کراچی میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ، عوام میں گہری تشویش

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گذشتہ چھے ہفتوں کے دوران دہشت گردی اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے چھ واقعات پیش آنے کے بعد شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق رکن علی رضا عابدی پر منگل کو حملے سے چند دن پہلے ہی پاک سر زمین پارٹی کے دفتر پر ایک حملہ ہوا جس میں جماعت کے دو کارکن ہلاک ہو گئے۔

اس سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کی ایک میلاد کی تقریب پر دھماکہ ہوا جبکہ گذشتہ ماہ مسلح افراد نے چین کے قونصل خانے پر حملہ کیا جس میں سکیورٹی پر تعینات دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

کراچی میں اس سے پہلے بھی ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات پیش آئے لیکن ماضی کے مقابلے میں یہ قدرے کم رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

علی رضا عابدی کو ’کبھی نہیں بھلایا جائے گا‘

کراچی حملہ، حیربیار سمیت 13 افراد پر مقدمہ

کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ، سات ہلاک

بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے سے بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی اور تجزیہ کار اے ایچ خانزادہ کہتے ہیں کہ گذشتہ چند ہفتوں میں پیش آنے والے واقعات کے بعد شہریوں میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔

ان کے مطابق ’کراچی کے شہری دودھ کے جلے ہیں اس لیے چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جائزہ لینا ہو گا کہ کہاں کمی رہ گئی ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Radio Pakistan
Image caption پاکستان تحریکِ انصاف کے فیصل واوڈا اسے ایم کیو ایم کے اندرونی جھگڑوں کا شاخسانہ بھی کہتے ہیں اور ان کے خیال میں 'ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کی حالیہ تقاریر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا'

کیا کراچی میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں؟ اس کے جواب میں پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی فیصل واوڈا کا کہنا ہے انھیں اب شہر کے حالات زیادہ خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

'یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کی ناکامی ہے۔ آئی جی سندھ اس کے جوابدہ ہیں۔ پولیس کو بتانا ہو گا کہ سکیورٹی فراہم کیوں نہیں کی گئی؟ پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم کو سیاسی رنگ دیا اور ان لوگوں سے سکیورٹی واپس لی جن کو خطرہ تھا۔ ان کے خیال میں اس قتل کو جہاں فرقہ واریت کا رنگ دیا جا رہا ہے وہیں اس سے سیاسی فائدے بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔‘

تاہم اے ایچ خانزادہ اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ ان چند واقعات سے کراچی کی صورت حال خراب ہو گئی ہے اگر ہدف بنا کر قتل کرنے کا سلسلہ بڑھا تو عوام کا ان اداروں پر اعتماد ختم ہونے کا خدشہ ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں 'قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سندھ حکومت کے ان دعووں پر ضرور سوال اٹھے گا کہ ہدف بنا کر قتل کرنے اور ایسے دیگر گروہوں کو ختم کر دیا گیا تھا۔‘

فیصل واوڈا اسے ایم کیو ایم کے اندرونی جھگڑوں کا شاخسانہ بھی کہتے ہیں اور ان کے خیال میں 'ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کی حالیہ تقاریر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جن میں وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی بات کر رہے ہیں جوایم کیو ایم لندن سے علیحدہ ہوئے۔‘

دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے بھی گذشتہ چھے ہفتوں میں پیش آنے والے ان واقعات پر برہمی کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورت حال کو قابو میں کیوں نہیں رکھ پا رہے۔ انھوں نے علی رضا عابدی کے قتل کے بعد بدھ کو ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کی۔

وفاقی وزیر حیدر علی زیدی نے بھی ان واقعات کو 'ریاست کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت علی رضا عابدی کے قتل میں ملوث افراد کو سامنے لائے گی۔

کراچی کی فضا میں ان چھ واقعات کے بعد ایک ارتعاش ضرور محسوس ہوتا ہے۔ صحافی اور مصنف فیض اللہ خان کہتے ہیں ’شہر میں اب ایک ہلچل محسوس ہو رہی ہے، پے در پے ہونے والے ان واقعات اور خاص طور پر علی رضا عابدی کے قتل کے بعد ہر طبقے، خواہ وہ سیاسی ہو یا سول سوسائٹی، طلبہ یا کاروباری طبقہ سب میں خاصی تشویش پیدا ہوئی ہے۔‘

اے ایچ حیدری کے خیال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر میں امن قائم کر کے عوام کا اعتماد حاصل کیا تھا اور اگر قتل و غارت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں