کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والا طالب علم خود بھائی سمیت لاپتہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
'جس گھر کے دو جوان لڑکے اٹھائے جائیں اس کا کیا عالم ہوگا؟'

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والا ایک طالب علم اپنے بھائی سمیت لاپتہ ہوگیا ہے۔

لاپتہ ہونے والے طالب علم جئیند بلوچ اور ان کے چھوٹے بھائی حسنین کا تعلق کوئٹہ شہر سے ہے، جہاں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ میں علامتی بھوک ہڑتال میں شریک بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی وائس چیئرپرسن طیبہ بلوچ نے بتایا کہ جیئند بلوچ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں سے اظہار یکجہتی کے لیے اکثر کیمپ آیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

لاپتہ طالب علم سعید بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاج

کوئٹہ کی سڑکوں پر اتنی خواتین کیوں احتجاج کر رہی ہیں؟

2018 میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ

جئیند بلوچ کی بہن مہ رنگ بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جیئند بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، جبکہ حسنین سائنس کالج کوئٹہ کے طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیئند چھٹی پر کوئٹہ آئے تھے۔

مہ رنگ بلوچ کے مطابق 30 اور 31 نومبر کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے کالے یونیفارم اور سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ ان کے گھر میں داخل ہوئے اور دونوں بھائیوں اور والد کو گھر سے لے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ والد کو دو روز بعد چھوڑ دیا گیا مگر دونوں بھائی تاحال لاپتہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے والد بیمار رہتے ہیں۔ ’رہائی کے بعد تاحال ہماری والد سے بات نہیں ہوئی۔ بیمار ہونے کے باعث تاحال ہم نے والد سے نہیں پوچھا کہ ان کو اٹھانے والے کون تھے اور ان سے کیا پوچھ گچھ کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’جتنا ہمارا اندازہ ہے کہ یہ وہی لوگ تھے جو لوگوں کو اٹھاتے ہیں۔ اغوا برائے تاوان والے تو گھروں کے اندر گھس کر لوگ نہیں اٹھاتے ہیں۔‘

’اب ہم مجبوری کے تحت سڑکوں پر نکلے ہیں۔۔۔ بے پناہ مجبوری۔ گھر سے دو نوجوان لڑکے اٹھائے جائیں تو اس گھر کا کیا عالم ہوگا۔‘

مہ رنگ کا کہنا تھا کہ ’ہم بہن بھائی ایک دوسرے کے بہت قریب رہے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ ان کا کوئی قصور ہوگا یا جرم ہوگا ۔میرے بھائیوں کو بلاوجہ وہ اٹھاکر لے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا کوئی قصور ہے یا ان پر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ یہ عدالت اور یہ قانون کس کام کے ہیں۔

تاحال لاپتہ افراد طالبعلوں کے رشتہ داروں نے کوئٹہ صدر پولیس سٹیشن میں ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج نہیں کرایا ہے۔

دوسری جانب صدر پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک دونوں لاپتہ طالب علموں کے رشتہ دار مقدمہ درج کرانے تھانے نہیں آئے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ہم نے طالب علموں کے رشتہ داروں سے رابطہ کیا تھا لیکن وہ ابھی تک نہیں آئے۔

’کوئی بھی گمشدہ پاکستانی ہمیں اتنا عزیز ہے جتنا ہونا چاہیے‘

جمعرات کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے گمشدہ افراد اور ان کی بازیابی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ سنہ 2010-11 میں جبری طور پر گمشدہ افراد پر ایک کمیشن بن گیا۔ جسٹس فضل اس وقت اس کے سربراہ تھا اور اب اس کے سربراہ جسٹس جاوید ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اگر سنہ 2010-11 سے مجموعی طور پر کیسز کو دیکھا جائے تو تقریبا 7000 کیسز سامنے آئے۔ ان 7000 کیسز میں سے 4000 سے زائد کیسز حل ہو چکے ہیں جبکہ 3000 سے زائد کیسز ابھی بھی زیرسماعت ہیں۔ ان میں سے 2000 سے زائد کیسز اس کمیشن کے پاس ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان افغانستان میں موجود ہے تو یہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے کہ جو لوگ گمشدہ ہیں وہ ٹی ٹی پی میں شامل نہیں ہیں یا کہیں اور جہاں لڑائی ہو رہی ہو وہاں کسی فورس کا حصہ نہیں ہیں، یا جو مارے گئے ہیں ان میں شامل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی پاکستانی جو گمشدہ ہے اس کی گمشدگی کا انھیں بھی اتنا عزیز ہے جتنا ہونا چاہیے، اصل نقصان تو خاندان کا ہوتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ گمشدہ افراد کے کمیشن کا کام آگے بڑھے اور جو اب بھی گمشدہ افراد ہیں ان کی کھوج لگ سکے۔

اسی بارے میں