’ہم پہلے شہباز شریف کی ایسی حرکتوں کا مذاق اڑاتے تھے لیکن اب بزدار بھی ویسا کر رہے ہیں'

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

وزیر اعظم عمران خان کو سردار عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ نامزد کرنے کے بعد سے وقتاً فوقتاً تنقید کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے اور اس حوالے سے انھوں نے کئی بار سوشل میڈیا اور انٹرویوز میں عثمان بزدار کی وزارت کا دفاع کیا ہے۔

کہیں پر انھوں نے عثمان بزدار کو 'وسیم اکرم پلس' قرار دیا تو کہیں انھوں نے توقع ظاہر کی کہ وہ پنجاب کے عوام کی اچھی نمائندگی کریں گے۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں مزید پڑھیے

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار کون؟

کیا پنجاب کے حقیقی وزیرِاعلیٰ عبدالعلیم خان ہیں؟

ایسی ہی طرز پر ایک ٹویٹ انھوں نے گذشتہ روز کی جس میں عثمان بزدار چند سائلوں سے ملاقات کر رہے ہیں اور اس پر عمران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا'یہ ہے نیا پاکستان۔ ایک جھلک، ایک تصویر جو ہزاروں الفاظ پر بھاری ہے۔'

جہاں اس ٹویٹ کو زبردست پذیرائی ملی ہے اور اسے ساڑھے پانچ ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا اور 30 ہزار سے زیادہ بار لائک کیا گیا، وہیں پاکستان تحریک انصاف کے حمایتیوں نے عثمان بزدار کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔

تحریم لکھتی ہیں کہ کیا آپ نے کبھی کسی وزیرِ اعلیٰ کو اس طرح مقامی لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا ہے؟ تحریم کے مطابق امیر اور غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے اور انھوں نے توقع کی کہ پاکستان کے مستقبل میں ایسا ہی ہو۔

ایسے ہی خیالات اظہار علیزے نے بھی کیا اور کہا کہ اس سے پہلے ایسا کوئی وزیر اعلیٰ نہیں تھا جس کے پاس لوگ دیہات سے اپنی مشکلات کے حل کے لیے آتے تھے۔

لیکن دوسری جانب کئی لوگوں نے اس تصویر کو ڈرامہ قرار دے کر تنقید کی۔

نوشین نے کہا کہ 'اس تصویر میں نیا کیا ہے؟ عثمان بزدار ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو دور دراز سے ان کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے آئے ہیں۔ کیا عثمان بزدار کو نہیں جانا چاہیے تھا اُن کے پاس؟ ہزار الفاظ کی ضرورت نہیں ہے، ایک 'ڈرامہ' کافی ہے۔'

شہزاد منیر نے اس ٹویٹ پر تبصرہ کیا کہ 'یہ کیا ہے؟ ہم پہلے شہباز شریف کی ایسی حرکتوں کا مذاق اڑاتے تھے لیکن اب بزدار بھی ویسا کر رہے ہیں۔'

عطیہ نون تو اس قدر نالاں نظر آئیں کہ انھوں نے ٹویٹ میں کہا 'بس خدا کے واسطے چپ کر جاؤ، اس ٹویٹ میں اتنا کچھ غلط ہے کہ میں کچھ بولنا بھی نہیں چاہتی۔'

سیاسی تجزیہ کار مشرف زیدی نے عمران خان کی جانب سے کی گئی ٹویٹ پر ان کی حکومت کے چار ماہ گزر جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'چار ماہ گزر گئے ہیں لیکن یہ ابھی بھی انتخابی مہم چل رہی' لیکن ساتھ میں انھوں نے اضافہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ڈیرہ غازی خان کے پر اسرار عثمان بزدار کی ساکھ کے لیے اچھا ہے۔'

ادھر مسلم لیگ کے حمایتی بھی کہاں خاموش رہنے والے تھے، انھوں نے بھی ماضی میں شریف برادران کی تصاویر ٹویٹ کر کے کہا کہ رہنما کو خود غریبوں کے پاس جانا چاہیے۔

لیکن پروفیسر طاہر ملک نے ان ٹویٹس کے بعد معاشرے پر طائرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'جاگیردارنہ معاشرے میں غریبوں کا صوفے پر بیھٹنا چائے پینا بھی خبر ہوتا ہے۔'

اسی بارے میں