انیلہ شاہین: پشاور پریس کلب کی پہلی خاتون نائب صدر کون ہیں؟

انیلہ شاہین
Image caption اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبوو کے لیے کام کرنا انیلہ شاہین کا شوق ہے

’پریس کلب کی سیاست ہمیشہ سے مشکل کام ہے لیکن میں نے ڈٹ کر اس میں حصہ لیا اور ہمیشہ اسی سوچ کے ساتھ میدان میں اتری کہ اگر نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے۔‘

یہ کہنا ہے پشاور پریس کی نو منتخب نائب صدر انیلہ شاہین کا، جو پشاور پریس کلب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔

پشاور پریس کلب کے سالانہ انتخابات کا انعقاد 29 دسمبر کو ہوا جس میں مخلتف عہدوں کے لیے 57 مرد امیدوار میدان میں اترے تھے۔

نائب صدر کے عہدے کے لیے انیلہ شاہین کے مدِ مقابل تین مرد امیدوار تھے جس میں انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق انیلہ شاہین نے 135 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

انیلہ شاہین سنیچر کی رات گئے تک دیگر ممبران کے ساتھ نتائج کا انتطار کر رہی تھیں۔

وہ اپنی کامیابی کے لیے اتنی پر امید تھیں کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوئے انھوں نے ہنستے ہوئے کہا ’میں دیکھتی ہوں کون مجھے شکست دے سکتا ہے؟‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی میڈیا پر قابو پانے کی ’منظم کوشش‘

’سیلف سینسر شپ: ’اب جان کی بجائے کام بند کرنے کی دھمکی کافی ہے‘

دس منٹ میں چینل بند کریں ورنہ۔۔۔

’اپنی بیٹی کو صحافی نہیں بننے دوں گی‘

Image caption انیلہ شاہین نے نائب صدر کے عہدے کے لیے اپنے مدد مقابل تین مرد امیدواروں کو شکست دی

انیلہ شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے دو سرکاری نوکریاں چھوڑ کر صحافت کا پیشہ اختیار کیا ہے۔

انھوں نے پریس کلب کی سیاست کے بارے میں بتایا کہ وہ گذشتہ دس سال سے کلب کی سیاست کر رہی ہیں اور انھیں اندازہ ہو گیا ہے کہ خواتین کے لیے ہر جگہ سیاست میں اتنی جگہ نہیں دی جاتی جتنی دی جانے چاہیے۔

انیلہ شاہین کا کہنا ہے کہ صحافت کے ساتھ ساتھ ان کا یہ ہمیشہ شوق رہا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔

انیلہ شاہین پشاور میں نجی ٹی وی چینل 24 کی رپورٹر تھیں۔ پاکستانی میڈیا میں مبینہ مالی بہران کے پیش نظر جب چینل انتظامیہ نے ان کے کچھ ساتھیوں کو نکالنے کی بات کی تو انھوں نے بطور احتجاج اس لیے استعفیٰ دیا تاکہ باقی ساتھیوں کی نوکری ختم نہ ہو جائے۔

آج کل وہ بطور فری لانس رپورٹر کام کرتی ہیں اور 17 سالوں سے زیادہ عرصے تک پشاور میں بطور صحافی مخلتف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لیے کام کر چکی ہیں۔

Image caption وہ گذشتہ 17 سالوں سے زیادہ پشاور میں بطور صحافی مخلتف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لیے کام کر چکی ہیں

انیلہ شاہین نے اس سے پہلے خیبر یونین آف جرنلسٹس کی پہلی خاتون جنرل سیکریٹری کا اعزاز بھی اپنے نام کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ میڈیا سمیت تمام شعبوں میں خواتین کے لیے مشکلات ضرور ہیں لیکن اگر کسی خاتون میں جذبہ اور شوق ہو تو کوئی بھی ان کا راستہ نہیں روک سکتا۔

ان کے بقول ’صحافت میں کبھی ڈر محسوس نہیں کیا ہے۔ سوات سمیت صوبے کے مخلتف علاقوں میں فوجی آپریشن کی ڈٹ کر کوریج کی ہے۔ کبھی کبھی شوہر اور گھر والے کہتے ہیں کہ مشکل جگہوں میں جا کر کوریج نہ کروں لیکن مشکلات کا مقابلہ کرنا ہی صحافت کا نام ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ اس طرح کے اہم عہدوں پر خواتین کا آنا کتنا اہم ہے تو انھوں نے بتایا کہ اس طرح کے عہدوں پر آ کر عورتوں کے حقوق اور ان کے مسائل پر بات کرنی انتہائی اہم ہے۔

'ابھی میں پریس کلب کے ایک اہم عہدے پر آئی ہوں تو وہاں میں مردوں سمیت خواتین کی مشکلات پر بھی بات کروں گی۔ شاید مردوں کو خواتین کی مشکلات کا اتنا اندازہ نہ ہوں جتنا ایک خاتون کو ہو سکتا ہے۔'

Image caption انیلہ کہتی ہیں کہ کلب میں خواتین کے الگ بیٹھنے کا انتظام بھی نہیں ہے

انھوں نے کلب کے مرد ممبران کے بارے میں بتایا کہ ان کے پینل سمیت بہت سارے مردوں نے ان کی بھرپور حمایت کی ہے۔

انیلہ شاہین نے پریس کلب کی دیگر خواتین ارکان کے بارے میں بتایا کہ کچھ خواتین ووٹ اس لیے بھی ڈالنے نہیں آئی تھیں کیونکہ کلب میں خواتین ارکان کے الگ بیھٹنے کی جگہ تک موجود نہیں ہے۔

اسی بارے میں