نواز شریف کو العزیزیہ ریفرینس میں سات برس قید، فلیگ شپ ریفرنس میں بری

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کر دیا۔

محمد نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا ہے اور ساتھ ساتھ تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

سزا سنائے جانے کے بعد نواز شریف کو عدالت سے ہی حراست میں لے لیا گیا۔ اس موقعے پر عدالت میں موجود لیگی رہنما آبدیدہ ہو گئے۔

نواز شریف کے خلاف جاری مقدمات کے بارے میں مزید پڑھیے

نواز شریف اور عدالتیں

نواز شریف کے عروج و زوال کی تصویری کہانی

’نواز شریف کا ٹرائل جیل کی بجائے اوپن کورٹ میں ہو گا‘

نواز شریف: دو ریفرنسز کی تکمیل کے لیے مزید چھ ہفتے کی مہلت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف عدالت پہنچتے ہوئے

نواز شریف نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں راولپنڈی کے اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا جائے اور ان کی اس درخواست کو منظور کر لیا گیا اور انھیں منگل کو لاہور منتقل کر دیا جائے گا۔

نواز شریف کے علاوہ ان کے دونوں بچوں حسین اور حسن نواز کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں دائمی وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

فیصلہ سامنے آنے پر گذشتہ کئی ماہ سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر استعمال نہ کرنے والی نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کئی ٹویٹس کیں جس میں انھوں نے اپنے والد کی ثابت قدمی کو سراہا اور فیصلے کی شدید تنقید کی۔

عدالت کے باہر موجود لیگی رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاستدانوں کے خلاف کیے جانے والے 'تاریک فیصلوں میں ایک اور فیصلے کا اضافہ ہوا ہے۔'

Image caption لیگی رہنماؤں کو عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی

دوسری جانب قومی احتساب بیورو نے نواز شریف کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری قرار دینے پر اپیل کا فیصلہ کیا ہے اور چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کی قانونی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں مکمل تیاری کی جائے اور ٹھوس شواہد جمع کیے جائیں۔

آج صبح عدالتی فیصلہ سننے کے لیے لیگی رہنما اور کارکنان اسلام آباد کی احتساب عدالت پہنچ گئے لیکن انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب عدالت کے دراوزے کو بند رکھا گیا۔ اس موقع پر پولیس کی بہت بڑی نفری اور رینجرز اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف کے حامیوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی

العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس کیا ہے؟

مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو بظاہر العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔

شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔

البتہ نیب کے وکلا کا کہنا ہے کہ شریفوں کے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ ان کا دعوی ہے کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایا لگایا۔

حسین نواز کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے اوپر رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی۔ ان کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز کا اصل مالک نواز شریف خود ہیں۔

نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعوی ہے کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ ہیں، نہ کہ ان کے بیٹے۔

واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے

فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کیا ہے؟

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس سے ملتا جلتا دوسرا ریفرنس فیلگ شپ انویسٹمنٹ کا ہے جو کہ محمد نواز شریف کے چھوٹے بیٹے حسن نواز نے برطانیہ میں سنہ 2001 میں قائم کی تھی۔

نواز شریف اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بیٹے کے کاروبار سے کسی قسم کا کوئی لین دین رکھا تھا لیکن نیب کا کہنا ہے کہ وہ اس کمپنی کے بورڈ کے چیئرمین رہے ہیں۔

فلیگ شپ انویسٹمنٹ سمیت حسن نواز نے دس اور کمپنیاں قائم کی ہوئی تھیں جن کے پاس لندن کے چند مہنگی ترین پراپرٹیاں تھیں جن میں سے ایک 'ون ہائیڈ پارک پلیس' شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً پانچ کروڑ برطانوی پاؤنڈ لگائی گئی ہے۔

ریفرنس میں یہ معلوم کرنا تھا کہ حسن نواز کے پاس اس کمپنی کو قائم کرنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا اور نواز شریف کے اس میں کیا کردار ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کی جانب سے متعین کیے گئے مرکزی وکیل خواجہ حارث نے ان سماعتوں کے دوران مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان تینوں ریفرنس میں تقریباً 60 فیصد گواہان اور شواہد ایک ہی ہیں اس لیے ان کو ایک ساتھ سنا جائے لیکن عدالت نے ایسا نہیں کیا۔

البتہ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد اگلے دونوں ریفرنسز کو یکجا کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمات کا آغاز ہوا

ان دونوں ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں کیا فرق ہے؟

گذشتہ سال جولائی میں پاکستان کے سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کے مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد قومی احتساب بیورو نے دو ماہ بعد ستمبر میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کے کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے۔

ان تین میں سے پہلا کیس ایون فیلڈ ریفرنس تھا جس کا فیصلہ اس سال جولائی میں احتساب عدالت کی جانب سے آیا اور اس کے مطابق نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو جیل قید اور جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ستمبر میں اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر قید سے باہر آگئے لیکن نومبر میں نیب کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

اپریل 2016 میں پاناما پیپرز کی مدد سے سامنے آنے والی ایون فیلڈ پراپرٹی لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فئیر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار اپارٹمنٹ ہیں جو کہ نوے کی دہائی سے شریف خاندان کے زیر استعمال ہے۔

شریف خاندان پر الزام ہے کہ انھوں نے اس پراپرٹی کو غیر قانونی ذرائع کی مدد سے حاصل کی گئی رقم سے خریدا ہے۔

لیکن شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ پراپرٹی 1993 سے لے کر 2006 تک قطر کے شاہی خاندان کی ملکیت تھی لیکن شریفوں نے وہاں رہائش اختیار کی تھی جس کے لیے وہ وہاں کے کرائے اور دوسرے اخراجات خود اٹھاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن میں واقع شریف خاندان کی ایون فیلڈ پراپرٹی

خاندان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہیں کیونکہ یہ ایک غیر رسمی معاہدہ تھا جسے کرنے والے دونوں افراد، محمد شریف اور موجودہ قطری حکمران کے والد شیخ جاسم بن جبر الثانی فوت ہو چکے ہیں۔

شریف خاندان کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں میں قطری شہزادے حماد کا خط بھی اسی بیان کی تصدیق کرتا ہے جس کے مطابق 2005 میں اسی لاکھ امریکی ڈالر کے عوض اس پراپرٹی کا معاہدے طے پا گیا تھا اور اس کی ملکیت شریف خاندان کے زیر انتظام چلائے جانے والے ٹرسٹ کے پاس چلی گئی تھی۔

اس کی مد میں رقم شریف خاندان نے 2006 میں سعودی عرب میں اپنی پیپر مل کی فروخت کی مدد سے حاصل کی تھی۔

اس ریفرنس میں خاص بات یہ سامنے آتی ہے کہ تمام اثاثوں کی خرید و فروخت اور لین دین میں نواز شریف کا نام خود کسی بھی حیثیت میں نہیں آیا۔

لیکن جے آئی ٹی اور نیب حکام دونوں نے اپنی تفتیش میں اس بات پر زور دیا کہ نواز شریف کے دونوں صاحبزادے، حسین اور حسن نواز کم عمر تھے اس لیے نواز شریف نے ہی انھیں کاروبار کے لیے رقم فراہم کی تھی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کیونکہ نواز شریف کا اپنے دورہ لندن کے دوران ایون فیلڈ اپارٹمنٹ استعمال کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ انکی ملکیت میں ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا کس بنیاد پر ہوئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جولائی میں نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے والے دن اپنی رہائش گاہ کے باہر

تقریباً نو ماہ اور 107 سماعتوں پر محیط احتساب عدالت میں جاری اس مقدمے کا فیصلہ اس سال چھ جولائی کو آیا جب نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کے ساتھ مریم نواز کے ہمراہ لندن میں مقیم تھے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق نواز شریف پر یہ الزام ثابت نہ ہو سکا کہ انھوں نے دوران حکومت اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی رقم بنائی لیکن نیب قوانین کے تحت انھیں معلوم ذرائع سے زیادہ آمدن رکھنے کے جرم میں دس سال جیل ہوئی جبکہ ایک سال جیل نیب حکام سے تعاون نہ کرنے پر ہوئی۔ اس کے علاوہ ان پر اسی لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

'تین بار کے وزیر اعظم کو تین بار عدالت میں ناکامی کا سامنا'عابد حسین، بی بی سی اردو

پاکستان مسلم لیگ کے تاحیات قائد اور ملک کے تین بار وزیر اعظم کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ اپریل 2016 میں سامنے آنے والے پاناما پیپرز ان کی ذات اور ان کے خاندان کے لیے کس قدر مشکلات پیدا کریں گے۔

گذشتہ سال اپریل میں سپریم کورٹ میں وہ دو کے مقابلے میں تین ججوں کی رائے میں صادق اور امین ٹھیرے لیکن اس کے بعد ان کی ناکامیوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پہلے جولائی 2017 میں انھیں پانچ صفر سے ہزیمت اٹھانی پڑی جب سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر ان کے خلاف فیصلہ صادر کیا کہ وہ نہ صادق ہیں اور نہ امین، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف وزارت اعظمی سے ہاتھ دھو بیٹھے، بلکہ اسمبلی سے بھی نا اہل ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جیل کی سزا ہوئی تھی

ستمبر 2017 میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر کیے گئے تین ریفرنسز کی سماعت کا سلسلہ شروع ہوا تو 107 سماعتوں کے بعد اس سال جولائی میں نتیجہ ایک بار پھر ان کے خلاف آیا۔

ایون فیلڈ اپارٹمنٹ ریفرنس میں انھیں اپنی بیٹی اور داماد کے ہمراہ سزا ہوئی اور وہ اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریلیف ملنے کے باوجود ان کے سر پر العزیزیہ ریفرنس کی تلوار لٹک رہی تھی اور ان کی سالگرہ سے ایک روز قبل، پیر 24 دسمبر کو انھیں ایک مرتبہ پھر عدالت سے مایوسی ہوئی جب فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری ہونے کے باوجود العزیزیہ ریفرنس ان کو ایک بار پھر جیل لے گیا۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ ستمبر 2017 سے لے کر اب تک وہ تقریباً 165 مرتبہ عدالتوں کا چکر لگ چکے ہیں۔

اس اثنا میں انھیں جیل میں رہتے ہوئے اپنی اہلیہ کی وفات کے غم سے بھی گزرنا پڑا اور عام انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ ان کی یہ مشکلات کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔

اسی بارے میں