قصور کی زینب کے قتل کا ایک سال: بچوں کو آخر کیسے بچایا جائے؟

امین انصاری
Image caption امین انصاری سمجھتے ہیں کہ قصور کے بچے آج بھی محفوظ نہیں ہیں

جب محمد امین انصاری نے پھولوں کا لفافہ اٹھائے قصور کے قبرستان میں قدم رکھا تو ان کی آنکھیں نم تھیں۔ ان کی بیٹی زینب امین کی موت کو ایک برس بیت چکا تھا۔ وہ اپنی اس بیٹی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آئے تھے جو اگر زندہ ہوتیں تو آج سات برس کی ہوتیں۔

قصور میں گذشتہ چند برسوں میں زینب سمیت انھی کی ہم عمر آٹھ کم سن بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والے مجرم 24 سالہ عمران علی کو گذشتہ برس اکتوبر میں پھانسی دی گئی تھی۔

قصور کے بےقصور: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

زینب امین کی پہلی برسی کے وقت قصور شہر میں شاید کافی کچھ بدل چکا ہے۔ یہاں کے باسی خصوصاً امین انصاری کے محلے دار اب میڈیا کی گاڑیاں دیکھ کر چونکتے نہیں۔ انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ کہ میڈیا کے نمائندے کیا سوال پوچھیں گے؟

ان واقعات کی ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر کا اثر ہے یا کچھ اور تاہم یہاں کے باسیوں کے رویوں میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

اس حوالے سے جاننے کے لیے مزید خبریں پڑھیے

زینب کیس: مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت کا حکم

زینب کیس: کیا قصور میں اب بچے محفوظ ہیں؟

قصور میں بچیوں کے قتل، مفروضے اور حقائق

قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

شہر کی کالج روڈ سے منسلک گلی میں اپنے اسی مکان کے صحن میں بی بی سی سے گفتگو کرتے امین انصاری کہتے ہیں اب لوگوں میں احساسِ ذمہ داری بڑھ گیا ہے۔

'سوائے چند مجبور لوگوں کے اب والدین زیادہ تر کم سن بچیوں اور بچوں کو اکیلا باہر نہیں جانے دیتے۔ ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔'

پولیس نے کمسن بچیوں کے قاتل عمران علی کو سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے شناخت کیا تھا۔ قصور شہر کی کئی گلیوں میں لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر ایسے ہی کیمرے نصب کروا رکھے ہیں تاہم قصور سمیت پاکستان بھر میں اگر کچھ نہیں بدلا تو وہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی شرح ہے۔

زینب انصاری کے واقعے کے بعد خصوصاً یہ شہر انتہائی توجہ کا مرکز کا رہا ہے۔ اس توجہ سے جہاں مجرم جلد پکڑا گیا اور ریکارڈ تیزی سے اسے سزا ہوئی وہیں لوگوں میں آگہی بھی پھیلی۔ تاہم یہاں بھی کمسن بچوں سے زیادتی کے واقعات کا سلسلہ تھم نہیں پایا۔

Image caption زینب انصاری سے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث کا آغاز ہوا

ہر روز 12 بچوں کا استحصال

زینب کے والد دیگر والدین میں اس حوالے سے آگہی پھیلانے پر اپنی تمام تر توانائی مرکوز کیے ہیں۔ محض ایک روز قبل قصور سے چند کلومیٹر دور واقع ایک قصبے سے ایک صاحب ان سے مشورہ کرنے آئے۔ ان کی کمسن بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

'انھوں نے بتایا کہ بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا اور اس نے اقبالِ جرم بھی کر لیا تھا پھر بھی اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ اب وہ مظلوم کہاں جائے؟'

امین انصاری سمجھتے ہیں کہ قصور کے بچے آج بھی محفوظ نہیں ہیں۔

گذشتہ برس سامنے آنے والی اپنی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے بچے محفوظ نہیں ہیں۔

ساحل کے میڈیا پروگرام آفیسر ممتاز گوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2018 کے پہلے چھ ماہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 2322 بچے زیادتی کا شکار ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

جیکٹ کے دو بٹن ملزم عمران علی کی گرفتاری میں معاون

’زینب تمام مظلوموں کا چہرہ بن گئی ہے‘

قصور کا وہ ’بے قصور‘ جسے قاتل سمجھا جاتا رہا

ممتاز گوہر کا کہنا تھا کہ 'ان اعداد و شمار کو دیکھیں تو اس کا مطلب ہے پاکستان میں روزانہ 12 بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2017 کے مقابلے میں سنہ 2018 کے پہلے چھ ماہ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی شرح میں 32 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سنہ 2017 میں ایسے 3445 واقعات سامنے آئے تھے۔

Image caption ساحل کے میڈیا پروگرام آفیسر ممتاز گوہر کے مطابق سنہ 2018 کے پہلے چھ ماہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 2322 بچے زیادتی کا شکار ہوئے

صوبہ پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی گذشتہ برس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ادارے نے 5157 گمشدہ، لاوارث یا گھروں سے بھاگ جانے والے بچے اور بچیوں کی دادرسی کی اور ان میں سے 4987 کو ان کے خاندان سے ملا دیا گیا۔

ادارے کے ایک تحقیقاتی افسر کے مطابق ایسی حالت میں ملنے والے دادرسی کے طلب گار زیادہ تر بچے اور بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔

'اس نے بچی کو خطرے کا احساس ہی نہیں ہونے دیا'

حکومتی یا فلاحی تحقیقاتی ادارے ان وجوہات اور عناصر کا تعین با رہا کر چکے ہیں جو بچوں سے زیادتی کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں آگہی کی کمی، کمزور قوانین یا پھر ان پر عملدرآمد کا فقدان نمایاں ہیں۔

امین انصاری ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ قبرستان سے واپسی پر راستے میں انھوں نے ایک گلی کی طرف اشارہ کیا۔

Image caption امین انصاری کے مطابق عمران علی نے ان کی بیٹی کو خطرے کا احساس تک نہیں ہونے دیا

زینب امین کو بہلا پھسلا کر ساتھ لے جانے کے بعد عمران علی اس ہی گلی کے راستے باہر آیا تھا۔ وہاں لوگوں کی موجودگی کے باعث وہ واپس لوٹا اور اپنے اور زینب کے گھر کے قریب ہی واقع کوڑے کے ڈھیر کی جانب چلا گیا تھا۔ وہیں سے بچی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

'ہم نے اپنی بچی کو آگاہی دے رکھی تھی۔ وہ ٹی وی پر بھی اگر کوئی ایسی چیز دیکھتی تھی، سوال پوچھتی تھی، تو اسے بتاتے تھے مگر اس (مجرم) نے ہماری بچی کو خطرے کا احساس ہونے ہی نہیں دیا۔'

پاکستان: پانچ سال میں بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار واقعات

ان کا کہنا تھا کہ وہ بچی کو ماں باپ سے ملانے کے بہانے لے کر جا رہا تھا پھر بھی جب خطرہ محسوس کرنے پر بچی نے اس سے پوچھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں تو اس نے زینب کو بتایا 'ہم راستہ بھول گئے ہیں گھر کی طرف واپس چلتے ہیں۔'

اس کے بعد چند گز کے فاصلے پر واقع اپنے گھر پہنچنے تک امین انصاری خاموش رہے۔ جب بولے تو ان کا کہنا تھا 'ہمیں سزائیں سخت کرنا ہوں گی۔ مجرموں کو جلد پکڑا جائے اور سزا دی جائے تو ایسے جرائم میں کمی آئے گی۔'

عمران علی کو فوراً سزا

تصویر کے کاپی رائٹ PFSA
Image caption عمران علی کو عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جس پر گذشتہ برس اکتوبر میں عملدرآمد بھی کر دیا گیا

کم از کم زینب امین کے مقدمہ میں مجرم کو ریکارڈ تیزی سے گرفتار کر کے اس کے خلاف اتنی ہی تیزی سے مقدمہ چلا کر اسے سزا دلوائی گئی اور محض نو ماہ کے اندر اسے پھانسی دے دی گئی تاہم اس کے بعد بھی قصور میں ایسے جرائم رک نہیں پائے۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ بھی مسئلے کا حل نہیں؟ ساحل کے ممتاز گوہر سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر واقعات کو زینب جتنی توجہ نہیں ملتی۔ان کے مطابق سب سے اہم بات ہے کہ قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔

پاکستان میں بچوں کی حفاظت کے قوانین موجود ہیں۔ مثال کہ طور پر سنہ 2017 میں ضابطہ تعزیراتِ پاکستان میں اصلاحات کے ذریعے بچے کی عمر سات برس سے دس کر دی گئی تھی۔

چند مزید اصلاحات کے بعد پورنوگرافی وغیرہ کو بھی بچوں کے خلاف جرائم میں شامل کیا گیا اور مختلف جرائم کی تجویز کردہ سزاؤں میں بھی اضافہ کیا گیا۔ تاہم ممتاز گوہر کا ماننا ہے کہ قوانین کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

'میری حکومت سے یہ درخواست ہو گی کہ بچوں کے خلاف جرائم کو سنگین جرائم قرار دیا جائے۔ ایسے مقدمات میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ کم سے کم عرصے میں ان کے فیصلے ہونے چاہیں۔'

آگاہی مہمات کا کیا ہوا؟

ان کے خیال میں ساتھ ہی ساتھ معاشرتی رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ زینب کے والد امین انصاری کا ماننا ہے کہ ایسا صرف آگاہی پھیلانے سے ممکن ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس حوالے سے ایک کوشش کی۔

Image caption زینب کے والد والدین میں آگاہی پھیلانے کے حوالے سے وہ خود بھی زینب فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں

گزشتہ برس ہی ساحل ہی کے مدد سے بچوں کو آگہی دینے کی غرض سے پمفلٹ تیار کیے گئے اور سکولوں تک پہنچائے گئے۔ خصوصاً دیہاتوں میں آگہی مہمات کا انعقاد کیا گیا۔ تاہم وہ سلسلہ تھم گیا۔

امین انصاری کا کہنا تھا کہ جنسی تشدد اور اس سے بچاؤ کے حوالے سے آگہی اور موجودہ قوانین کے علم کو سکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

'والدین ہر وقت بچے کے ساتھ رہیں ایسا ہمارے کلچر میں ممکن ہی نہیں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ بچوں اور والدین دونوں کو اس قدر علم ہو کہ کب اور کہاں خطرہ ہے اور اس صورت میں کیا کرنا ہے۔'

والدین میں آگاہی پھیلانے کے حوالے سے وہ خود بھی زینب فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

'ہماری زینب تو ہمیں نہ مل سکی، اب ہم چاہتے ہیں کسی اور کی بچی زینب جیسے حالات نہ دیکھنے پڑیں۔'

اسی بارے میں