اسلام آباد میں ’وائلڈ پولیو وائرس‘ کی تشخیص، مہم 20 دسمبر تک چلے گی

Image caption اسلام آباد میں پولیو کے پلانے کی مہم 20 دسمبر تک چلے گی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سبزی منڈی کے علاقے سے پولیو وائرس کی تشخیص کے لیے لیا گیا سامپل (نمونہ) مثبت آنے کے بعد شہر میں پولیو مہم شروع ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ مہم 20 دسمبر تک چلے گی۔

اس وائرس کی بنیاد کیا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمیشنر اسلام آباد محمد حمزہ شفقت نے بتایا کہ ماحولیاتی سامپل میں جو وائرس پایا گیا ہے اس کا تعلق کابل، افغانستان سے ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس کو ’وائلڈ پولیو وائرس‘ کا نام دیا ہے جس کی بنیاد افغانستان میں پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

پاکستان اس سال بھی ’پولیو فری‘ نہ ہو سکا

بلوچستان میں پولیو کے نئے کیس کی تصدیق

پولیو قطرے پلانے سے انکاری والدین کو منانے کی کوشش

انھوں نے کہا کہ سبزی منڈی کا علاقہ جہاں سے یہ سامپل لیا گیا، وہاں زیادہ تر آبادی افغان پناہ گزینوں کی ہے۔ ساتھ ہی آئی 12 ہے جہاں افعان پناہ گزینوں کی کچی آبادی بھی موجود ہے جس کو اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین چلا رہا ہے۔

’ہم پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہے تھے۔ پچھلے پانچ، چھ سالوں میں ہونے والی بیشتر مہمات میں ہم نے یہی کیا لیکن ماحولیاتی سامپل چیک کرنے پر پولیو وائرس پھر نکل آیا۔‘

سامپل کی موجودگی کن علاقوں میں ہے؟

اس حوالے سے اس بار حکومت کی ٹیکنیکل ٹیم نے 10 سال تک کے بچوں کو اسلام آباد کے سیکٹرز آئی۔9، آئی۔10، آئی۔11، آئی۔12، ایچ۔11، ایچ۔12، ایچ۔13، نصیر آباد، چشتیاں آباد اور شمس کالونی میں پولیو کے قطرے پلانے کا ارادہ کیا ہے اور اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

Image caption اس وقت پاکستان دنیا کے تین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں پولیو کے 8 کیسز اب بھی موجود ہیں

آئی۔12 میں تقریباً آٹھ ہزار کنال کا علاقہ ہے جس میں صرف کچرا پھینکا جاتا ہے۔ لوگوں کی آبادی وہاں کچھ خاص نہیں ہے، کیونکہ الاٹمنٹ ہو نے کے باوجود لوگوں کو قبضہ نہیں دیا گیا ہے۔ آئی۔ 11 میں سبزی منڈی کا علاقہ ہے جہاں پھل اور سبزی کی مارکیٹ ہے۔ وہاں پر روزانہ دس سے پندرہ ہزار کام کرنے والے آتے ہیں۔ وہیں ساتھ ہی ایک فوجی کالونی لگتی ہے اور وہاں پر بھی ایک بہت بڑی کچی آبادی ہے۔

دس سال کے بچوں کو پولیو کے قطرے کیوں پلائے جارہے ہیں؟

پولیو کا یہ وائرس پیٹ میں رہتا ہے اور پیٹ سے خارج ہونے کے بعد یہ نالوں اور گٹروں میں پہنچ جاتا ہے۔ ’بچوں پر ان قطروں کا اثر تو ہو رہا ہے لیکن قطرے پینے کے باوجود یہ بچے اسی ماحول کا حصہ ہیں جہاں پر یہ وائرس موجود ہے۔ ہماری پریشانی یہ ہے کہ یہ سامپل کیوں زندہ رہ رہا ہے جبکہ ہم نے پانچ سال کے بچوں تک کو پولیو کے قطرے پلائے تھے۔ کہیں نہ کہیں یہ وائرس بچوں کے پیٹ میں رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ کچھ عرصے بعد دوبارہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً اس کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ تبھی پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کے بچوں کو بھی اس مہم میں شامل کیا گیا ہے۔ ہم نے پبلک سے اپیل کر کے سکولوں میں بھی بات چیت کی ہے تاکہ جتنے بھی دس سال کے بچے ہیں ان کو بھی قطرے پلائے جائیں۔ ‘

اس وائرس سے نمٹنے کا حل کیا ہے؟

ڈپٹی کمشنر شفقت نے بتایا کہ سردیوں کے موسم میں اس وائرس کے خلاف کام کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ گرمیوں میں اور مضبوط ہو جاتا ہے۔

Image caption پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے دوران مقامی انتظامیہ کے اہلکار

پاکستان میں پولیو کی مہم کس حد تک کامیاب ہے؟

اس وقت پاکستان دنیا کے تین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں پولیو کے آٹھ کیسز اب بھی موجود ہیں۔ صحت پر کام کرنے والے اداروں کے مطابق پچھلے چار سالوں میں ان کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔ جہاں 2014 میں ملک بھر میں 306 کیسز تھے وہیں اب صرف آٹھ رہ گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، اب بھی بہت سے ایسے خاندان ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف ہیں۔ اس وقت اسلام آباد میں 69 کیسز ایسے ہیں جہاں والدین نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سےانکار کر دیا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں جن علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف سب سے زیادہ مخالفت ہے ان میں ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی، بحریہ ٹاؤن اور ایف۔11 شامل ہیں۔

ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقت نے اس بارے میں کہا کہ تاثر یہی جاتا ہے کہ غریب اور ان پڑھ پولیو کے قطرے نہیں پلاتا ہوگا لیکن ہمارے پاس زیادہ تر تعداد ان لوگوں کی ہے جو بظاہر پڑھے لکھے ہیں۔

انکار کرنے والے لوگ تین وجوہات کی بنا پر انکار کرتے ہیں۔وہ لوگ زیادہ تر چند مخصوص ہسپتالوں پر اعتبار کرکے اپنے بچوں کو وہیں سے ٹیکے لگواتے اور قطرے پلواتے ہیں۔ ساتھ ہی زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ ایک بیرونی سازش کے تحت پاکستان میں پولیو کی مہم چلائی جا رہی ہے جس وجہ سے وہ انکار کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ مذہبی وجوہات کی بنا پر انکار کرتے ہیں۔

’وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے پہلے ہی اپنے بچوں پر دم درود پڑھ لیا ہے اس لیے آپ کی انگریزی مہم ہمارے کام کی نہیں ہے۔‘

اس کے ساتھ ایک چھوٹی آبادی ان عورتوں کی ہے جو گھر پر خاوند، بھائی یا باپ کی ناموجودگی کی وجہ سے گھر میں کسی پولیو ورکر، خواہ وہ مرد ہو یا کہ عورت، کو داخل نہیں ہونے دیتی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں