گناہ ٹیکس: تمباکو اور سافٹ ڈرنکس پر ٹیکس ضرور لگائیں، ’لیکن گناہ اور ثواب کا نام تو نہ دیں'

پاکستان میں تقریباً 32 فیصد مرد، چھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں تقریباً 32 فیصد مرد، چھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان میں پہلے ’گناہ سے بچنے کے لیے پُھونک پُھونک کر قدم رکھنا پڑتا تھا‘، مگر اب تو پُھونکنا ہی گناہ بن گیا ہے‘۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیرِ صحت نے دو روز قبل ہی عندیہ دیا کہ حکومت اب سگریٹ اور سافٹ ڈرنکس پر اضافی ٹیکس لگائے گی جس کا نام 'سِن یعنی گناہ ٹیکس' ہوگا۔

سوشل میڈیا پر تو اس کا ردعمل لازمی تھا ہی، لیکن مقامی کیفیز اور بازاروں میں بھی لگتا ہے کہ یہ معاملہ خاصا گرم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خاکی انڈے

میمز کے سو دن

عمران حکومت کے 100 دن: ’ہم مصروف تھے‘ کے اشتہار

اسلام آباد ہی کی ایک جامعہ میں ایک طالب علم نے کہا کہ 'سگریٹ نوشی گناہ ہی ہے تو اس پر مکمل پابندی لگا دیں، یہ کیا کہ گناہ ہے مگر ٹیکس دے کر کر لیں یہ گناہ'۔

کچھ نوجوانوں نے سگریٹ کو 'تھوڑا سا گناہ‘ مان بھی لیا مگر سافٹ ڈرنکس پی کر بھی گناہگار؟ یہ بات اُن کے لیے سمجھ سے بالاتر ہے!

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سگریٹ میں تو 'تھوڑا سا گناہ‘ ہے ہی، مگر کیا سافٹ ڈرنکس پی کر بھی بندہ گناہ گار ہو جاتا ہے؟

’سِن ٹیکس‘ کی اصطلاح نئی نہیں

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ 'سِن ٹیکس' کی یہ اصطلاح پی ٹی آئی نے نہیں بنائی، بلکہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصطلاح ہے جو شراب سمیت مضرِ صحت مصنوعات، پورنوگرافی اور سٹے بازی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اس قسم کے ٹیکسز امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہیں، یہاں تک کہ عالمی ادارہ صحت نے فلپائن میں 2012 میں سگریٹ پر نافذ کیے گئے 'سِن ٹیکس' کو انتہائی کامیاب قرار دیا کیونکہ اِس ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے غریب شہریوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملی۔ جبکہ عرب ممالک میں یو اے ای اور سعودی عرب میں بھی مختلف مصنوعات پر سِن ٹیکس نافذ ہے۔

پاکستان کے وزیرِ صحت کے مطابق انڈیا میں بھی پان اور گٹکے پر 'گناہ ٹیکس' لگایا جاتا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں اس ٹیکس کے نام پر بحث بھی کی جاتی ہے، جیسا کہ ایک شہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'کیا سگریٹ نوشی اور کولڈ ڈرنک پینا ہی گناہ ہے؟ گناہ تو بہت سے ہیں اور بہت بڑے ہیں، ان کو بھی ڈیکلیئر کر دیں'۔

اسی طرح ملیحہ ہاشمی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’اگر سگریٹ نوشی کرنے والوں پر ’سِن ٹیکس‘ لگایا جا رہا ہے تو کیا ہم جیسے تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو کوئی ’ثواب الاؤنس‘ ملے گا۔‘

پاکستان میں کئی شہریوں کا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے میں جہاں مذہب کا رنگ لگنے اور گناہ اور ثواب کی لکیر لگا دینے کے بعد ہر معاملہ جس تیزی کے ساتھ انتہا پسندی کی جانب جاتا ہے، ایسے میں اس قسم کے نام دے دینا 'حماقت' ہے۔ ایک نوجوان اسامہ نے کہا کہ 'سگریٹ سے زیادہ ریاست کی پالیسیاں لوگوں کو نقصان پہنچا دیتی ہیں'۔

مقامی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے کہا کہ 'سافٹ ڈرنکس اور سگریٹ پر ٹیکس بے شک لگائیں مگر اسے 'گناہ' کا نام دینا غلط اور ناقابلِ قبول ہے'۔

یہ بھی پڑھیے

مردوں کے مقابلے میں خواتین کے زیراستعمال اشیا مہنگی کیوں؟

فرانس ’حلال ٹیکس‘ کیوں نافذ کرنا چاہتا ہے؟

ایک اور خاتون کہتی ہیں کہ وہ تو تعلیم یافتہ ہیں اور انہیں مذہب میں گناہ و ثواب اور حلال و حرام سے متعلق مکمل آگاہی ہے، لیکن 'غیر تعلیم یافتہ طبقہ اس قسم کے ناموں سے ضرور متاثر ہو سکتا ہے۔‘

Image caption 'میڈم بکتا وہی ہے جو خراب ہو، باقی کولڈ ڈرنک اور سگریٹ حلال ہیں!‘

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان دنیا کے ان پندرہ ممالک میں سے ایک ہے جہاں تمباکو نوشی سے منسلک بیماریاں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔

پاکستان میں تقریباً 32 فیصد مرد، چھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ ایس ڈی پی آئی نامی غیر سرکاری تنظیم کے 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ شہریوں کی تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں سے اموات ہو رہی ہیں۔

ایک طالب علم نعمان نے کہا کہ 'یہ (حکومت) ایک طرف اسلام درمیان میں لا رہی ہے اور دوسری طرف سیاست بھی کر رہی ہے۔ ٹیکس لگانے سے تمباکو نوشی پر فرق نہیں پڑے گا، تمباکو نوشی کم کرنے کا طریقہ آگاہی پیدا کرنا ہے‘۔

لیکن ایک دکاندار نے تو صاف کہہ دیا، 'میڈم بکتا وہی ہے جو خراب ہو، باقی کولڈ ڈرنک اور سگریٹ حلال ہیں'۔

اسی بارے میں