کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی خواتین رشتہ داروں اور دودھ پیتے بچوں کا دھرنا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کے قریب واقع فیاض سنبل چوک پر لوگوں نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا جو وہاں لاپتہ افراد کی خواتین رشتہ داروں اور بچوں کے دھرنے کی وجہ سے بنا۔

سنیچر کو رات گئے تک خواتین اور بچے شدید سردی میں اس چوک کے ساتھ نہ صرف رضائیوں اور کمبلوں میں لپٹے بیٹھے رہے بلکہ اپنے آپ کو سردی سے بچانے کے لیے آگ بھی جلائی۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ان میں سے بعض خواتین اور بچوں کا تعلق بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے بھی تھا جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے علامتی بھوک ہڑتال میں شرکت کے لیے کوئٹہ آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کوئٹہ کی سڑکوں پر اتنی خواتین کیوں احتجاج کر رہی ہیں؟

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والا طالب علم لاپتہ

’اس حکومت کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں‘

پاکستان میں دس ماہ میں 899 افراد لاپتہ: رپورٹ

اگرچہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئٹہ میں پریس کلب کے قریب ایک احتجاجی کیمپ سنہ 2009 سے قائم ہے لیکن اس سال یکم نومبر سے اس کیمپ میں خواتین اور بچوں نے بھی علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھنا شروع کیا۔

سنیچر کی سہ پہر کو علامتی بھوک ہڑتال پر بھیٹی خواتین اور بچوں نے ایک ریلی نکالی۔ وہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ تک جانا چاہتے تھے، لیکن جب ان کی ریلی گورنر ہاؤس کے ساتھ فیاض سنبل چوک پہنچی تو پولیس اہلکاروں نے انھیں آگے نہیں جانے دیا۔

پولیس کی جانب سے روکے جانے پر وہ واپس بھوک ہڑتالی کیمپ نہیں گئے بلکہ شدید سردی کے باوجود انھوں نے اسی چوک کے ساتھ تھڑے پر پرامن طور پر دھرنا دیا۔

ان کا یہ مطالبہ تھا کہ وزیر اعلیٰ سے ان کی ملاقات کرائی جائے تو وہ دھرنے کو ختم کر کے واپس کیمپ جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا جس کے باعث ان کا دھرنا وہاں رات ایک بجے تک جاری رہا۔

اس دھرنے میں بعض خواتین ایسی بھی تھیں جن کے پاس دودھ پیتے بچے اور بچیاں بھی تھیں۔

رات کو ساڑھے دس بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن ریٹائرڈ طاہر نے دھرنے کے شرکا سے ملاقات کر کے ان کو یقین دہانی کرائی کہ اتوار کو ان کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرائی جائے گی لیکن دھرنے کے شرکا نہیں اٹھے۔

اس موقع پر پولیس کی نہ صرف بھاری نفری پہنچ گئی تھی بلکہ جیل کی دو گاڑیاں بھی لائی گئی تھیں۔

تاہم رات ایک بجے دھرنے کے شرکا سے ایک مرتبہ پھر ضلعی حکام نے ملاقات کی جس کے بعد کئی گھنٹوں سے جاری دھرنے کو ختم کیا گیا۔

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے شرکا نے دھرنے کے شرکا کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اتوار کو پہلے ان کی ملاقات صوبائی وزرا سے اور بعد میں وزیر اعلیٰ سے کرائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی خواتین اور بچوں کو وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن 20 روز گزرنے کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہیں ہوسکی جس کے باعث مجبوراً شدید سردی میں لاپتہ افراد کے لواحقین کو رات دیر تک دھرنا دینا پڑا۔

اسی بارے میں