ایبٹ آباد کے بعد نوشہرہ میں بھی بچی مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک نو سالہ بچی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور تشدد کرنے کے بعد انھیں قتل کر کے اس کی لاش قریبی قبرستان میں پھینگ دی گئی۔

ضلع نوشرہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منصور امان نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی بدھ کو لاپتہ ہوگئی تھی اور آج اس کی لاش خیشگی قبرستان سے برآمد کی گئی ہے۔

ڈی پی او نے بتایا کہ پولیس نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور ملزم کو پکڑنے کے لیے پولیس کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایبٹ آباد میں تین سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

’پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار‘

’خدا کے لیے کسی پر اندھا اعتبار نہ کریں‘

نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق بچی کے والد نے اپنی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی بدھ کے روز قریبی مدرسے کے لیے نکلی جس کو ایک خاتون چلاتی ہیں اور رات تک گھر واپس نہیں آئی۔ ایف آئی آر کے مطابق جمعرات کو بچی کی تشدد زدہ لاش ایک مقبرے سے ملی ہے۔

ڈی پی او نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے شواہد ملے ہیں جس کے بعد انھیں قتل کیا گیا۔

نوشہرہ ضلعی ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر فضل قادر نے میڈیا کو جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ ضلعی ہسپتال میں لائی گئی ایک بچی پوسٹ مارٹم کے لیے لائی گئی تھی جہاں ایک خاتون ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا۔

نوشہرہ میں مبینہ طور پر بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے سے کچھ دن قبل خیبر پختونخوا کے علاقے ایبٹ آباد میں اسی قسم کا ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جہاں ایک چار سالہ بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں اس کو قتل کیا گیا۔

اسی بارے میں