زلفی بخاری کو عمران خان کے بطور معاون خصوصی کام کرنے کی اجازت مل گئی

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دور رکنی بینچ نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور برطانوی شہری ذوالفقار حسین عرف زلفی بخاری کو وزیر اعظم عمران خان کے بطور معاون خصوصی کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

زلفی بخاری کا شمار وزیر اعظم عمران خان کے ذاتی دوستوں میں ہوتا ہے۔ عمران خان وزیر اعظم بننے سے پہلے جب بھی برطانیہ جاتے تھے تو زلفی بخاری وہاں پر اکثر عمران خان کے ساتھ ہوتے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ہوا بازی کے معاون خصوصی شجاعت عظیم کو دوہری شہریت رکھنے پر عہدے سے فارغ کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا

زلفی بخاری کون اور عمران کے لیے اہم کیوں؟

عدالت کا کہنا تھا کہ کیسے اس شخص کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے جس نے ملکہ برطانیہ سے وفاداری کا حلف اُٹھایا ہو۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق زلفی بخاری کو 18 ستمبر کو بیرون ممالک پاکستانیوں کے امور کے بارے میں وزیر اعظم کا مشیر مقرر کیا گیا تھا۔ زلفی بخاری کی تعیناتی کے خلاف ظفر اقبال نامی وکیل نے درخواست دائر کی تھی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں اس درخواست کی سماعت کی تو درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں جس میں دوہری شہریت کا حامل شخص عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا تو ایسے شخص کو کابینہ کا رکن کیسے بنایا جاسکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین سے متعلق دوہری شہریت کے بارے میں فیصلہ موجود ہے جس پر بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق قوانین کا اطلاق زلفی بخاری پر نہیں ہوتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے اس بارے میں پارلیمنٹ کو تجاویز بھی دی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی قدر کرتی ہے چونکہ اُنھوں نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے قابل ذکر فنڈز دیے ہیں۔

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملکی امور چلانے کی ذمہ داری وزیر اعظم کی ہوتی ہے اس لیے معاون خصوصی تعینات کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے اور عدلیہ ان کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ ان کے کہنے پر زلفی بخاری کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹا سکتی البتہ پارلیمنٹ کو اس بارے میں تجاویز دے سکتی ہے۔

زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے ان کے موکل نے کبھی بھی وزیر مملکت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ اُن کے موکل نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اپنی تنخواہوں کو بھاشا ڈیم فنڈ میں جمع کروائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ زلفی بخاری کی وجہ سے برٹش ائیرویز نے پاکستان میں دوبارہ اپنی پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ اچھا ہوتا کہ وہ قومی ائیرلائن کی بہتری کے لیے کام کرتے۔

عدالت نے سماعت کے دوران وقفہ کر دیا اور وقفے کے بعد زلفی بخاری کی تعیناتی کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر زلفی بخاری نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تو پھر عدالت اس معاملے کو دیکھے گی۔

اسی بارے میں