لورالائی چھاؤنی پر حملہ، چار اہلکار ہلاک، چار زخمی

بلوچستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں چھاؤنی پر ہونے والے حملے میں اب تک ملنے والی اطلاع کے مطابق کم از کم چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور چارزخمی ہوئے ہیں۔

لورالائی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ حملہ گذشتہ شب لورالائی شہر میں واقع فوجی چھاؤنی پر کیا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے منگل کی شام میں جاری کیے گئے بیان کے مطابق دہشت گردوں نے چھاؤنی پر حملہ کیا لیکن وہاں داخل ہونے پر ناکامی کے باعث انھوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

حکام کی جوابی کاروائی کے نتیجے میں چار شدت پسند ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان: عسکریت پسند تنظیموں کی ’مشترکہ کارروائی‘

گوادر میں جھڑپ، چار ’حملہ آور‘ ہلاک

گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

بلوچ مزاحمتی تحریک اب کوئی مسئلہ نہیں: چینی سفیر

مقامی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ چار حملہ آوروں نے صبح سویرے لورالائی کینٹ پر حملہ کیا۔ اُن کے مطابق چار اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق چار حملہ آوروں میں سے دو نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا، جبکہ دو حملہ آور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے۔

تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ کس جانب سے کیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تعداد کتنی تھی۔

سرکاری سطح پر ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ لورالائی کینٹ پر حملہ کرنے والے کون تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google Maps
Image caption لورالائی کا نقشہ

لورالائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں اندازاً 140 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

اس ضلع کی سرحدیں مغرب میں افغانستان سے متصل دو اضلاع ژوب اور قلعہ سیف اللہ سے جبکہ ژوب کی سرحد شمال میں جنوبی وزیرستان سے ملتی ہے۔

بلوچستان میں شورش سے متاثرہ علاقوں کی نسبت ان اضلاع میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہے تاہم ماضی میں ان اضلاع میں پہلے بھی بد امنی کے واقعات وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں۔

ان اضلاع میں شدت پسندی سے متعلق حملوں کی ذمہ داری طالبان اور دیگر مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں