کرپشن نہیں کشکول کے چھید بند کریں

خواجہ سعد رفیق تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption حزب اختلاف کے رہنما خواجہ سعد رفیق کو نیب کی گرفتاری سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

سب سے پہلے ایوب خان نے چور بازاری اور پرمٹ باز سیاستدانوں کے احتساب کا فیصلہ کیا، پھر یحیی خان نے 313 نوکر شاہوں کو بدعنوانی و گھپلے کے الزام میں برطرف کر دیا۔ پھر اگلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے 1400 بیورو کریٹس کو نااہلی و نامعلوم کرپشن کے سبب چلتا کیا۔

پھر اگلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضیا الحق نے 'پہلے احتساب پھر انتخاب' کی تلوار سونت لی اور بھٹو حکومت کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال اور سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے الزامات ثابت کرنے کے لیے سینکڑوں صفحات کے وائٹ پیپرز شائع کیے۔

ان کے بعد آنے والے صدر غلام اسحاق خان نے پہلے بے نظیر اور پھر نواز شریف حکومت کو کرپشن کے الزامات میں باہر کیا۔ پھر بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو اگلے صدر فاروق لغاری نے ان ہی الزامات کے تحت برطرف کیا۔ پھر نواز شریف کی دوسری حکومت نے بے نظیر اور آصف زرداری کے خلاف احتساب بیورو میں کرپشن ریفرنس فائل کیے۔

پھر اگلے فوجی چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے سابق احتساب بیورو کی جگہ نیب کا ادارہ قائم کیا۔ نیب پچھلے 18 برس سے متحرک ہے مگر جتنی کرپشن ایوب خان سے پہلے تھی اس سے کہیں زیادہ آج بتائی جاتی ہے۔ گویا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

وسعت اللہ خان کے مزید کالم پڑھیے

ٹیکس فری جنت کے رہائشی

اقبال کا شاہین اور عمران خان

ایسی بھی کیا جلدی؟

آج تک فوجی حکومتوں نے سویلین یا سویلین حکومتوں نے سویلینز کا احتساب کیا۔ آج تک کوئی سویلین حکومت کسی فوجی حکومت کا احتساب نہیں کر سکی (حالانکہ پاکستان کے 73 برس میں سے 34 برس براہِ راست فوجی حکومتوں کے سائے میں گزرے)۔

صاف ستھرے پاکستان کا نعرہ لگانے والی عمران حکومت کا اینٹی کرپشن کیلنڈر بھی بعد از مشرف سنہ 2008 سے شروع ہوتا ہے۔ نیب کے دائرۂ اختیار میں تمام ادارے آتے ہیں مگر عدلیہ اور فوج کو استثنی حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں اداروں کا اپنا اپنا اندرونی احتسابی ڈھانچہ ہے لہذا دونوں کو اس احتسابی چھتری کی ضرورت نہیں کہ جس کی باقی پاکستان کو سخت ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NAB

حالانکہ ہر وہ شعبہ، ادارہ، حاضر و ریٹائرڈ اہلکار، ٹیکس دہندہ اور عام شہری کہ جس کی تنخواہ، پنشن، مراعات اور سبسیڈی کا دارو مدار براہِ راست یا بلاواسطہ پاکستان کے خزانے پر ہے مگر کسی بھی جواز کے تحت عمومی احتسابی قوانین کی زد سے باہر ہے تب تک آپ قومی کنوئیں سے کرپشن کے چالیس چھوڑ چالیس ہزار ڈول نکال لیں پھر بھی کنواں پاک نہ ہوگا۔

اگر فرشتوں کی حکومت بھی آجائے مگر کشکول کے پیندے کے بڑے بڑے چھید بند کیے بغیر ہی اس میں سرمایہ کاری، قرضے اور امداد ڈالتی رہی تو اگلے 73 برس بھی یہی سوچ سوچ کر سر کھجاتے گزر جائیں گے کہ چین نے 40 برس میں 70 کروڑ افراد کو غربت سے آخر کیسے نکال لیا؟ ملائشیا کی آبادی تین کروڑ اور زرِ مبادلہ کے ذخائر 104 ارب ڈالر کیوں ہیں اور ہماری آبادی 22 کروڑ ہونے کے باوجود زرِ مبادلہ کے ذخائر آٹھ ارب ڈالر کیوں ہیں؟

اچھا بس ایک کام کر لیں۔ صرف اپنی خارجہ پالیسی پر نظرِ ثانی کر لیں۔ اگلے 20 برس میں آپ بھی ملائشیا ہو جائیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں