سندھ میں حکومت نہیں، وزیر اعلیٰ تبدیل کرنے کی کوشش

بلاول تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر 'صدر زرداری اجازت دیں تو دس دن میں (وفاقی) حکومت گرا سکتے ہیں'

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بلاول بھٹو زرداری کے وفاقی حکومت گرانے سے متعلق بیان کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ’ابو نہیں گرا سکے تو آپ کیا گرائیں گے‘!

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پی ٹی آئی سندھ میں حکومت گرانے کے لیے کوشاں ہیں۔

’ایک تاثر پیدا کیا جا رہا تھا کہ ہم گویا سندھ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، کسی وفاقی وزیر نے نہیں کہا کہ گورنر راج لگ رہا ہے۔۔۔ ہاں میڈیا میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اور میڈیا میں ایسا ہوتا ہے، میڈیا کا اپنا کردار ہے اور وہ تجزیے کرتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیر کے روز کہا تھا کہ اگر ’صدر زرداری اجازت دیں تو دس دن میں (وفاقی) حکومت گرا سکتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

زرداری، بحریہ گروپ کی جائیداد کی منتقلی پر پابندی

’ایک ہزار ارب روپے ادا کر دیں، تمام مقدمات ختم‘

آصف زرداری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم

زرداری سمیت 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل

فواد چوہدری نے بتایا کہ ان کا آج کے روز سندھ جانے کا منصوبہ تھا اور ملاقاتیں بھی تھیں، مگر ’سپریم کورٹ کی آج کی کارروائی سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ہم کسی تبدیلی کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ اور وزیراعظم صاحب کا کہنا تھا کہ ایسا تاثر نہیں جانا چاہیے‘، اسی لیے وہ سندھ نہیں گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کہہ رہے ہیں کہ مراد علی شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے اور پیپلز پارٹی کا نیا وزیراعلیٰ آنا چاہیے۔ گورنر راج کا تو جواز نہیں مگر اس بات کا بھی کوئی جواز نہیں کہ وہ وزیراعلیٰ اپنی حکومت ایک نجی گروپ کے پیسے بنانے کے لیے استعمال کر رہا تھا وہ (عہدے پر) برقرار رہے۔‘

عدالتی ردِعمل

یاد رہے کہ پیر کی صبح سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے وفاقی کابینہ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وفاقی کابینہ نے حقائق تلاش کرنے کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر وفاقی کابینہ وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت اُن صوبوں کے وزرا اعلیٰ کا نام ای سی ایل میں شامل کرتی جہاں ان کی اپنی حکومت ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران جعلی اکاؤنٹس کے مقدمے میں مراد علی شاہ کا نام آنے پر صوبہ سندھ میں گورنر راج کا معاملہ بھی آیا تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے گورنر راج لگایا تو ایک منٹ میں اڑا دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOIB

پیپلز پارٹی کا ردِ عمل

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری سمیت پاکستان تحریک انصاف کے دیگر وزرا کی ’بیان بازی‘ کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جے آئی ٹی نے ایک بار بھی سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو طلب نہیں کیا، انہیں سنے بغیر ان پر الزام لگا دیا گیا اور پھر وفاقی حکومت نے ان کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا۔‘

ناز بلوچ نے کہا کہ وفاق کا کام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے، لیکن یہاں ’صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی جا رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی دیگر حکومتوں کو قبول نہیں کر پا رہی، یہ غیر جمہوری سوچ کے ساتھ حکومت چلانا چاہتے ہیں۔‘

فواد چودھری کے اس بیان پر کہ پیپلز پارٹی کے کئی رہنما ان سے رابطے میں ہیں، ناز بلوچ نے کہا کہ یہ تمام ’قیاس آرائیاں اور جھوٹ‘ ہیں، جبکہ ’پیپلز پارٹی کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز پارٹی قیادت کے ساتھ مضبوط رابطے میں ہیں، البتہ خود پی ٹی آئی کے اراکین ہم سے رابطے میں ضرور ہیں۔‘ خیال رہے کہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی 99 نشستوں کے ساتھ اکثریتی جماعت ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے پاس کل 64 نشستیں ہیں۔

تجزیہ کار نمبر گیم میں پاکستان تحریک انصاف کو خاصہ کمزور قرار دیتے ہیں، لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سندھ میں سیاسی منظرنامے پر تشویش میں اضافہ ضرور دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ’چند سیٹوں کے اتحاد کی بدولت قائم کمزور حکومت‘ سمجھتے ہیں۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی اتحادیوں سمیت 183 نشستیں ہیں جبکہ حزب اختلاف کے پاس 159 نشستوں کی طاقت ہے۔

صحافتی رائے

یاد رہے کہ پاکستان میں گذشتہ چند روز کے دوران میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت پی ٹی آئی صوبہ سندھ میں لیڈر شپ کو تبدیل کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان کے میزبان شہزاد اقبال نے اپنے شو میں کہا کہ پی ٹی آئی غیر رسمی طور پر دعوے کر رہی ہے کہ وہ سندھ اسمبلی میں پی پی پی کے اراکین سے رابطے کر رہی ہے تاکہ وہاں پی پی پی کی حکومت کو ختم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی نہیں غیر جمہوری لیڈر شپ اس اقدام میں ملوث ہے۔

ان کا یہ بھی موقف تھا کہ جو بھی آپشنز ہیں انھیں استعمال کر کے پی پی پی کی سندھ میں حکومت کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سینئیر صحافی نسیم زہرہ نے چینل 24 پر اپنے ٹی وی شو میں کہا کہ پی پی پی کی حکومت خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ اس موقع پر تجزیہ نگار مظہر عباس نے کہا کہ پی پی پی مراد علی شاہ کو ہٹانے کے لیے غور نہیں کر رہی کیونکہ یہ تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا کہ مراد علی شاہ کرپشن کیسز میں ملوث ہے۔

اسی پروگرام میں صحافی سلیم صافی نے کہا کہ یہ وہ پی ٹی آئی نہیں جو 22 برس پہلے بنی تھی۔ ’وہ دن تھے جب پی ٹی آئی میں میچور اور سنجیدہ لوگ تھے لیکن انھیں سائڈ پر کر دیا گیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوئی سمت نہیں ہے۔

اسی بارے میں