نواز شریف کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بی کلاس کی سہولتیں دی جائیں گی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فوٹو فائیل

احتساب عدالت سے العزیزیہ کیس میں سات سال قید کی سزا پانے والے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو منگل کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کو راولپنڈی کی احتساب عدلت نے جب العزیزیہ کیس میں سات برس کی سزا سنائی تھی تو فوراً گرفتار کرکے اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اُسی وقت اُن کے وکیل نے احتساب عدالت کے جج کو درخواست دی تھی کہ نواز شریف کو دل کا عارضہ ہے اس لیے انھیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کردیا جائے۔

یہ بھی پڑھیئے

’میاں صاحب، اب کیا ہو گا؟‘

’ نواز شریف حاضر ہوں‘

نواز شریف اور عدالتیں

احتساب عدلت کے جج نے فوراً ہی اُن کی اُس درخواست کو منظور کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اُنھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فوٹو فائیل

اگلے روز، یعنی آج، انھیں اڈیالہ جیل سے ایک میجسٹریٹ کی معیت میں نور خان ائر بیس لایا گیا جہاں انھیں ایک خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور روانہ کردیا گیا۔

لاہور کے ہوائی اڈے سے انھیں خصوصی حفاظتی انتظامات میں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جنھوں نے نواز شریف کے جیل جاتے وقت نعرے بازی کی۔

اس موقع پر پولیس نے خصوصی انتظامات کیے ہوئے تھے۔

پنجاب حکومت نے جیل میں نواز شریف کو بہتر سہولتیں دینے کا پہلے ہی سے اعلان کر رکھا ہے۔ نواز شریف سابق وزیرِاعظم ہیں اس لیے بھی وہ بی کلاس سہولتوں کے اہل بھی ہیں۔

اس سے پہلے جن سابق وزرائے اعظم کو جیل بھیجا گیا اُن میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو جیل میں عام قیدیوں کی طرح رکھا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption سابق وزرائے اعظم کو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو جیل میں عام قیدیوں کی طرح رکھا گیا تھا۔ بھٹو کی لاش کو راتوں رات لاڑکانے لے جا کر دفنا دیا گیا تھا۔ فوٹو فائیل

ذوالفقار علی بھٹو 1977 میں گرفتار ہوئے تھے اور پھر 1979 میں راولپنڈی کی ایک جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ جیل سے اُن کی لاش کو راتوں رات لاڑکانہ پہنچا کر دفنا دیا گیا تھا۔

سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو جیل میں دی گئی بی کلاس سہولتوں میں نرم بستر، کمبل اور میٹریس، سمیت مطالعے کیلئے میز و کرسی، ٹیلی ویژن اور ہیٹر وغیرہ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف، جو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں، کو بھی کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے۔ فوٹو فائیل

اسی بارے میں