محمد حنیف کا کالم: آخری جیالا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بچپن میں اس کا نام سنا تو وہ شادا بدمعاش تھا کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے کیا بدمعاشی کی ہے۔ ہمارے سکول کالج تک پہنچتے ہوئے وہ چودھری شادا ہو گیا اور آخری چند برسوں میں وہ حاجی سجاد، چوہدری سجاد وغیرہ ہو چکے تھے۔

کچھ مقامی لیجنڈ ایسے ہوتے ہیں جنھیں مقامی لوگوں کی تین نسلیں جانتی ہیں لیکن ضلع سے باہر کوئی بھی نہیں جانتا۔ چوہدری شادا اوکاڑہ کے ایسے ہی لیجنڈ تھے۔ ان کی سیاست کے عروج کا دور اس وقت تھا جب وہ بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں ایک کارپوریشن کے ایڈوائزر لگائے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

’وزیراعظم عمران خان‘

شکور شاد: بھٹو کا جیالا، بلاول کا باغی

بہت بری بات!

انھوں نے ایڈوائزر لگنے کے بعد وہی کیا جو جیالے دوسرے جیالوں کے ساتھ کرتے تھے یعنی پرانے وفاداروں کو نوکریاں دلوائیں۔ اپنے بےروزگار حمایتیوں کو حکومت میں آنے کے بعد نوکری دلوانا کبھی انتخابی سیاست کا ستون سمجھا جاتا تھا اب اسے کرپشن کہا جاتا ہے۔

ڈیڑھ دو سال طاقت کے قریب رہنے کے علاوہ چوہدری شادا اس طرح کے سیاسی کارکن رہے جنھیں آج کل حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یعنی وفادار، دھڑے بندی اور ذات برادری کی سیاست کے چیمپیئن۔ اس دور میں بھی ارائیں برادری کو اکھٹا کرنے کی باتیں کرنے والے، ایک ایسے وقت میں جب ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کہا کرتے تھے کہ اگر ایک ارائیں گھر میں چار بہن بھائی ہیں تو وہ کسی بات پر متفق نہیں ہوتے، آپ پوری آرائیں برادری کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔

اگر انسان ایک سیاسی جانور ہے تو چوہدری شادا ایک بوڑھے شیر تھے۔ جب کوئی الیکشن یا دوسری سیاسی مہم آن پڑتی ہے تو ان کی آنکھوں میں چمک آجاتی۔ دوستوں کو اکٹھا کر کے ایک ایک کا موقف سنتے، گلی محلے والوں سے پوچھتے پھر مقامی سیاستدانوں کی کلاس، بیک گراؤنڈ اور ان کی ذات برادریوں کے بدلتے مزاج کو سامنے رکھ کر اپنا تجزیہ شروع کرتے کہ ’پتر جی گل ایہہ اے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 1988 کے تاریخی الیکشن کے دوران پنجاب میں انتخابی مہم میں شادا چوہدری بےنظیر بھٹو کے باڈی گارڈ تھے

ان کی زندگی کے آخری چند برس میں ان سے ملاقات ہوتی تھی۔ میں کراچی سے جاتا تھا اور وہ میرے بچپن کے ایک دوست کے ڈیرے پر چارپائی ڈال کر پڑے رہتے تھے۔ ساتھ ہمیشہ بےروزگار نوجوان کمپنی کے لیے موجود رہتے تھے۔ میں شاید شہر سے جاتا تھا اس لیے مجھے پتر نہیں بلکہ بیٹا جی کہتے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے گریجویٹ تھے اپنی بھولی بسری انگریزی بھی مجھ پر آزماتے تھے۔

کبھی کبھی کریدنے پر ماضی کا قصہ بتا دیا کرتے تھے۔ تب ان کا اندر کا مرجھایا ہوا جیالا کھل اٹھتا تھا۔ ایک دفعہ 1988 کے تاریخی الیکشن کا قصہ سنایا جب وہ پنجاب میں انتخابی مہم میں بے نظیر بھٹو کے باڈی گارڈ تھے۔ وہ زمانے تھے جب پیپلزپارٹی کے پاس پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کی فوج نہیں ہوتی تھی بغیر بندوقوں کے جیالوں کو خود ہی گارڈ ڈیوٹی دینی پڑتی تھی۔

افواہ تھی کہ بےنظیر بھٹو ماں بننے والی ہیں۔ صرف قریبی ساتھیوں کو معلوم تھا کہ افواہ صحیح ہے اور مستقبل میں پارٹی کا چیئرمین بننے والا بلاول بھٹو بےنظیر کے پیٹ میں تھا۔ بےنظیر پاک پتن میں بابا فرید کے مزار پر حاضری دینے آئیں تو چوہدری شادا ان کی حفاظت کے ذمہ دار تھے۔ وہاں عورتوں کا ایک ہجوم تھا جو ان کے سر پر ہاتھ پھیرتا تھا، کوئی ان کے ہاتھ چومتی تھی، کوئی گلے لگاتی تھی۔ مجھے مسلسل ڈر کر بی بی کی طبیعت خراب نہ ہو جائے

اتنے میں ایک بوڑھی مائی کہیں سے آئی۔ بےنظیر نے اسے گلے لگایا اور اب اس مائی نے بی بی کو ایسی جپھی ڈالی کہ چھوڑے ہی نہ اور بےنظیر کو بھینچتی چلی جائے۔ میرے ذہن میں ایک دم خیال آیا کہ یہ مائی ہمارے دشمنوں کی ایجنٹ ہے اور بی بی کا بچہ گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں عورتوں کا ہجوم چیر کر آگے بڑھا پوری طاقت سے عورت کو کندھوں سے پکڑ کر کھینچا اور دھکا دے کر بی بی سے دور پھینکا۔ میں نے اتنے سال بی بی کی ڈیوٹی کی، انھوں نے کبھی مجھ سے اونچی آواز میں بات نہیں کی لیکن اس وقت بی بی مجھ پر چیخیں، ’سجاد وٹ آر یو ڈوئنگ۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرانے جیالوں کی طرح چوہدری شادا کو بلاول میں بےنظیر کی جھلک دکھائی دیتی تھی

چوہدری صاحب اس طرح کے جیالوں میں سے تھے جو بےنظیر کی ایک ڈانٹ بھی چھاتی پر تمغے کی طرح سجا کر پھرتے تھے۔ پرانے جیالوں کی طرح زرداری سے بیزار تھے لیکن بلاول کی سیاست میں آمد کے بعد پوچھتے تھے بیٹا جی آپ کو بھی اس میں بی بی کی جھلک نظر آتی ہے یا نہیں۔

چند سال پہلے ایک ان کے قریبی عزیز ترقی کرکے فوج میں جنرل بنے اور پھر کراچی کے کور کمانڈر بن گئے۔ زندگی میں پہلی دفعہ چوہدری صاحب نے مجھے کراچی فون کیا اور کہا بیٹا جی آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے خاندان میں کبھی کوئی حوالدار بھی نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا چوہدری صاحب آپ بزرگ ہیں، دعا کریں زندگی میں کوئی ایسا کام نہ آن پڑے جس کے لیے کورکمانڈر کے پاس جانا پڑے۔ فرمایا یہ بھی ٹھیک کہتے ہو بیٹا جی!

گذشتہ ہفتے اوکاڑہ میں اسی جگہ بیٹھے تھے جہاں گذشتہ کئی سال گزارتے تھے۔ کبھی کبھی آنے جانے والے سے پوچھتے تھے کوئی بندا ہے ایسا ہے جس میں کرنٹ ہو جو سیدھی راہ دکھا سکے۔ اگر کوئی کسی صوفی کا کسی مزار کا بتاتا تو اسے گاڑی میں ساتھ بٹھا کر چل پڑتے ورنہ وہیں پر چارپائی پر دراز ہو جاتے اور ساتھیوں میں سے کسی کی ڈیوٹی لگا تے کہ اخبار کو پنکھا بنا کر ڈیوٹی کرے تاکہ ان پر کوئی مکھی نہ بیٹھ جائے۔

پنکھے کی ڈیوٹی والا سمجھتا کہ گہری نیند سو گئے ہیں تو پنکھا بند کر دیتا ہوں پھر کہیں سے آ کر مکھی بیٹھ جاتی تو ہر بڑا کر اٹھتے اور کہتے اوئے پترا! تو ایک مکھی سے ہار گیا۔

خدا غریقِ رحمت کرے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں