انڈیا کے لیے سونا، پاکستانی کسان کے لیے خاک کیوں؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان اور انڈیا دونوں کے لیے سموگ ایک بڑا مسئلہ ہے

مبشر احمد نے چاول کی فصل اٹھائی، تو گندم بیجنے کا وقت سر پہ تھا۔ مگر ان کے کھیتوں میں اب تک چاول کی مڈھی جوں کی توں کھڑی تھی۔ اس پر پیال یا بھوسہ بکھرا پڑا تھا۔ کیا کرتے، انھوں نے کھیتوں میں آگ لگا دی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع نارووال کے ان کے اس گاؤں میں تقریباً ہر کاشتکار نے یہی طریقہ اپنایا ہے۔ 'کاٹیں نہیں تو کیا کریں؟ ورنہ گندم کی کٹائی کے وقت درانتیوں سے ہاتھ کٹ جاتے ہیں۔'

یہ عذر درست ہے یا کچھ اور، گندم کی فصل کی تیاری کے لیے پیال اور مڈھی کا ختم کرنا بہرحال ضروری ہوتا ہے۔ چاول کی کاشت کے زیادہ موزوں علاقے صوبہ پنجاب کے گوجرانوالہ ڈویژن میں آتے ہیں۔ ان تمام علاقوں میں آگ لگا کر ہی چاول کی مڈھی کو تلف کیا جاتا ہے۔

نتیجتاً اس عمل سے مجموعی طور پر اتنا دھواں پیدا ہوتا ہے کہ اسے پنجاب کے کئی علاقوں خصوصاً پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر لاہور پر چھا جانے والی مضرِصحت سموگ کا ایک بڑا سبب مانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سموگ کے معاملے پر پنجاب حکومت کا انڈیا سے رابطہ

’انڈیا سے آنے والے دھوئیں کے بادل سموگ کی ایک وجہ ہے‘

'لاہور تم میری جان لے رہے ہو'

گذشتہ کئی برس سے دھند اور دھوئیں کا یہ مرکب اس قدر وسیع پیمانے پر سامنے آیا ہے کہ اسے پنجاب کا پانچواں موسم کہا جانے لگا ہے۔ یہ موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی آتا ہے اور ہزاروں افراد اس سے متاثر اور بیماریوں کا شکار ہو کر ہسپتالوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس موسم مین انڈیا کا دارالحکومت دہلی بھی سموگ کی زد میں رہتا ہے

انڈیا میں بھی مجرم یہی ہے

ضلع نارووال کے اس علاقے سے محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر سرحد کے اُس پار انڈین پنجاب ہے۔ وہاں بھی زمین اتنی ہی ذرخیز ہے اور وہاں بھی کسان زراعت کے یہی طور طریقے اپناتے ہیں۔

درحقیقت انڈیا میں چاول کی کاشت کا علاقہ پاکستان کے مقابلے کہیں زیادہ بڑا ہے اس لیے وہاں مڈھی زیادہ جلتی ہے تو دھواں بھی زیادہ اٹھتا ہے۔ انڈیا میں سموگ کا مسئلہ کہیں زیادہ شدت سے درپیش ہے۔ سموگ کے موسم میں اس کے دارالحکومت دہلی میں سانس تک لینا محال ہو جاتا ہے۔

وہاں بھی بڑا مجرم چاول کی مڈھی کا دھواں ہی قرار پایا ہے۔ پاکستانی ماہرینِ ماحولیاتی تحفظ تو اس کو پاکستان کا مجرم بھی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ہواؤں کے ساتھ سفر کرتا یہ دھواں انڈیا سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور یہاں سموگ کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

رواں برس لاہور میں سموگ کا موسم آیا ہی تھا کہ بارشیں ہو گئیں۔ اس بار قسمت اچھی رہی وگرنہ سموگ پیدا کرنے والے عوامل موجود تھے۔ دونوں ممالک میں حکومتیں تاہم اس تگ و دو میں ہیں کہ اس کا حل کیا جائے۔

Image caption انڈیا کے پنجاب میں اب پیال کا استعمال توانائی کی پیداوار میں کیا جانے لگا ہے

کیا انڈین کسان نے حل ڈھونڈ نکالا ہے؟

انڈیا میں چند ترقی پسند کسانوں نے اس مسئلے کا انتہائی سود مند حل ڈھونڈ نکالا ہے۔ وہ گذشتہ چند سالوں سے چاول کی مڈھی اور پیال کو کھاد میں تبدیل کر رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں ان سے توانائی بھی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ چند تنظیمیں ان سے گیس بنانے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔

یہ کام زیادہ تر انفرادی یا نجی سطح پر جاری ہے تاہم ایک نجی تنظیم کے نمائندے نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ان سے یہ سی این جی گیس خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس طرح دو فائدے ہوتے ہیں۔

وہی مڈھی یا پیال جو پہلے کسان جلا دیتا تھا، اب اس کے لیے قیمتی ہو جائے گی۔ وہ اسے جلانے کے بجائے بچانے کا خود اہتمام کرے گا۔ دوسرا اسے کھاد میں تبدیل کرنے سے کسان کا مالی بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ اسے گندم کے کھیت کو تقریباً 25 فیصد کم کھاد دینا پڑتی ہے۔

Image caption انڈیا میں کھیتوں کو صاف کرنے کے لیے اب مشینوں کا استعمال ہوتا ہے

فرق مشینری کا ہے

انڈیا میں کسان ایسے ہارویسٹر یا مشینیں استعمال کر رہا ہے جن کی مدد سے چاول کی فصل اٹھاتے وقت پودے کو انتہائی حد تک نیچے سے کاٹا جاتا ہے۔ اسی مشین کے ذریعے کھیت میں پھیل جانے والے پیال کو بھی سیدھی لکیروں کی شکل میں ترتیب دے دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد بیلر کی مدد سے وہیں کھیت میں بھوسے کے بیل بنا لیے جاتے ہیں جنھیں بغیر کسی انسانی عمل دخل کے باآسانی ٹریکٹر کے پیچھے نصب ٹرالی میں ڈال لیا جاتا ہے۔

اب کھیت صاف ہے۔ روٹاویٹر وغیرہ کی مدد سے بچ جانے والی مڈھی کو کاٹ پیٹ کر زمین ہی میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ وہیں یہ پانی میں گل سڑ کر کھاد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پیال کو علیحدہ سے کیمیائی عمل سے گزار کر اس سے توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اس طرح کسان کا کھاد کا خرچ کم اور پیال کے بکنے سے چاول کی فصل پر اضافی منافع ہوتا ہے۔

Image caption مشینوں کے استعمال سے اب پیال بھی کسانوں کے لیے کارآمد ہوتا نظر آ رہا ہے

پاکستانی کسان کو 'تو خاک بھی نہیں بچتی'

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے محکمۂ زراعت میں شعبہ توسیع کے ڈائریکٹر جنرل ظفریاب حیدر ان اقدامات کی افادیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا 'کسی اچھے کاشتکار سے سنا تھا کہ ہم جب مڈھی جلائیں تو ہمیں تو خاک بھی نہیں بچتی۔'

یعنی کھیت کے جل جانے کے بعد اس کی راکھ بھی ہوا میں بکھر جاتی ہے۔

'وہ کہتے ہیں نہ کہ صرف اناج آپ کا ہے، باقی زمین کا، یہ بالکل درست بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آپ مڈھی کو کاٹ کر زمین میں ملا دیں تو اس سے زمین کی ذرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔ زمین کی معدنیات کو جزب کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔'

Image caption دھان کے کھیتوں کو نذر آتش کر کے صاف کرنے کا طریقہ برسوس سے چلا آ رہا ہے

تو کسان کیوں جلاتا ہے؟

ظفریاب حیدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی کسان کے پاس اب تک ایسی مشینیں دستیاب نہیں تھیں کہ جن کی مدد سے وہ مڈھی اور پیال کو کاٹ کر زمین میں ملا پاتا۔

آغاز میں جب پیال کی بھوسے کے طور پر مانگ زیادہ ہوتی ہے تو وہ بِک جاتا ہے۔ جب مانگ پوری ہو جائے تو اس کا کوئی خریدار نہیں ہوتا۔ تب کسان کے پاس اس سے چھٹکارے کا آسان حل اسے جلانا ہوتا ہے۔

پاکستان میں چاول کاشت کرنے والا زیادہ تر چھوٹا کسان ہے۔ اس کے پاس مہنگی مشین خریدنے یا پیال کو اٹھوا کر کھیت سے نکالنے کے وسائل نہیں ہوتے۔ ایسے میں وہ ایک بار پھر 'آسان حل کی جانب جاتا ہے۔'

Image caption دھان کی مڈھی کو کھیت میں ملا دینے سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے

مشینیں کب آئیں گی؟

اب تک پاکستان میں کسان کو ڈر اور دھمکی سے روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ دفعہ 144 کا نفاذ کر کے آگ لگانے والے کسان کے خلاف کارروائی کی جاتی تھی۔ تاہم موضوع نعم البدل موجود نہ ہونے کے باعث یہ حکمتِ عملی زیادہ کارگر نہیں ہو رہی۔

گذشتہ کچھ عرصے سے کسان کو آگاہی دینے کے لیے دیہاتوں میں کمیٹیاں بھی بنائی گئی ہیں۔

ظفریاب حیدر کا کہنا تھا کہ 'اب انھیں سمجھایا جا رہا ہے کہ مستقل فائدہ اسی میں ہے کہ اسے آگ لگانے کے بجائے زمین میں ملا دیا جائے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس کام کے لیے درکار مشینیں پاکستان میں آ رہی ہیں۔ تقریباً 250 کے قریب مشینین گوجرانوالہ ڈویژن میں کسانوں کے پاس آ چکی ہیں۔

Image caption بعض مشین بیرون ملک سے منگائی گئی ہیں جبکہ بعض ملکی سطح پر تیار کی جا رہی ہیں

'کچھ مشینیں بیرونِ ملک سے آئیں تھیں اور اس کے بعد چنیوٹ، ڈسکہ اور دیگر شہروں میں ریورس انجینیئرنگ کر کے انھیں مقامی طور پر تیار کر لیا گیا ہے۔ یہ مشینین ہارویسٹر ہی کی وہ شکل ہے جو پودے کو انتہائی نیچے سے کاٹے گی۔'

ظفریاب حیدر کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومتِ پنجاب سے کسانوں کے لیے یہ مشینیں چھوٹ پر حاصل کرنے کے لیے رقم مختص کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ اس سے چھوٹا کسان بھی فائدہ اٹھا پائے گا۔ 'ایک بار یہ مشینیں عام ہو گئیں تو جو خرید نہ بھی سکے وہ کرائے پر لے کر استعمال کر سکتا ہے۔'

تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایسا ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ کیا آئندہ برس سموگ کا موسم ایک بار پھر آئے گا؟

اسی بارے میں