ان کے کیمرہ مین شدید زخمی ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں نائن ایم ایم پستول کا استعمال کیا گیا ہے۔

پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی فوٹیج حاصل کرلی ہے جس میں مسلح موٹر سائیکل سوار کار پر فائرنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی کی ہدایت پر ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جس کی سربراہی پشاور پولیس کے سربراہ قاضی جمیل کر رہے ہیں اور تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں پشاور پولیس کے سربراہ قاضی جمیل سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

نور الحسن کون تھے؟

مقتول نورالحسن کا تعلق نوشہرہ کے علاقے شیدو سے تھا تاہم وہ گزشتہ کئی برسوں سے پشاور میں مختلف ٹی وی چینلوں سے وابستہ رہے۔ ان کی عمر 53 برس تھی جبکہ وہ گزشتہ بیس سال سے صحافت کے شعبے سے منسلک تھے۔

مقتول نے اپنی صحافتی کیرئیر کا آغاز اردو اخبارات میں کام کرنے سے کیا لیکن ٹی وی چینلز آنے کے بعد وہ مستقل طور پر ان سے وابستہ ہوگئے تھے۔

وہ کچھ عرصہ صوابی میں بھی بحثیت صحافی کام کرچکے ہیں جسکی وجہ سے وہ صوابی پریس کلب کے رکن بھی رہے۔ نوشہرہ کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ مقتول صحافی کبھی کبھار افغانستان کے واقعات کی رپورٹنگ بھی کیا کرتے تھے اور کچھ طالبان کمانڈروں کے انٹرویوز بھی کرچکے تھے۔

نورالحسن اکثر اوقات پشاور کے صحافیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے اور جب بھی نوشہرہ یا آس پاس کے علاقوں میں کوئی بڑی خبر سامنے آتی تو فوراً رابطہ کر کے تمام تفصیلات فراہم کر دیتے تھے۔

مقتول نے اپنے پیچھے بیوہ اور تین جوان بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صحافیوں کا ردعمل

پشاور اور نوشہرہ کے صحافتی تنظیموں کی طرف سے صحافی نورالحسن کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں صحافیوں نے سڑک پر لیٹ کر احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔

نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی نورالحسن کو پیر کی شام پشاور کی رِنگ روڈ پر فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔

نوشہرہ میں احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے نورالحسن کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مقتول صحافی کے لواحقین کو شہدا پیکج دیا جائے اور صحافیوں کو فرائض سرانجام دیتے ہوئے تحفط فراہم کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ صلاح الدین محسود نے صحافی نورالحسن کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں