نواز شریف کوٹ لکھپت کیوں منتقل ہوئے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رہیں گے تو وہ قید ہی میں، اڈیالہ میں ہوں یا کوٹ لکھپت میں۔ یہاں صرف یہ ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ذرا زیادہ قریب ہوں گے اور ان سے ملنے کے لیے آنے میں اہلخانہ کو زیادہ تکلیف نہیں اٹھانا پڑے گی: مصدق ملک

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے آج دوپہر کا کھانا اپنے اہلخانہ کے ساتھ کھایا۔ جمعرات کے روز کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ان کا تمام اہلخانہ سے ملاقات کا دن رہا۔ ملاقاتوں کا سلسلہ ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنماؤں کی آمد سے شروع ہوا۔

رانا تنویر احمد آئے، پلاننگ کے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال بھی کوٹ لکھپت پہنچے۔ ان کے کچھ دیر بعد گاڑیوں کے ایک مختصر قافلے میں ان کی بیٹی مریم نواز، داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، والدہ بیگم شمیم اختر، ان کے چھوٹے بھائی عباس شریف کے بیٹے، شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز اور گھر کے دیگر افراد کوٹ لکھپت جیل پہنچے۔

نواز شریف کے اہلخانہ کے افراد اپنے ساتھ کچھ سامان لائے جس میں کھانے کے برتن دیکھے جا سکتے تھے۔ دیگر سامان میں پلاسٹک کی کرسیاں اور میز بھی شامل تھا۔ نواز شریف سے اہلخانہ کی ملاقات تقریباً دو گھنٹے کے لگ بھگ جاری رہی۔

اس کے بعد گاڑیوں کا قافلہ لاہور کے مضافات میں واقع شریف خاندان کی رہاشگاہ جاتی امرا واپس روانہ ہو گیا۔ کوٹ لکھپت سے جاتی امرا کا فاصلہ محض آدھ گھنٹے سے کچھ زیادہ پر محیط ہو گا۔ ان سے آئندہ ملاقات کرنے کے لیے بھی اہلخانہ کو زیادہ اہتمام نہیں کرنا ہو گا۔

کیا یہی وجہ تھی کہ احتساب عدالت کی طرف سے العزیزیہ ریفرنس میں سزا پانے کے بعد نواز شریف اڈیالہ جیل راولپنڈی نہیں رکنا چاہتے تھے؟ لیگی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ایسا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا

’اے میرے دل کہیں اور چل۔۔۔‘

نواز شریف کی کیا اس مرتبہ بھی سزا معطل ہو سکے گی؟

لاہور نہ صرف نواز شریف کا گھر ہے، اسے ان کی جماعت کا گڑھ بھی مانا جاتا ہے جہاں ان کی جماعت کی پنجاب سے تعلق رکھنے والی قیادت کے زیادہ رہنما بھی رہائش پذیر ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کے دورِ حکومت میں ان کے مشیر رہنے والے ن لیگ کے رہنما سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی اور وجہ ہو نہیں سکتی تھی۔

’رہیں گے تو وہ قید ہی میں، اڈیالہ میں ہوں یا کوٹ لکھپت میں۔ یہاں صرف یہ ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ذرا زیادہ قریب ہوں گے اور ان سے ملنے کے لیے آنے میں اہلخانہ کو زیادہ تکلیف نہیں اٹھانا پڑے گی۔‘

اس انتطام میں نواز شریف کی والدہ جو کہ ویل چیئر کے سہارے سے نقل و حرکت کرتی ہیں، انھیں نواز شریف سے ملاقات میں آسانی ہو گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے کوٹ لکھپت جیل منتقل ہونے کے فیصلے کے پیچھے یہی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصدق ملک کا کہنا تھا کہ جس نے ملاقات کرنی ہو وہ پہنچ تو کہیں بھی سکتا ہے تاہم نواز شریف اڈیالہ میں رہتے تو ان کے اہلخانہ کو ان سے ملنے کے لیے زیادہ اہتمام کرنا پڑتا۔

’میرے خیال میں جب وہ اڈیالہ میں تھے تو ان کی والدہ شاید ان سے ملاقات کے لیے کبھی نہیں آ پائیں تھیں۔ ان کے لیے نقل و حرکت مشکل ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہو گی کہ نواز شریف نے لاہور جیل منتقل کرنے کی درخواست دی ہو گی۔‘

دونوں جیلیں ایک ہی صوبے یعنی پنجاب میں واقع ہیں اس لیے نواز شریف کو اڈیالہ کے بجائے کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کرنے میں کوئی قانونی یا انتظامی دقت بھی نہیں تھی۔ حالانکہ ان کے خلاف پاناما سے تعلق رکھنے والے تمام تر ریفرنسز کی تفتیش و پیروی نیب راولپنڈی کر رہا ہے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ جس نے ملاقات کرنی ہو وہ پہنچ تو کہیں بھی سکتا ہے تاہم نواز شریف اڈیالہ میں رہتے تو ان کے اہلخانہ کو ان سے ملنے کے لیے زیادہ اہتمام کرنا پڑتا۔ ’اس میں ایک روز پہلے سے تیاری کرنا پڑتی اور پھر لمبا سفر بھی کرنا پڑتا۔‘

یاد رہے کہ العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو احتساب عدالت نے سات برس قید کی سزا سنائی تھی جبکہ اس کے ساتھ ہی دوسرے ریفرنس یعنی فلیگ شپ میں انھیں باعزت بری کر دیا گیا تھا۔

سزا سنائے جانے کے فوراً بعد نواز شریف نے عدالت سے انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا۔

العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نواز شریف دس روز کے اندر اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ اپیل پر فیصلہ ہونے تک وہ عدالت سے ضمانت کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔

ان کے چھوٹے بھائی اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف پہلے ہی سے کوٹ لکھپت جیل میں نیب کے جوڈیشل ریمانڈ پر قید ہیں۔ ایسے میں ان کی سیاسی جماعت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے مرکزی قیادت پر مشتمل ایک ایڈوائزری بورڈ بنایا گیا ہے۔

اس بورڈ کے ایک رکن احسن اقبال بھی جمعرات کے روز اڈیالہ جیل پہنچے جہاں موجود مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے معاملات چلانے میں کوئی دقت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے صدر شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور اس کے اجلاس کی صدارت کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوں گے جو کہ سپیکر قومی اسمبلی کی غیر موجودگی میں چیئرمین بھی جاری کر سکتے ہیں۔

شہباز شریف کو نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کیس میں گرفتار کر رکھا ہے۔ انہیں ابتدائی چند روز جسمانی ریمانڈ پر رکھنے کے بعد عدالتی حکم پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اس دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں