متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکنِ قومی اسمبلی علی رضا عابدی کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی

علی رضا عابدی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption علی رضا عابدی کو گذشتہ روز ان کے گھر کے باہر نامعلوم افراد نے قتل کر دیا

ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن علی رضا عابدی کی نمازِ جنازہ بدھ کو کراچی میں ادا کر دی گئی ہے۔ انھیں منگل کی شب کراچی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔

علی رضا عابدی کی نمازِ جنازہ ڈیفینس کی امام بارگاہ یثرب میں علامہ حسن نقوی نے پڑھائی، جس میں اعلیٰ شخصیات اور سیاسی رہنماؤں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سابق رکنِ قومی اسمبلی اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سابق رہنما کی ہلاکت کے بعد بھی سوشل میڈیا پر انہی کے بارے میں گفتگو کی جا رہی ہے اور مختلف مکتبۂ فکر سے لوگ ان کی دریا دلی اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو سراہ رہے ہیں۔

ٹوئٹر پر ظِلّ الہی کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک صارف نے سید علی رضا عابدی کی موت کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’جس طرح سے لوگوں نے اپنے غم کا اظہار کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری تھی۔ ہر وہ شخص جس نے ان سے ملاقات کی وہ ان کا دلدادہ تھا۔ چاہے وہ حلیف ہو یا حریف، ہر کسی کے پاس ان کے حوالے سے کوئی کہانی تھی۔ ان کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔‘

ایک اور صارف سوات سویگ نے بھی اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’عابدی لالہ کی وہ نایاب آواز تھی جو طبقاتی اور علاقائی فرق کے باوجود ہم جیسے نئی نسل کے نوجوانوں سے مطابقت رکھتی تھی۔ ان کی موت سے کراچی اور پاکستان دونوں کی محرومیاں بڑھ گئی ہیں۔‘

سید علی رضا عابدی کے والد اخلاق حسین نے بھی رات گئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میرے بیٹے کو سفاکی سے قتل کیا گیا ہے۔ وہ کسی کا دشمن نہیں تھا۔ جس کسی نے بھی اس کے قتل کا حکم دیا ہے وہ زندگی بھر کے لیے پچھتائے گا۔‘

مصنف اور محقق عقیل عباس جعفری نے سید رضا علی عابدی کی ہلاکت پر اپنے فیس بک پر تبصرہ کرتے ہوئے اس سال ہونے والے عام انتخابات کا ایک واقعہ درج کیا جس میں انھوں نے بتایا کہ کس طرح دو سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کشیدگی کے باوجود مل کر نماز ادا کی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ایم کیو ایم کی کھوئی ہوئی مقبولیت بحال ہوئی؟

مائنس فاروق ستار فارمولا؟

’ایم کیو ایم کے نام، جھنڈے اور نشان کو ختم نہیں کیا جائے گا‘

ایم کیو ایم پاکستان یا لندن کی شکست؟

اس سے قبل بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پولیس افسر ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ کی سید علی رضا عابدی کے گھر والوں سے ملاقات ہوئی جس کے بعد انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول گذشتہ روز اپنے آفس سے معمول سے پہلے نکلے اور اپنے ہوٹل گئے اس کے بعد اپنے گھر روانہ ہوئے جہاں سے انھیں رات کے کھانے پر کہیں جانا تھا۔

ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ کے مطابق مقتول کے گھر والوں نے کسی مخصوص قسم کی دھمکی کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا البتہ پولیس نے علاقے آس پاس لگے کیمروں کی بھی فوٹیجز حاصل کر لی ہے تاہم ابتدائی رپورٹ میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Radio Pakistan
Image caption علی رضا عابدی نے بنیادی تعلیم سینٹ پیٹرک سکول سے حاصل کی، بی کام ڈفینس کالج اور اور بوسٹن سے بزنس کی تعلیم حاصل کی تھی

سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مذمت

وزیر اعظم پاکستان عمران خان، صدر مملکت عارف علوی، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سربراہ پاک سر زمین پارٹی مصطفی کمال اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے علی رضا عابدی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 'کراچی کے سپوتوں کی ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔‘

علی رضا عابدی کے گھر کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جس بے دردی اور سفاکی کے ساتھ سید علی رضا کو قتل کیا گیا یہ خالصتاً دہشت گردی ہے۔‘

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے علی رضا عابدی کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس سندھ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے قاتلوں کو فوری طورگرفتار کرکے انھیں رپورٹ پیش کریں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے سید علی رضا عابدی کی موت کو ’غیر معمولی نقصان‘ قرار دیا اور کہا کہ ’سیاست میں تشدد ناقابل معافی جرم ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رہنما بشریٰ گوہر نے علی رضا عابدی کی موت کو ’غیرمعمولی نقصان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’پاکستان کا سب سے ذی شعور سیاستدان تھا۔‘

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما علامہ رجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ ان کے جماعت علی رضا عابدی کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش: واقعہ کب ہوا؟

منگل کی شب مقامی پولیس کے اہلکار ایس ایچ او گرزی اسد منگی نے بتایا کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے خیابانِ غازی کے قریب علی رضا عابدی کے گھر کے باہر ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں انھیں کئی گولیاں لگیں اور انھیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال پی این ایس شفا لے جایا گیا۔

ایس ایس سی ساؤتھ پیر محمد شاہ کے مطابق علی رضا عابدی ہسپتال میں زیرِ علاج تھے جب وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ایس ایس پی ساؤتھ انویسٹیگیشن طارق دھاریجو نے بتایا ہے کہ اِس واقعے کی کڑیاں کراچی میں دہشت گردی کے خالیہ واقعات سے جڑی نظر آتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے آس پاس کے گھروں میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو حاصل کرنا شروع کردی ہے جس کی مدد سے ملزمان کی شناخت ہو سکے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سابق رکن اسمبلی علی رضا عابدی کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

علی رضا عابدی کی نماز جنازہ بدھ کو کراچی ڈی ایچ فیز فور میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Ali Raza Abidi
Image caption وزیراعظم عمران خان نے علی رضا عابدی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے

علی رضا عابدی کون تھے؟

48 سالہ علی رضا عابدی ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن اسمبلی تھے، سنہ 2013 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں ان کا سخت موقف رہا جس کا اظہار وہ پارٹی کے اندر اور ٹی وی چینلز پر بھی کرتے تھے۔

جولائی 2018 کو منعقدہ گذشتہ عام انتخابات میں انھوں نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا مقابلہ کیا تھا جس میں انھیں شکست ہوئی تھی۔ ان انتخابات میں جب پارٹی قیادت کی دلچسپی کم ہوئی تو اے پی ایم ایس او کے کارکنان نے ان کی مہم چلائی تھی۔

عام انتخابات میں شکست کے بعد ضمنی انتخابات میں انھیں ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے بعد انھوں نے پارٹی قیادت سے ناراضی کا اظہار کیا اور بنیادی رکنیت سے مستعفی ہو گئے۔

علی رضا عابدی کے بارے میں بعض حلقوں کا خیال تھا کہ وہ الطاف حسین کی سربراہی میں لندن گروپ کے قریب رہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے جب پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور مصطفی کمال کے ساتھ ایک منشور کے تحت مشترکہ امیدواروں کو لانے کا اعلان کیا تو علی رضا عابدی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد فاروق ستار اپنے موقف سے دستبردار ہو گئے۔

علی رضا عابدی کا خاندان ایم کیو ایم کا سپورٹر رہا ہے۔ ان کے والد اخلاق حسین بھی رکن قومی اسمبلی رہے۔

انھوں نے بنیادی تعلیم سینٹ پیٹرک سکول سے حاصل کی، بی کام ڈیفینس کالج اور اور بوسٹن سے بزنس کی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے ایم کیو ایم کے لیے ریسرچ اینڈ ایڈوائیزری کونسل کی بنیاد رکھی اور وہ ایم کیو ایم کے سوشل میڈیا سیل کے بھی سرگرم کارکن رہے۔

اس واقعے سے کچھ گھنٹے پہلے علی رضا عابدی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں پاکستان تحریکِ انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پی ٹی آئی نیب عدالتوں کے حوالے سے بات کرنے لگی ہے۔

Image caption ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 'کراچی کے سپوتوں کی ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں