نواز شریف نے جیل روانگی سے قبل یہ گانا گایا کہ ’اے میرے دل کہیں اور چل۔۔۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption احتساب عدالت کے آس پاس نواز شریف کے کئی کارکن موجود تھے

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز اپنے تایا کو احستاب عدالت میں لانے کے لیے خود اُنھیں گاڑی میں بیٹھا کر لائے۔ سابق وزیر اعظم جب کمرہ عدالت میں پیش ہوئے تو وہ بہت خوش دکھائی دے رہے تھے اور اُنھوں نے وہاں پر موجود پارٹی کے رہنماؤں اور صحافیوں سے ہاتھ ملایا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں پیش ہوگئے ہیں اب اُنھیں معلوم نہیں ہے کہ وہ گھر جائیں گے یا جیل۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات برس قید، فلیگ شپ میں بری

نواز شریف کی کیا اس مرتبہ بھی سزا معطل ہو سکے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ریٹائرنگ روم سے کمرہ عدالت میں آئے تو کمرہ عدالت میں بالکل خاموشی چھا گئی۔

احتساب عدالت کے جج نے سب سے پہلا فیصلہ فلیگ شپ ریفرنس کا سنایا جس میں عدالت نے بری کردیا۔ یہ فیصلہ سننے کے بعد سابق وزیر اعظم کے چہرے پر خوشی عیاں تھی لیکن یہ خوشی صرف چند لمحوں کی ثابت ہوئی اور عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز کے ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔ یہ فیصلہ سننے کی دیر تھی کہ نواز شریف کے چہرے پر آئی خوشی سنجیدگی میں بدل گئی۔

احتساب عدالت کے جج جب فیصلہ سنانے کے بعد اُٹھنے لگے تو میاں نواز شریف کے وکیل نے درخواست دے دی کہ اُن کے موکل کو راولپنڈی کی بجائے لاہور جیل میں منتقل کیا جائے۔

احتساب عدالت کے جج نے نیب پراسیکوٹر کی مخالفت کے باوجود مجرم نواز شریف کی درخواست منظور کرلی۔

عدالت برخاست ہونے کے بعد میاں نواز شریف نے کمرہ عدالت میں موجود ہر فرد سے ہاتھ ملایا۔

سابق وزیر اعظم نے سکیورٹی پر تعینات ان پولیس اہلکاروں سے بھی ہاتھ ملایا جو روزانہ کمرہ عدالت میں موجود ہوتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

’ نواز شریف حاضر ہوں‘

نواز شریف اور عدالتیں

نواز شریف کا متبادل کون؟

اسلام آباد کی انتظامیہ جب سابق وزیر اعظم کو جیل لے جانے لگی تو ایک اہلکار نے اُنھیں بتایا کہ اُنھیں اڈیالہ جیل لے جا رہے ہیں جس پر نواز شریف دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے اور کہا کہ جب عدالت نے اُنھیں لاہور منتقل کرنے کا حکم دیا ہے تو پھر اُنھیں راولپنڈی رکھنے پر کیوں بضد ہیں۔

اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر نے میاں نواز شریف کو بتایا کہ چونکہ لاہور جانے میں اُنھیں وقت لگے گا اور شام کے بعد جیل کے حکام کسی قیدی کو نہیں رکھتے اس لیے اُنھیں ایک رات اڈیالہ جیل میں گزارنا ہوگی۔

جیل روانگی سے قبل میاں نواز شریف نے ایک بھارتی گانے کے دو بول بھی سنائے کہ ’اے میرے دل کہیں اور چل، غم کی دنیا سے جی بھر گیا ڈھونڈ لے اب کوئی گھر نیا‘۔

سابق حکمراں جماعت کے قائدین عدالت کے احاطے میں بڑے پرسکون انداز میں بیٹھے رہے جبکہ کارکنان جو کہ ایک قابل ذکر تعداد میں احاطہ عدالت کے باہر موجود تھے وہ اپنے لیڈر کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔

کمرہ عدالت تک جانے کے لیے قائدین اور کارکنان کو احاطہ عدالت کے باہر ہی روک دیا گیا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں