پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑیں اور چوکیاں

پاکستان افغانستان سرحد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

باڑ پاکستان کی جانب سے 11 فٹ اور افغانستان کی طرف سے 13 فٹ بلند ہے

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ڈھائی ہزار کلو میٹر طویل سرحد کے ساتھ ساتھ 233 سرحدی چوکیوں کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا ہے جبکہ 144 مزید چوکیوں کی تعمیر پر کام ہو رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق ان چوکیوں کی تعمیر کے علاوہ پاکستان افغانستان کی سرحد کے تقریباً پانچ سو کلومیٹر سے زیادہ طویل حصے پر باڑ لگانے کا کام بھی مکمل کر چکا ہے۔

اے پی پی کے مطابق صحافیوں کے ایک وفد نے جمعے کو طورخم کی سرحد کا دورہ کیا جہاں انھیں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں اور دہشت پسند عناضر کی بیخ کنی کرنے کی مہم کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد جسے ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، اس لحاظ سے متنازع ہے کہ افغانستان کی طرف سے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا جاتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

پر روز بارہ سو ٹرک سرحد عبور کرتے ہیں

پاکستان کے سکیورٹی اداروں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والی شدت پسند کارروائیاں اکثر سرحد پار سے کی جاتی ہیں اور ان کو روکنے کے لیے اس سرحد پر کڑئی نگرانی کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی سرحد پاکستان میں منشیات اور دیگر اشیا کی سمگلنگ کا بھی بڑا راستہ ہے۔

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا سے متصل افغانستان کی سرحد تقریباً 1403 کلو میٹر طویل ہے اور انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

طورخم کا شمار دنیا کی مصروف ترین سرحدوں میں ہونے لگا ہے

ان علاقوں میں باڑ لگانے کے کام کو ناممکن تصور کیا جا رہا تھا۔ اس انتہائی دشوار گزار علاقے میں باڑ لگانے کا کام فروری سنہ 2017 میں شروع کیا گیا تھا۔

اے پی پی نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ باڑ لگانے کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں اس سال دسمبر تک 539 کلو میٹر تک باڑ لگانی تھی جس کو وقت پر مکمل کر لیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اگلے دو برس میں بالترتیب 349 اور 459 کلو میٹر حصے پر باڑ لگائی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اس دشوا گزار پہاڑی علاقے میں باڑ لگانے انتہائی مشکل تصور کیا جا رہا تھا

حکام کے مطابق طورخم کے راستے سرحد کے آر پار غیر قانونی نقل و حرکت کو ناممکن بنا دیا گیا ہے اور صرف قانونی سفری دستاویزات کے حامل افراد ہی سرحد کے آر پار آ جا سکتے ہیں۔

سرحد پر لگائی جانے والی خار دار تاروں سے بنائی گئی باڑ پاکستان کی جانب سے 11 فٹ بلند ہے جبکہ افغانستان کی جانب سے اس کی اونچائی 13 فٹ ہے۔ ان دونوں باڑوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ ہے جس میں خار دار تاروں کا جال ڈال دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اسی راستے سے وسطی ایشیا کی ریاستوں تک رسائی ممکن ہے

اس سرحد کی مستقل نگرانی کے لیے سرحد کے ساتھ ساتھ چوکیوں کی تعمیر کے علاوہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ ان میں نگرانی کا الیکٹرانک نظام، کلوز سرکٹ کیمرے اور ڈرونز کیمروں کی مدد بھی لی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

سرحد کے پار سے دہشت گردوں کے حملوں کا خطرہ رہتا ہے

حکام کے مطابق سرحد پر باڑ لگانے کے کام کے آغاز سے اب تک 1900 افغان شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے واپس سرحد پار بھیجا جا چکا ہے جبکہ چھ سو پاکستانیوں کو غیر قانونی طور سرحد پار جانے سے روکا گیا ہے۔

باڑ کا کام مکمل ہونے کے بعد حکام کے مطابق قانونی طور پر سرحد پار آمد و رفت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اس بارے میں اعداد د شمار دیتے ہوئے سیکورٹی حکام کا کہنا تھا کہ روزانہ تقریباً 12000 سرحد کے آر پار جاتے ہیں جبکہ 1200 ٹرک بھی تجارتی مال لے کر افغانستان جاتے یا آتے ہیں۔