کوہستان میں ’غیرت کے نام‘ پر دو خواتین سمیت چار افراد قتل

Image caption سنہ 2012 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان سے ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں کچھ لڑکے رقص کر رہے تھے اور پانچ لڑکیاں تالیاں بجا رہی تھیں

خیبر پختونخواہ کے ضلع اپر کوہستان کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دور افتادہ پہاڑی قصبے لوٹر میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر دو خواتین سمیت چار افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ضلعی پولیس افیسر اپر کوہستان راجہ عبدالصبور نے بی بی سی کو بتایا کہ ان چاروں لوگوں کو جمعے کی شب رات ایک بجے کے قریب کھلے میدان میں قتل کیا گیا۔

ان کے قتل میں ہلاک کیے جانے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے چچا ذاد بھائی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم موقع واردات سے مفرور ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کوہستان: خواتین کے لیے موبائل فون موت کی علامت

’کوہستان قتل کیس میں فورنزک طریقہ کار استعمال کریں‘

کوہستان: ویڈیو کے دعویدار کے تین بھائی قتل

’کوہستان واقعے کی دوبارہ تحقیقات پر نوٹس جاری‘

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دولڑکے، 21 سالہ بوستان اور 19 سالہ حبیب شاہ، اور دو لڑکیاں، 18 سالہ یاسمین بی بی اور 21 سالہ گل بی بی، شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق قتل کیے جانے والوں کے والدین آپس میں چچاذاد رشتے دار ہیں۔

گاؤں کے لوگوں کے مطابق ان چاروں کو رات گئے قتل کیے جانے کے بعد ان کی لاشیں رات بھر میدان میں پڑی رہیں جنھیں سنیچر کی صبح مقامی لوگوں اور پولیس نے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

واضح رہے کہ ضلع کوہستان خیبر پختونخوا کا انتہائی دور افتادہ اور پسماندہ علاقہ ہے۔

سنہ 2012 میں ضلع کوہستان کے ایک گاؤں سے ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں کچھ لڑکے رقص کر رہے تھے اور پانچ لڑکیاں تالیاں بجا رہی تھیں جنھیں بعد میں مبینہ طور پر مقامی جرگے کے فیصلے پر قتل کر دیا گیا تھا۔

تاہم کوہستان پولیس نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچ لڑکیوں کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں چند روز قبل چار ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے اور مقامی عدالت سے ان کا آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔

اِن ملزمان کی گرفتاری کا حکم سپریم کورٹ نے دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں ایک شخص افضل کوہستانی نے درخواست دائر کی تھی جن کا کہنا ہے کہ ان کے تین بھائیوں کو بھی اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد مبینہ طور پر جرگے کے حکم پر قتل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں