پاکستان: سابقہ قبائلی علاقوں کا نئے دور کی طرف سفر

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر انتخابات رواں سال جولائی سے پہلے ہوں گے جبکہ اختیارات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ عبوری وقت کے لیے انھیں کچھ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

قبائلی علاقوں کے صوبائی حلقوں کے حوالے سے حد بندی کر دی گئی ہے اور قبائلی علاقوں کی کل صوبائی نشستیں جن پر انتخابات ہوں گے ان کی تعداد 16 ہے جبکہ پانچ مخصوص نشستیں ہیں۔

'میں نے وزیرستان میں کیا دیکھا'

’بل پر بلاوجہ کا اعتراض غیر ضروری ہے‘

پی ٹی آئی سے کراچی والے خوش، پشاور والے ناخوش

صوبائی اسمبلی کے انتخابات

گورنر خیبر پختونخوا نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر انتخابات کے لیے فرنٹیئر ریجنز یا نیم قبائلی علاقوں میں یہ مشکل تھی کہ یہاں انتخابات کیسے کرائے جائیں کیونکہ یہ تمام قبائلی علاقوں سے منسلک ہیں لیکن اس مرتبہ نیم قبائلی علاقوں کے لیے ایک نشست رکھ دی گئی ہے تاکہ انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ یہ انتخابات جولائی سے پہلے ہوں گے اور اس کے لیے الیکشن کمیشن موجود ہے جہاں ان انتخابات کے انعقاد کے لیے کام جاری ہے۔

شاہ فرمان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات خیبر پختونخوا کے طرز پر کرائے جائیں گے جن میں کچھ ترامیم کی جائیں گی۔ قبائلی علاقوں میں کوئی 702 یا 703 نیبر ہوڈ کونسلز کی فہرست تیار کی گئی ہے اور اس میں اب کوئی رکاوٹ یا مشکل درپیش نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ جہاں تحصیل کا ناظم ہوگا تو وہاں سب ڈویژن کی سطح پر ناظم کا انتخاب براہ راست کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ یا گورنر، اختیارات کس کے پاس ہوں گے؟

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے پہلے ان علاقوں کا اختیار صدر پاکستان کی وساطت سے گورنر کے پاس تھے اور پاکستان میں خیبر پختونخوا کے گورنر کو زیادہ بااختیار اور طاقتور سمجھا جاتا تھا۔

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان سے جب اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ آئنی اور قانونی طور وزیر اعلیٰ بااختیار ہیں اور تمام محکمے وزیر اعلیٰ کو رپورٹ کرتے ہیں لیکن ایک عبوری وقت کے لیے انھیں کچھ ذمہ داریاں دی گئی ہیں جیسے انتخابات کا انعقاد، امن و امان کی صورتحال اور دیگر معاملات میں وزیر اعلیٰ سے تعاون کرنا میری ذمہ داری میں شامل کیا گیا ہے۔

قبائلی علاقے میں کارروائی، پولیس اور خاصہ داروں میں جھڑپ

فاٹا کا نظام آخر کیسے چلے گا؟

یہاں ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے قبائلی علاقوں کے حوالے سے تین محکموں کی ذمہ داری گورنر کو دی ہے اور اس بارے میں نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جن میں قبائلی علاقوں کا انتظام (ایڈمنسٹریشن) اور بلدیات کے محکمے شامل ہیں۔

اس بارے میں انھوں نے کہا کہ عبوری وقت کے لیے کچھ ذمہ داریاں انھیں دی گئی ہیں جیسے قبائلی عوام سے مذاکرات کرنا اور ان عناصر کو راضی کرنا جو اس انضمام کے خلاف ہیں اور یہ مشکل کام ہے اور وزیر اعلیٰ پر پہلے ہی کافی ذمہ داریاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں عبوری وقت کے لیے یہ اضافی ذمہ داری دی گئی ہے یہ کوئی ایسا نہیں ہے کہ آئینی طور پر گورنر کو کوئی مستقل ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

مزاحمت

ان سے جب پوچھا گیا کہ قبائلی علاقوں میں کچھ لوگ اس انضمام کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پولیس یا صوبائی کابینہ کو اپنے علاقوں میں نہیں آنے دیں گے تو گورنر شاہ فرمان نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے قبائلی علاقوں میں فورس موجود ہے لیویز اور خاصہ دار ہیں اور ان کو تربیت دی جائے گی جو امن و امان کا خیال رکھیں گے۔

’ان علاقوں میں یا ایف سی آر ہوگا یا پاکستان کے باقی علاقوں میں رائج قانون ہے اور اس کی پاسداری سب کو کرنا ہوگی۔‘

گونر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جرگہ کا نظام پہلے سے موجود ہے اور لوگ اس نظام سے خوش ہیں اس لیے جرگہ کا نظام برقرار رہے گا بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ اس میں مزید بہتری لائی جائے گی اور اس سے حالات بہتر ہوں گے۔

این ایف سی میں قبائلی علاقوں کا حصہ

گونر خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر تین فیصد حصہ قبائلی علاقوں کے لیے مختص کریں گے جس کی کل رقم کوئی ایک سو بلین اضافی قبائلی علاقوں میں ہر سال خرچ ہو گی اور یہ دس سال کے لیے ہے یعنی دس سالوں میں کوئی ایک ہزار بلین روپے قبائلی علاقوں میں خرچ کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا یہ تین فیصد تمام صوبوں کے حصے سے دیے جائیں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ یہ تین فیصد مرکزی حکومت، خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب کے حصے سے دیے جائیں گے تو انھوں نے کہا کہ باقی صوبے بھی اس میں شامل ہو جائیں گے یہ اتنی رقم ہے کہ پہلے یہ تو خرچ ہو جائے۔ اس میں وہاں چیک ڈیمز، سڑکیں اور دیگر ترقیاتی منصوبے شروع کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ کے اندر 15 ہزار نئی اسامیوں پر تعیناتیاں کی جائیں گے جن میں پولیس لیویز اور دیگر سول اداروں کی اسامیاں شامل ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پانچ لاکھ گھروں میں صحت انصاف کارڈ دیے جائیں گے اور سوشل سکیورٹی کے حوالے سے کام کیا جائے گا۔

اسی بارے میں