جے آئی ٹی رپورٹ: زرداری، اومنی اور بحریہ گروپ کی جائیداد کی منتقلی پر پابندی

آصف زرداری تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آصف زرداری کو 31 دسمبر تک عدالتی نوٹس کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے

سپریم کورٹ نے پیر کو لاہور میں جاری جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت میں تفتیش کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں نامزد زرداری گروپ، اومنی گروپ اور بحریہ ٹاؤن گروپ کی جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی کے سربراہ نے رپورٹ پیش کی۔

عدالت کے حکم کے تحت جے آئی ٹی کے رپورٹ کمرہ عدالت میں پروجیکٹر پر دکھائی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ کا خرچ جعلی بینک اکاؤنٹس سے ادا کیا جاتا رہا۔ بلاول ہاؤس کے پالتو جانور اور 28 صدقے کے بکروں کے اخراجات بھی انہی اکاؤنٹس سے دیے گئے۔

آصف زرداری کے خلاف جاری جعلی اکاؤنٹس کیسز کے بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

منی لانڈرنگ: آصف زرداری کے ’وارنٹ گرفتاری جاری‘

’مزید 33 اکاؤنٹس سے رقم بیرونِ ممالک منتقل کی گئی‘

’یہ ڈیل والی نہیں بلکہ جیل جانے والی باتیں ہیں‘

جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کس کس کو منتقل ہوئے؟

سماعت کے دوران ماڈل ایان علی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایان علی کہاں ہیں؟ کیا وہ بیمار ہو کر پاکستان سے باہر گئیں؟

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر کوئی بیمار ہو کر ملک سے باہر چلا جائے تو اسے واپس لانے کا طریقہ کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سماعت کے دوران ماڈل ایان علی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایان علی کہاں ہیں؟

ساتھ ہی عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس دیے اور آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو حکم دیا کہ وہ اس پر جواب جمع کرائیں، جس کے بعد عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت 31 دسمبر تک ملتوی کردی۔

عدالتی کاروائی کے بعد پی پی پی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں کچھ نیا نہیں ہے اور ان کی پارٹی پہلے سے ہی اس رپورٹ کے مواد کے بارے میں سن رہی تھی۔

'عدالت نے حکم دیا تھا کہ فیصلہ آنے تک رپورٹنگ نہیں ہوگی لیکن رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہمارے بارے میں ایسا تاثر بنایا جا رہا ہے جیسے ہم گناہ گار ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ان کی جماعت اس قسم کے سلسلے سے گزر چکی ہے۔

'ہم پر الزام لگتا ہے کہ اربوں کی خرد برد کی ہے لیکن بات سامنے آتی ہے چند ہزار کے بل کی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں

جعلی اکاؤنٹس کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹیڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ستمبر کے پہلے ہفتے میں سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہت فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس تین رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں حسین لوائی اور عبدالغنی مجید سے سے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تفتیش کی تھی۔

اسی بارے میں