ایبٹ آباد میں تین سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

فریال
Image caption فریال کے گھر بچھی صفِ ماتم

ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں میں گذشتہ روز ایک تین سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

حویلیاں پولیس سٹیشن کے ڈی ایس پی اعجاز احمد نے بی بی سی کے طاہر عمران سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’بچی فریال منگل 25 دسمبر کو دوپہر 2 بجے کے قریب گھر سے لاپتہ ہوئی، جس کے بعد اس کے گھر والے اس کی تلاش میں مصروف رہے، مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔‘

ڈی ایس پی اعجاز کے مطابق ’بچی کے گھر والوں نے شام ساڑھے سات بجے تھانے میں رپورٹ درج کروائی اور اس کے بعد پولیس نے بچے کی تلاش کا عمل شروع کیا۔‘

بچی کا تعلق حویلیاں کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں کیالہ سے ہے جو دریا کے کنارے واقع ہے۔ یہاں کی آبادی صرف چند ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مسئلے پر دیگر مضامین

’پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار‘

’خدا کے لیے کسی پر اندھا اعتبار نہ کریں‘

چھ ماہ میں ملک میں’بچوں کے ریپ اور قتل کے 768 واقعات‘

’بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے زیادہ تر پاکستانی‘

پولیس کے مطابق بچی کی لاش 26 دسمبر کی صبح گاؤں کے قریب ایک کھائی میں ملی جسے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھجوایا گیا۔

ڈی ایس پی اعجاز احمد نے بتایا کہ ’میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کی ہلاکت خوف اور تکلیف کی وجہ سے ہوئی اور بچی کے ساتھ ریپ ثابت ہوا ہے۔‘

پولیس نے اب تک 25 سے 30 مشتبہ افراد کے نمونے حاصل کر کے لاہور بھجوائے ہیں تاکہ ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جا سکے۔

ڈی ایس پی اعجاز نے بتایا کہ چونکہ گاؤں بہت چھوٹا سا ہے، اس لیے ایسا ممکن نہیں کہ ملزم باہر سے آیا ہو۔ البتہ پولیس ہر پہلو سے اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس واقعے کی تیز رفتار انکوائری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ فوری اور نظر آنے والے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔‘

اسی بارے میں