زلمے خلیل زاد کا دورہ اسلام آباد: افغان طالبان پر ’بچا کھچا‘ پاکستانی اثر و رسوخ یا کچھ اور۔۔۔

عمران، ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جس قسم کی زبان امریکی صدر نے پاکستان کے لیے اس سال کے پہلے دن استعمال کی وہی حالیہ دنوں میں بھی پڑھنے کو ملی

وزیر اعظم عمران خان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد مانگی ہے۔

ایک ایسے وقت جب امریکہ خود طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے اسے پاکستان کی کیا ضرورت ہے؟ وہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟

وزیر اعظم کے دفتر سے اس مکتوب کی کوئی اصل کاپی تو جاری نہیں کی گئی لہذٰا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ امریکی انتظامیہ نے کیا الفاظ استعمال کیے اور اس کا سیاق و سباق کیا تھا، لیکن اگر وزیر اعظم نے اس کا احاطہ اچھے طریقے سے کیا ہے تو اس سے مراد یہی لی جا سکتی ہے کہ افغان طالبان پر ’بچے کھچے‘ پاکستانی اثر و رسوخ سے کام لینے کی استدعا کی گئی ہو گی۔

اس خط کو عمران خان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹوئٹر پر حالیہ بیانات کی جنگ کے بعد ایک صحت مند پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ پیغام تو ہمیشہ کی طرح ’ڈو مور‘ ہی ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

’ٹرمپ اور عمران ایک دوسرے سے مخاطب ہی نہیں‘

طالبان سے مذاکرات کے لیے کمیشن کا اعلان

ماسکو کانفرنس میں طالبان کی شرکت کتنی اہم؟

جس قسم کی زبان امریکی صدر نے پاکستان کے لیے اس سال کے پہلے دن استعمال کی وہی حالیہ دنوں میں بھی پڑھنے کو ملی۔ اس مکتوب سے محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو امریکہ انتظامیہ ڈرانے کے لیے اور سفارتی چینلز کے ذریعے متاثرین کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش جیسی دو پالیسیاں چلا رہی ہے لیکن مقصد ایک ہے کہ کسی طرح پاکستان کو افغان طالبان کی پشت پناہی سے پیچھے ہٹانا۔

امریکی انتظامیہ میں اگر صدر ٹرمپ سفارتی آداب کو بالاطاق رکھتے ہوئے جارحانہ ٹویٹ کرتے ہیں تو ویسے ہی چند لوگ پی ٹی آئی حکومت میں بھی ہیں۔ نہیں معلوم کہ وزیر حقوق انسانی شیریں مزاری کا امریکی ایلچی سے ان کے دوروں کے دوران کتنا سرکاری میل جول ہوتا ہے لیکن ان کی تازہ ٹویٹ ٹرمپ رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔

اس ٹویٹ میں شیریں مزاری نے امید ظاہر کی کہ زلمے خلیل زاد ماضی کی طرح اپنے اس دورے میں تکبر اور جارحانہ ذہن کے ساتھ اسلام آباد نہیں آئیں گے۔

زلمے خلیل زاد کی خصوصی ایلچی بننے سے قبل پاکستان مخالف نظریات کسے نہیں معلوم، لیکن جیسے پی ٹی آئی کے انتخابات سے قبل اور بعد کے بیانات میں تبدیلی ہے تو امید کرنی چاہیے کہ وہ بھی یقیناً سفارتی آداب کو اب زیادہ خاطر میں لائیں گے۔ شیریں مزاری کو عوامی سطح پر اس کا تقاضہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

پاکستان کے سابق سینیئر سفارت کار عاقل ندیم کہتے ہیں کہ اگر اب بھی امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان کا پرامن حل ممکن نہیں جو کہ اسلام آباد کے لیے اچھی بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان پر امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کا دورہ اسلام آباد حالیہ چند ماہ میں اس خطے کے متعدد دوروں کا تسلسل ہے

’افغانستان میں کوئی بھی حل ہمارے مفاد میں ہے اور اگر اب امریکیوں کو کئی کوششوں کے بعد اس کا احساس ہوا ہے کہ اسے محض پاکستان کی امداد سے حل کیا جا سکتا ہے تو ہمیں اپنے علاقائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ممکن مدد کرنی چاہیے۔‘

پاکستان کا طالبان پر اثر رسوخ جتنا بھی کم رہ گیا ہو ہے ضرور۔ اگرچہ وہ اب پاکستان سے اپنی کارروائیاں شاید بقول سکیورٹی ادارے نہیں چلا رہے ہوں لیکن یہاں اب بھی موجود ہیں۔ ان کی موجودگی ہی وہ اثر و رسوخ ہے جس کی جانب شاید امریکہ بار بار اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان کے مطابق لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی موجودگی میں یہ معلوم کرنا کہ کون طالب ہے اور کون نہیں اس کے لیے مشکل ہے۔

اب تو افغان طالبان نے بھی اردو زبان میں اپنے بیانات جاری کرنے کم کر دیے ہیں۔

’ کسی ملک کا نام بتائیں جس نے اتنی قربانیاں دی ہوں‘

ٹرمپ کی ٹویٹ پر پاکستانی ناراض،انڈین خوش

امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

افغانستان پر امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کا دورہ اسلام آباد حالیہ چند ماہ میں اس خطے کے متعدد دوروں کا تسلسل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ تمام تندہی سے حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خلیل زاد نے ان دوروں میں کم از کم اتنی کامیابی تو حاصل کی کہ افغان طالبان کے ساتھ ایک رابطہ استوار کر لیا ہے، ابتدائی بات چیت بھی کی ہے اور مستقبل میں بھی اس کی امید ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ اگرچہ مذاکرات بھی کر رہا ہے لیکن میدان جنگ کو بھی گرم رکھے ہوئے ہے

ان کی آمد کے موقع پر ایک سینیئر طالبان رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ایک وفد بھی قطر سے مذاکرات کو آگے کیسے لے کر چلنا ہے پر مشاورت کے لیے پاکستان میں ہے۔ ان کی آپس میں کوئی ملاقات متوقع ہے یا نہیں اس بارے میں سرکاری طور پر تو کچھ نہیں کہا گیا ہے لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

لیکن دو باتیں ایسی ہیں جنھوں نے یقیناً اس گرمجوشی کے عمل کو جھٹکا پہنچایا ہو گا۔ ایک تو طالبان کے سینیئر رہنما ملا عبدالمنان کی ہلاکت اور دوسری نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس سٹولٹنبرگ کا وہ بیان کہ افغانستان سے انخلا وہاں موجود رہنے سے زیادہ مہنگا ہو گا۔

پاکستان میں بھی اس سے قبل پاکستانی طالبان کے رہنما حکیم اللہ محسود کو امریکیوں نے ڈرون کے ذریعے اس وقت نشانہ بنایا جب حکومت پاکستان ان سے مذاکرات کی کوشش کر رہی تھی۔ یہاں بھی امریکہ اگرچہ مذاکرات بھی کر رہا ہے لیکن میدان جنگ کو بھی گرم رکھے ہوئے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک سینیئر طالبان رہنما نے بتایا کہ ان کا ایک وفد بھی قطر سے مذاکرات کو آگے کیسے لے کر چلنا ہے پر مشاورت کے لیے پاکستان میں ہے

ادھر طالبان بھی حملوں سے متعلق یہی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں تو ایسے میں کسی مثبت پیش رفت کے امکانات انتہائی کم دکھائی دے رہے ہیں۔ کسی بھی مذاکرات کی حتمی کامیابی نہ سہی لیکن جزوی یہی ہوتی ہے کہ کم از کم میدان جنگ کو عارضی طور پر ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے۔ نہ طالبان اور نہ ہی امریکہ نے ایسا کوئی اشارہ دیا ہے۔ اسی وجہ سے مذاکرات کے ساتھ ساتھ افغانستان میں میدان جنگ بھی کافی گرم ہے۔

افغان امور کے ماہر اور سینیئر صحافی سمی یوسفزئی کا ماننا ہے کہ ملا عبدالمنان کی ہلاکت سے شاید مذاکرات پر کوئی زیادہ اثر نہ پڑے کیونکہ وہ خود مصالحت سے متعلق کافی سخت گیر ثابت ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے جانے سے مذاکرات کی طالبان کے اندر لابی شاید مضبوط ہو گی۔ لیکن انہیں خدشات پھر بھی ہیں۔

’گذشتہ 40 برسوں میں جب بھی امن کا کوئی اچھا موقع افغانوں کہ ہاتھ آیا اسے ہمیشہ گنوا دیا گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اب بھی ایسا ہی نہ ہو۔‘

اسی بارے میں